| عنوان: | زہر میں گھلتی حیات (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی ڈاکٹر محمد سبطین رضا مرتضوی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
درخت لگانا اور ماحولیاتی توازن - صدقہ جاریہ:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت لگانے کی عظیم فضیلت بیان فرمائی اور اسے محض نیک عمل نہیں بلکہ صدقہ جاریہ قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کوئی درخت لگائے یا کھیتی بوئے، پھر اس میں سے پرندہ، انسان یا چوپایہ کھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔
لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً [بخاری، کتاب المزارعة، رقم الحديث: 2320]
یہ حدیث ہمیں نہ صرف عمل پر اجر کی بشارت دیتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ نباتاتی زندگی کا فروغ کس قدر وسیع فیض کا ذریعہ ہے۔ درخت محض پھل اور سایہ نہیں دیتے بلکہ ان سے پرندے، انسان اور جانور سب مستفید ہوتے ہیں، اور یہ سلسلہ اس مسلمان کے لیے اجر کا باعث بنتا رہتا ہے جس نے اسے لگایا۔ اس فضیلت کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی مشکل حالات میں بھی درخت لگانے کی ترغیب دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا پودا ہو تو اگر وہ اسے لگانے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے لگا دے۔
إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا تَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَغْرِسْهَا [رقم الحديث: 479]
اور ایک دوسری روایت میں اس کی مزید وضاحت ملتی ہے: اگر تم سن لو کہ دجال نکل چکا ہے اور قیامت کے دوسرے سب آثار و علامات نمایاں ہو چکے ہوں اور تم کوئی نرم و نازک پودا زمین میں بٹھانا اور لگانا چاہتے ہو تو لگا دو اور اس کی دیکھ بھال اور نشو و نما کے انتظامات میں سستی نہ کرو، کیوں کہ وہ بہرحال زندگی کے گزران کے لیے ایک ضروری کوشش ہے۔ [مرجع سابق، رقم الحديث: 480]
یہ احادیث ہمیں ماحولیاتی توازن اور نباتاتی زندگی کی بقا کی جانب ایک واضح اشارہ دیتی ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ ہر حال میں، یہاں تک کہ انتہائی ناموافق حالات میں بھی ماحولیاتی بہتری کی کوشش ترک نہیں کرنی چاہیے۔ درخت فضا کو صاف رکھتے ہیں، آکسیجن فراہم کرتے ہیں جو تمام جانداروں کے لیے لازم ہے، مٹی کے کٹاؤ کو روکتے ہیں جس سے زمین کی زرخیزی برقرار رہتی ہے اور بارش کا سبب بنتے ہیں جو پانی کے قدرتی چکر کے لیے ضروری ہے۔ یہ تمام فوائد اس بات کا ثبوت ہیں کہ درخت لگانا ایک بنیادی ماحولیاتی ذمہ داری ہے اور یہ نہ صرف ہماری موجودہ نسلوں کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک پائیدار اور بہتر ماحول کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
پانی کا درست استعمال اور تحفظ - زندگی کی اساس:
اسلام میں پانی کو زندگی کی اساس قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ [الانبیاء: 30]
اس آیت سے پانی کی بنیادی اہمیت واضح ہوتی ہے جو نہ صرف انسانی حیات بلکہ تمام مخلوقات کے لیے لازم ہے، اسی اہمیت کے پیش نظر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے ضیاع اور آلودگی سے سختی سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے درست استعمال کی ترغیب خود اپنے عمل سے دی، آپ نے وضو جیسے ایک اہم عبادتی عمل میں بھی پانی کم استعمال کرنے کی ہدایت فرمائی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع پانی سے غسل کیا کرتے تھے۔ [ابن ماجہ، کتاب الطہارة، رقم الحديث: 269]
یہ حدیث ہمیں ہر حال میں پانی کی بچت کا درس دیتی ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ پانی ایک قیمتی امانت ہے جسے ہر صورت میں بچانا چاہیے۔ مزید برآں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے قدرتی ذخائر کو آلودہ کرنے سے بھی سختی سے منع فرمایا: تم میں سے کوئی بھی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے پھر اس میں غسل کرے۔
لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ [رقم الحديث: 657]
اس حدیث کا واضح مطلب یہ ہے کہ پانی کے قدرتی ذخائر کو گندا کرنا ممنوع ہے تاکہ وہ تمام مخلوقات کے لیے قابل استعمال رہیں۔ آج کے صنعتی اور شہری دور میں فضلہ پانی میں بہانا اس حکم کی شدید خلاف ورزی ہے اور اس سے نہ صرف انسانی صحت بلکہ ماحولیاتی نظام بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ اسلام کی یہ تعلیمات ہمیں پانی کے تحفظ اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کی پائیدار بنیاد فراہم کرتی ہیں تاکہ ہم اس نعمت کو آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ رکھ سکیں۔
