| عنوان: | حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ: حیات و خدمات |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
اللہ ربّ العزّت نے لوگوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے انبیاء و رسل کو مبعوث فرمایا. انبیاء علیہم السلام نے اپنے فریضہ کو بحسن و خوبی انجام دیا. انبیاء کرام علیہم السلام یکے بعد دیگرے جلوہ گر ہوتے رہے اور اپنے ذمہ داری سے بری الذمہ ہوۓ. اخیر میں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لاۓ اور لوگوں کی اصلاح فرمائی اور ایمان و عقائد کی دولت سے سرفراز فرمایا. نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے اس فریضہ کو انجام دیا. اس کے بعد اللہ تبارک و تعالی نے اصلاح و ہدایت کو عام کرنے کے لیے اپنے محبوب بندوں اقطاب و ابدال, مخدوم و مجذوب, علماء و فقہاء, مفسرین و محدثین, محققین و مفکرین کو رونما فرمایا. انہی محبوب بندوں میں قدوۃ الکبری, محبوب یزدانی, محافظ دنیا, غوث العالم حضرت مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر کچھوچوی رحمة اللہ علیہ ہیں.
ولادت
آپ کی ولادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے والد سلطان ابراہیم سمنانی ایران کے فرمانروا تھے۔ آپ ایک صوفی, زاہد اور متقی بادشاہ تھے. بیٹے کی آرزو تھی کہ ایک شب عالم خواب میں حضور اکرمﷺ نے دو فرزندوں کی بشارت دی اور حکم فرمایا کہ ایک کا نام محمد اشرف دوسرے کا اعرف رکھنا. پھر ایک صبح سن 708ھ میں خورشید معرفت طلوع ہوا, جو بعد کو اشرف الملت و الدین مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کے نام سے مشہور ہوا.
بیعت و خلافت
آپ نے 735ھ/1335ء میں سمنان سے پنڈوہ شریف، بنگال کا سفر کیا اور حضرت شیخ علاء الحق والدین چشتی گنج نبات کے ہاتھ پر بیعت و خلافت حاصل کی۔ آپ نے مختلف سلاسل کی خلافتیں حاصل کیں، جن میں سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ سراجیہ، سلسلہ عالیہ قادریہ جیلانیہ، سلسلہ عالیہ قادریہ جیلانیہ بخاریہ، سلسلہ عالیہ قادریہ سہروردیہ جلالیہ، سلسلہ عالیہ حسنیہ حسینیہ، سلسلہ کبرویہ، سلسلہ زاہدیہ، سلسلہ شطاریہ، سلسلہ نقشبندیہ، سلسلہ مداریہ، سلسلہ تابعیہ خضریہ، اور سلسلہ تابعیہ رضائیہ شامل ہیں۔ پنڈوہ شریف میں 801ھ-803ھ/1399-1401ء میں آپ نے آخری بار حاضری دی اور پیر و مرشد کے وصال کے بعد پیر زادہ حضرت نور قطب عالم پنڈوی کو جانشین مقرر کیا۔ آپ کے جانشین حضرت مخدوم آفاق عبدالرزاق نورالعین جیلانی اشرفی کچھوچھوی تھے۔
تعلیم و تربیت اور ترکِ سلطنت
جب آپ کی عمر شریف چار سال چار ماہ چار دن کی ہوئی تو حضرت العلام حضرت عماد الدین تبریزی نے رسم ''بسم اللہ '' کے فرائض انجام دئے اور ایک ہی سال میں حافظ قرآن مع قرأت سبعہ ہوۓ. چودہ سال کی عمر میں جملہ علوم و فنون میں مہارت حاصل کی اور پورے عراق میں مشہور ہو گئے۔ آپ سادات نور بخشیہ میں سے ہیں اور آپ کا نسب مبارک حضرت امام حسین کے ذریعے حضرت علی رضی اللہ عنہما سے جاملتا ہے۔ اپنے والد ماجد کے وصال کے بعد تیرہ سال کی عمر میں سلطنت سمنان پر متمکن ہوۓ اور اپنے دور خلافت میں عدل و انصاف کا دریا بہا دیا۔ بچپن سے ہی آپ کو علماء و مشائخ کی صحبت پسند تھی۔
دوران سلطنت حضرت ابو العباس خضر علیہ السلام کی زیارت ہوئی اور 27 رمضان المبارک کی شب میں حضرت خضر علیہ السلام نے ترک سلطنت کا اللہ کی جانب سے حکم فرمایا. 23 سال کی عمر میں والدہ ماجدہ سے اجازت لے کر تاج و تخت اپنے چھوٹے بھائی محمد اعرف کے سپرد کیا اور سمنان سے روانہ ہوۓ۔
آمدِ ہندوستان
دشوار گزار راستوں اور سنگلاخ چٹانوں کو عبور کرتے ہوۓ تلاش حق میں تنہا اوچھ پہونچے، وہاں سے دہلی، پھر بہار اور پنڈوہ شریف میں حضرت شیخ علاء الحق پنڈوی کے دست حق پر بیعت ہوۓ۔ پنڈوہ سے جونپور ہوتے ہوۓ کچھوچھہ شریف تشریف لاۓ جہاں ملک محمود نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔ آپ نے کچھوچھہ شریف ہی میں قیام پذیر ہو کر دینی خدمات انجام دیں۔
وصال پاک
نصف ماہ محرم سے آپ کی طبیعت علیل رہنے لگی، اور 28 محرم الحرام سن 808 ھ میں دنیاۓ فانی سے داعئ اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا مزار مبارک کچھوچھہ شریف ضلع امبیڈکر نگر، (یوپی) انڈیا میں مرجعِ خلائق ہے۔
ولی اللّٰه میں شان جلال اللّٰه ہوتی ہے
مگر بدمذہبوں کی عقل کب آگاہ ہوتی ہے
عارف اہلِ سنت کی محبت ہی نجات کا راستہ ہے
اسی میں خیر ہوتی ہے، اسی میں کامیابی ہوتی ہے
دعا
اللہ پاک ہمیں آپ کے در سے اور آپ سے فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ اور آپ کے بتاۓ ہوۓ راستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین ثم آمین یا ربّ العٰلمین۔
