Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

یہودیت اور شیعیت (قسط: دوم)|مفتی محمد آصف اقبال مدنی

یہودیت اور شیعیت (قسط: دوم)
عنوان: یہودیت اور شیعیت (قسط: دوم)
تحریر: مفتی محمد آصف اقبال مدنی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

چنانچہ، وہ یمن سے مدینہ آیا اور مدینہ آکر اپنا مسلمان ہونا ظاہر کیا۔ اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ امیر المومنین تھے۔ آپ کی نرم دلی اور خوش خلقی سے اس نے یہ ناجائز فائدہ اٹھایا کہ مختلف حیلوں بہانوں سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا اعتماد حاصل کر لیا۔ اور اس اعتماد سے اب وہ اپنی مخفی دشمنی کے لیے راستہ ہموار کرنے کے درپے رہنے لگا، اور اپنے ہم خیال لوگوں کی تلاش میں مصروف رہا۔ "جویندہ یابندہ" کے مطابق اسے ایسے ہمنوا مل گئے جو بظاہر مسلمان تھے لیکن دل سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دشمن تھے۔ ان سے میل جول، صلاح اور مشورہ شروع ہوا اور خفیہ خفیہ ایک منظم گروہ تیار کر لیا۔ اسی منظم گروہ کے ذریعہ اس نے اولین کامیابی یہ حاصل کی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ [تحفہ جعفریہ، ص: 12]

قارئین! آپ نے دیکھا کہ یہودیوں نے اپنے مقصد کے تحت مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دی۔ ان کا سب سے بڑا مقصد یہی ہے کہ مسلمانوں میں انتشار و افتراق کو روز بروز ترقی دی جائے۔ عبداللہ بن سبا یہودی نے جو گروہ تیار کیا تھا آگے چل کر وہ "شیعہ مذہب" کے نام سے مشہور ہوا۔ گویا اس فرقے نے یہودیت کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ اس بات کی صراحت و وضاحت اہل سنت کی کتب جیسے "الکامل فی التاریخ" جلد سوم، صفحہ 153 اور "البدایہ والنہایہ" جلد ہفتم، صفحہ 167 کے ساتھ ساتھ شیعہ مذہب کی کتب میں بھی موجود ہے۔ "روضۃ الصفاء"، جلد دوم، صفحہ 207، "کتاب فرق الشیعہ" لابی محمد بن موسیٰ النوبختی، صفحہ 22، مطبوعہ حیدریہ نجف اشرف، اور "ناسخ التواریخ"، جلد سوم، صفحہ 23، مطبوعہ تہران، مصنفہ مرزا محمد تقی وغیرہ تمام کتبِ شیعہ میں تصریح ہے کہ فرقہ اہل تشیع کے بنیادی عقائد گھڑنے والا پہلا شخص عبداللہ بن سبا (یہودی عالم) ہی ہے۔

"روضۃ الصفاء" سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے: جب بہت سے لوگوں نے عبداللہ بن سبا کے خیالات و عقائد کو قبول کر لیا تو اس نے فوراً ایک نیا عقیدہ ان کے سامنے پیش کر دیا۔ وہ یہ کہ "عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے اتر کر دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں۔ لہذا آپ کو دوبارہ تشریف لانے کا زیادہ حق ہے۔" جب عبداللہ بن سبا کی اس کوشش اور عقیدے کو مصریوں نے قبول کر لیا تو اس نے کہا کہ دیکھو ہر پیغمبر کا ایک نہ ایک خلیفہ اور وصی ہوتا رہا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور وصی حضرت علی ہیں جو زہد و تقویٰ اور علم و فتویٰ سے مزین ہیں اور کرم و سخاوت، شجاعت و امانت اور تقویٰ و دیانت سے آراستہ ہیں۔ لیکن امت (لوگوں) نے آپ کی واضح ہدایت کے خلاف چل کر حضرت علی کو خلافت نہ دے کر ظلم کیا ہے۔ اب تمام لوگوں پر یہ لازم و واجب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے اجراء میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معاونت و نصرت کریں اور حضرت علی کے اقوال و افعال کی تعمیل سب لوگوں پر واجب ہے۔ [روضۃ الصفاء، ج: 2، ص: 207، بحوالہ تحفہ جعفریہ، ص: 17]

خلاصہ یہ نکلا کہ شیعہ فرقہ یہودیت ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ تو جس طرح یہودیت نے ہر دور میں اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا، اس طرح اہل تشیع نے بھی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر گرگٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے مسلمانوں کے عقائد میں رخنہ اندازی کی، اور انہیں ہر سطح پر کمزور کرنے کی بھرپور سازشیں کیں اور سازشوں کا یہ عمل ہنوز جاری ہے۔ قرآنِ پاک میں تحریف ہو یا حدیثِ شریف میں، درست عقائد کو بگاڑنا ہو یا نئے عقیدے گھڑنا، حضرت خلفائے راشدین کی شان میں گستاخی ہو یا امہات المومنین کی شان گھٹانا، ائمہ مجتہدین پر بہتان طرازی ہو یا محدثین کے مقام کو داغدار کرنا، بے بنیاد و بے سروپا واقعات کی تشہیر ہو یا اصل واقعات کو موڑ توڑ کر پیش کرنا؛ الغرض ہر سطح، ہر موقع، ہر مقام اور ہر لحاظ سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانا گویا ان کی گھٹی میں پڑا ہے۔

مگر مقامِ شکر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں ایسے مردانِ حق کو ظاہر فرمایا جنہوں نے اپنی تقریر اور تحریر سے ایسے عقائد شکن اور باطل سوز نظریات کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا، مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی حفاظت کی اور اس آیت مقدسہ کا مصداق و تفسیر بن گئے:

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا [سورۃ بنی اسرائیل: 81]

برصغیر میں اس دشمنِ اسلام و مسلمین گروہ اور ان کی خرافات پر بصورتِ تحریر تنبیہ فرمانے والی اولین شخصیت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی نظر آتی ہے جنہوں نے کتاب "تحفہ اثنا عشریہ" تحریر فرمائی۔ آپ کے بعد امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کو اپنی کتب و فتاویٰ کے ذریعے ان کی بدعقیدگیوں، فتنہ پردازیوں اور چیرہ دستیوں سے آگاہ فرمایا۔ اور اس تناظر میں عظیم و مفصل کام شیخ الحدیث علامہ محمد علی نقشبندی علیہ الرحمہ نے کیا اور 13 جلدوں میں "تحفہ جعفریہ" و "فقہ جعفریہ" جیسی زبردست کتب تصنیف فرمائیں اور عمدۃ الاذکیاء علامہ اشرف سیالوی علیہ الرحمہ نے تین جلدوں میں "تحفہ حسینیہ" لکھ کر مسلمانوں پر احسان فرمایا۔ اس کے علاوہ بھی علمائے اہلسنت نے بہت سی چھوٹی بڑی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ وقت نکال کر ان کتب کا مطالعہ ضرور کریں، بالخصوص علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین کو ایک نظر ان کتب پر ضرور ڈالنی چاہیے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!