Loading...

دینی وقار کی نیلامی: مفاد پرست مولوی

دینی وقار کی نیلامی: مفاد پرست مولوی
عنوان: دینی وقار کی نیلامی: مفاد پرست مولوی
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

یہ ہمارے عہد کی سب سے بڑی فکری و عملی المیہ گاہوں میں سے ایک ہے کہ جہاں کبھی دین معیار تھا اور دنیا اس کے تابع، وہاں آج دنیا معیار بن چکی ہے اور دین اس کے تابع نظر آتا ہے۔ خصوصاً جب ہم دینی طبقے اور سیاسی طبقے کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک ایسا منظرنامہ ابھرتا ہے جو نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ ایمان کی حرارت رکھنے والے ہر شخص کے لیے باعثِ اضطراب بھی ہے۔ وہ علما جنہیں امت کا ضمیر، شریعت کا ترجمان اور غیرتِ ایمانی کا علمبردار ہونا چاہیے تھا، اگر وہی مصلحتوں، مفادات اور وقتی فوائد کے جال میں الجھ جائیں تو پھر معاشرے کی رہنمائی کون کرے گا؟ اور اگر رہنما ہی راستہ بھول جائے تو قافلہ کس سمت جائے گا؟

سیاسی مصلحتیں اور دینی شناخت کا بحران

یہ کوئی خیالی یا مبالغہ آمیز تصویر نہیں، بلکہ ہمارے اپنے معاشرے کی ایک زندہ حقیقت ہے، جسے نظر انداز کرنا خود فریبی کے مترادف ہوگا۔ ایک طرف وہ سیاسی چہرے ہیں جو نام کے مسلمان ہیں مگر ان کی عملی زندگی میں اسلامی شعور اور دینی غیرت کا فقدان صاف دکھائی دیتا ہے۔ ایسے ہی ہمارے علاقے کی ایک معروف سیاسی شخصیت یاسر شاہ کا طرزِ عمل ہمارے سامنے ہے، جو ایک مسلم شناخت رکھنے کے باوجود غیر مسلموں کے مذہبی تہوار ہولی میں اس انداز سے شریک ہوتا ہے کہ اس کی اپنی دینی پہچان پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ رنگوں میں ڈوبا ہوا، بے تکلف اختلاط میں مشغول، اور ایک ایسی فضا کا حصہ جس میں اسلامی امتیاز مٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے، یہ سب مناظر محض ایک شخص کے ذاتی عمل نہیں رہتے بلکہ ایک اجتماعی ذہنیت کی عکاسی بن جاتے ہیں۔

چندہ کلچر اور علما کی خاموشی

یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ ایک سیاست دان کیا کر رہا ہے، کیونکہ سیاست کا میدان اصول سے زیادہ مفاد کا میدان رہا ہے اور رہے گا۔ اصل سوال، بلکہ اصل المیہ، ان علما کا کردار ہے جو ایسے افراد کے ساتھ نہ صرف روابط رکھتے ہیں بلکہ ان کی محفلوں میں شرکت، مصافحہ، معانقہ، اور بعض اوقات خوشامدانہ تعلقات کو بھی معمول سمجھ بیٹھے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ محض ایک اتفاق ہے؟ یا اس کے پیچھے وہ تلخ حقیقت کارفرما ہے جسے "چندہ کلچر" کہا جاتا ہے—جہاں دین کی خدمت کے نام پر دراصل مفاد کا کھیل کھیلا جا رہا ہوتا ہے؟

قرآن و حدیث کی رہنمائی

قرآن مجید نے اہلِ ایمان کو جو اصول عطا کیے ہیں، وہ محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَا تَرْكَنُوا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾ (سورہ ہود: 113)
ترجمہ: یعنی ظالموں اور غلط روش اختیار کرنے والوں کی طرف ادنیٰ سا میلان بھی مت کرو ورنہ تمہیں بھی آگ چھو لے گی۔

"رکون" کا مفہوم صرف دل کا جھکاؤ نہیں بلکہ عملی تعلق، قربت اور ایسی ہم آہنگی بھی ہے جو باطل کو تقویت دے۔ جب ایک عالمِ دین کسی ایسے شخص کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے جس کے اعمال کھلے عام دینی حساسیت کے خلاف ہوں، تو وہ محض ایک فرد سے نہیں جڑتا بلکہ ایک پیغام دیتا ہے—اور یہ پیغام عوام تک بہت گہرے اثر کے ساتھ پہنچتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی ایسے علماء کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی جو اپنے علم کو دنیاوی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں:
"مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُصِيْبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ" (سنن ابی داؤد)
ترجمہ: جس نے وہ علم جس سے اللہ کی رضا طلب کی جاتی ہے، صرف دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لیے سیکھا، تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔

