Loading...

بہادر شاہ ظفر کی تقدیستی شاعری

بہادر شاہ ظفر کی تقدیستی شاعری
عنوان: بہادر شاہ ظفر کی تقدیستی شاعری
تحریر: محمد طفیل احمد مصباحی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

الفاظ کے ذریعہ جذبات و احساسات اور افکار و خیالات کے دل نشیں اور مؤثر ترین اظہار کو ادب کہتے ہیں۔ تقدیستی شاعری دراصل مذہبی شاعری کا ایک روپ ہے، جس میں حمد، نعت اور منقبت جیسی پاکیزہ اور مقدس صنفِ سخن پر طبع آزمائی کی جاتی ہے اور شاعر اپنے مذہبی اقدار و روایات کا برملا اظہار کرتا ہے۔ اردو کے نام ور اور قابلِ ذکر شعرا میں ابوزفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر کا نام کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ آپ شاعر سے زیادہ حکمران کے طور پر مشہور ہیں، لیکن آپ کی شاعرانہ عظمت تاریخی مسلمات سے ہے۔ شعر و سخن میں کمال آپ کو وراثت میں ملا تھا، آپ ذوق و غالب جیسے اساتذہ سخن کے شاگرد ہیں۔

بہادر شاہ ظفر کے ذاتی اوصاف و کمالات

بہادر شاہ ظفر ایک سنی صحیح العقیدہ اور صوفیانہ خیالات کے حامل انسان تھے۔ حسنِ اخلاق، خوبیِ کردار، اتباعِ شریعت، غیرت و حمیت، عفو و درگزر، حیاء، مروت اور دیگر محاسن و کمالات میں اپنی مثال آپ تھے۔ جنگی جہاز کے ذریعہ وقت کے اس مظلوم بادشاہ کو دہلی سے رنگون بھیج دیا گیا، جہاں نومبر ۱۸۶۲ء کو رنگون کے قید خانے میں مغل سلطنت کا یہ آخری چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔

بہادر شاہ ظفر کی حمد نگاری

بہادر شاہ ظفر کی کتابِ زندگی کا سب سے حسین ترین عنوان ان کی توحید پرستی ہے۔ ان کے حمدیہ کلام کے ہر شعر سے توحید و الوہیت کے نغمے صاف سنائی دیتے ہیں۔ توحید و خدا پرستی کے جذبات سے معمور یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
مقدور کس کو حمد خدائے جلیل کا
اس جا پہ ہے زبان دہن قال و قیل کا
پانی میں اس نے رہبری کی کلیم کی
آتش میں وہ ہوا چمن آرا خلیل کا
اس کی مدد سے فوجِ ابابیل نے کیا
لشکر تباہ کعبہ پہ اصحابِ فیل کا
کیا پائے کنہ ذات کو اس کی کوئی ظفر
واں عقل کا نہ دخل نہ ہرگز دلیل کا

بہادر شاہ ظفر کی نعتیہ شاعری

تقدیستی شاعری میں حمدِ الہی کے بعد نعت گوئی کا درجہ ہے۔ بہادر شاہ ظفر ایک عاشقِ رسول ﷺ تھے۔ ان کی رگ رگ میں محبتِ شاہِ بطحا سمائی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ کی شان میں کہے گئے اشعار ملاحظہ ہوں:
اے سرورِ دو کون، شہنشاہِ ذوالکرم
سرخیلِ مرسلیں و شفاعت گرِ اُمم
رنگِ ظہور سے ترے، گلشن رُخِ حدوث
نورِ وجود سے ترے روشن دلِ قدم
اے معدنِ کرم تری ہمت کے واسطے
کم تر ہے سنگِ ریزہ سے قدرِ نگینِ جم

بہادر شاہ ظفر کی منقبت نگاری

بہادر شاہ ظفر نے اپنے فکر و فن کے خاکوں میں تقدس کا رنگ حمد و نعت کے علاوہ منقبت سے بھی بھرا ہے۔ صحابہ کرام، خلفائے راشدین، اولیائے عظام اور بزرگانِ دین سے آپ کو بڑی عقیدت تھی۔ حضرت مولا علی شیر خدا ﷺ کی شان میں آپ نے لکھا:
میری کشتی کا ناخدا ہے علی
میرا ہادی ہے رہ نما ہے علی
میرا حامی ہے، پیشوا ہے علی
میرے ہر درد کی دوا ہے علی

خلاصہ یہ کہ بہادر شاہ ظفر دنیاوی بادشاہ کے ساتھ شعر و سخن کے بھی بادشاہ تھے۔ آپ کے کلام میں ادبی جمال، فنی کمال، لسانی بانکپن، رعنائی افکار، رفعتِ معانی اور شکوہِ الفاظ کا باہمی امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔
*(ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور، جنوری 2026، صفحہ 41 تا 45)*

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!