فضول خرچی سے اجتناب اور وسائل کا حسن انتظام:
اسلام میں اسراف (فضول خرچی) اور تبذیر (مال کو ضائع کرنا) سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: کھاؤ اور پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [الاعراف: 31]
یہ آیت واضح طور پر اس بات پر زور دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھایا جائے، لیکن حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ یہ حکم محض کھانے پینے تک محدود نہیں بلکہ ہر قسم کے وسائل خواہ وہ پانی ہو، بجلی ہو، مال ہو یا کوئی بھی قدرتی نعمت کے استعمال میں اعتدال اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ اسلام کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ انسان ان وسائل کا مالک نہیں بلکہ ان کا امین ہے اور اسے ان کا حساب دینا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسراف سے بچنے کی بارہا تاکید فرمائی۔ اس کی ایک واضح مثال وہ واقعہ ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسا اسراف ہے؟ حضرت سعد نے پوچھا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگرچہ تم بہتی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو۔ [ابن ماجہ، کتاب الطهارة، رقم الحديث: 425]
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں وسائل کے استعمال میں کفایت شعاری اتنی اہمیت رکھتی ہے حتی کہ عبادت جیسے نیک عمل میں بھی اسراف سے منع کیا گیا ہے، چاہے وسائل کی بظاہر فراوانی ہی کیوں نہ ہو۔ اسراف بالآخر وسائل کی کمی اور معاشرتی محتاجی کا سبب بنتا ہے۔ نیز ایک حدیث پاک کا جز ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میانہ روی اختیار کرے، اللہ اسے غنی کر دیتا ہے، اور جو فضول خرچی کرے، اللہ اسے محتاج کر دیتا ہے۔ [جہنم میں لے جانے والے اعمال، ج: 1، ص: 259]
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اسراف نہ صرف انفرادی طور پر انسان کو مالی مشکلات میں ڈالتا ہے بلکہ یہ اللہ کی رضا کے بھی خلاف ہے۔
آج کے دور میں، اسراف اور تبذیر کی ایک واضح مثال پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال ہے۔ پلاسٹک کی چیزوں کو ایک بار استعمال کرنے کے بعد بے دردی سے پھینک دینا اور پھر ان کا ہزاروں سال تک ماحول میں موجود رہنا، یہ سب وسائل کا اسراف اور فضلہ کا تبذیر ہے۔ یہ عمل نہ صرف ہمارے قدرتی ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ قیمتی وسائل کو بھی ضائع کرتا ہے۔ اسی طرح بجلی کا بے جا استعمال، ضرورت سے زیادہ سامان خریدنا، اور خوراک کا ضیاع بھی اسراف کی ہی مختلف شکلیں ہیں۔ اسلامی تعلیمات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ ہمیں ہر چیز کا ذمہ دارانہ استعمال کرنا چاہیے۔ جو چیز قابل استعمال ہے اسے استعمال کریں، جو قابل مرمت ہے اسے ٹھیک کریں، اور جو قابل ری سائیکل ہے اسے ری سائیکل کریں۔
دوسروں کو تکلیف نہ دینا حسن اخلاق کا تقاضا:
اسلام حسن اخلاق، حقوق العباد اور معاشرتی امن و سکون پر بھی گہرا زور دیتا ہے۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مسلمانوں کو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہیے اور کسی بھی طریقے سے انھیں تکلیف نہیں دینی چاہیے۔ یہ اصول ماحولیاتی سیاق و سباق میں بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر شور اور روشنی کی آلودگی جیسے جدید مسائل کے حوالے سے۔ شور کی آلودگی اگرچہ براہ راست کسی حدیث میں مذکور نہیں، تاہم اسلام کے عمومی اخلاقی اصول اسے ممنوع قرار دیتے ہیں۔ بے جا اور غیر ضروری شور دوسروں کے لیے جسمانی اور ذہنی تکلیف کا باعث بنتا ہے، جو کہ انسانی صحت اور سکون کے منافی ہے۔ اسلام نے ایسی ہر چیز سے منع کیا ہے جو لوگوں کی راحت میں خلل ڈالے یا انھیں پریشان کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لغو اور بے ہودہ باتوں سے اجتناب کا حکم دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خطبہ میں اختصار کرو اور بے ہودہ باتوں کو چھوڑ دو۔ [مسلم، کتاب الجمعة، رقم الحديث: 2009]
[الادب المفرد، باب اصطناع المال، رقم الحديث: 479]