یہ حدیث اپنے اندر ایک لرزا دینے والی حقیقت رکھتی ہے—کہ علمِ دین اگر نیت کی خرابی کا شکار ہو جائے تو وہ نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ ہلاکت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

منصب کی نیلامی اور تضاد عمل

آج جب ایک عالم چند ہزار یا چند لاکھ کے چندے کے لیے ایسے افراد کے دروازے پر جاتا ہے جن کے اعمال خود اس کے اپنے بیان کردہ اصولوں سے متصادم ہیں، تو وہ دراصل صرف ایک مالی لین دین نہیں کر رہا ہوتا بلکہ وہ اپنے منصب کی قیمت لگا رہا ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں زبان سے ادا کیے گئے وعظ اور عمل سے دیا گیا پیغام ایک دوسرے کی نفی کرنے لگتے ہیں، اور یہی تضاد دین کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔

رواداری اور دینی امتیاز میں فرق

یہاں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک، عدل اور معاشرتی تعلقات کی اجازت دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک واضح دینی تشخص اور امتیاز کو برقرار رکھنا بھی لازم قرار دیا ہے۔ جب یہ امتیاز مٹنے لگے، جب ایک مسلمان اپنی شناخت کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کے مذہبی مظاہر میں اس طرح شامل ہو کہ فرق باقی نہ رہے، تو یہ محض سماجی ہم آہنگی نہیں بلکہ فکری کمزوری کی علامت بن جاتا ہے۔ اور جب یہی رویہ ایک عام فرد کے بجائے ایک بااثر سیاست دان اختیار کرے، اور پھر اس پر علما کی خاموشی یا قربت بھی شامل ہو جائے، تو یہ ایک خطرناک پیغام دیتا ہے: کہ شاید اب اصول ثانوی ہو چکے ہیں اور مفاد اصل معیار بن چکا ہے۔

اکابرین کا اسوہ اور ہماری ذمہ داری

اکابرینِ امت کی تاریخ اس کے برعکس مثالوں سے بھری پڑی ہے، جہاں انہوں نے حکمرانوں کی قربت کو ٹھکرا دیا مگر اپنے وقار پر حرف نہ آنے دیا۔ ان کے نزدیک فقر قبول تھا مگر ذلت نہیں، تنہائی منظور تھی مگر اصولوں کی قربانی نہیں۔ آج کے دور میں جب ہم اس معیار کو دیکھتے ہیں اور اپنے گرد و پیش کا منظرنامہ اس کے بالمقابل رکھتے ہیں تو فرق چیخ چیخ کر اپنا نوحہ سناتا ہے۔

  • علما کے لیے لمحۂ فکریہ: یہ وقت ہے کہ اس روش پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ علما کو چاہیے کہ وہ اپنے مقام کی نزاکت کو سمجھیں اور ہر اس تعلق سے خود کو دور رکھیں جو ان کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہو۔ انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ صرف اپنے ذاتی کردار کے ذمہ دار نہیں بلکہ پوری امت کے اعتماد کے امین بھی ہیں۔ اگر یہ امانت کمزور پڑ گئی تو اس کا نقصان نسلوں تک پہنچے گا۔
  • عوام کی ذمہ داری: اسی طرح عوام کو بھی چاہیے کہ وہ آنکھیں بند کر کے ہر اس شخص کی پیروی نہ کریں جو مذہبی لباس میں نظر آئے، بلکہ اس کے کردار، اس کے تعلقات، اور اس کے اصولوں کو پرکھیں۔ کیونکہ دین صرف الفاظ کا نام نہیں، بلکہ عمل، استقامت اور غیرتِ ایمانی کا مجموعہ ہے۔

آخرکار یہ بات طے شدہ ہے کہ دین کی حفاظت محض نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔ اگر کردار مفاد کی نذر ہو جائے تو نعرے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس مفاد پرستی کے فتنے کو پہچانا جائے، اس پر علمی و اخلاقی گرفت کی جائے، اور اپنے آپ کو بھی ایسے رویّوں سے محفوظ رکھا جائے—ورنہ وہ وقت دور نہیں جب دین صرف کتابوں میں رہ جائے گا اور عملی زندگی سے اس کا اثر مٹتا چلا جائے گا۔ اللہ ہمیں حق کہنے، اسے سمجھنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!