| عنوان: | احکام الاستیذان (گھروں میں داخل ہونے کے لیے اجازت لینے کے آداب) |
|---|---|
| تحریر: | محمد اکمل احمد اشفاقی مصباحی |
| منجانب: | دار العلوم اشفاقیہ، جویا |
مذہبِ اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ عبادات کا طریقہ سکھایا تو اقتصادیات کے مسائل بھی، اخلاقیات کا درس دیا تو سیاسی امور سے بھی روشناس کیا۔ ہمیں زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اپنی تعلیمات سے نوازا ہے اور زندگی کے آداب سکھائے ہیں۔ ایک دوسرے کے پاس آنے جانے، گھروں اور کمروں میں داخل ہونے کے آداب کا درس بھی ہم کو ہمارے مذہب نے دیا ہے۔
دوسرے کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوں
قرآنِ کریم نے دوسروں کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [سورۃ النور: 27]
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کرلو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو۔
آج جو ماحول بن چکا ہے کہ کسی کے بھی روم میں یا گھر میں یوں ہی چلے گئے نہ اجازت لی نہ سلام کیا، یہ انتہائی غیر مہذب طریقہ ہے۔ اس سے اجتناب لازمی ہے۔
اجازت لینے کا طریقہ
اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں داخل ہونے کے آداب صحابہ کرام کو کتنے اچھے انداز میں تعلیم فرمائے۔ ترمذی و ابو داود نے کلدہ بن حنبل سے روایت کی، کہتے ہیں کہ صفوان بن امیہ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تھا، میں بغیر سلام کیے اور بغیر اجازت اندر چلا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہر جاؤ اور یہ کہو: “اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ، ءَ اَدْخُلُ” (یعنی کیا اندر آجاؤں)۔ [بہارِ شریعت]
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: جب کوئی شخص دوسرے کے مکان پر جائے، تو پہلے اندر آنے کی اجازت حاصل کرے، پھر جب اندر جائے تو پہلے سلام کرے، اس کے بعد بات چیت شروع کرے۔ اور اگر جس کے پاس گیا ہے وہ باہر ہے تو اجازت کی ضرورت نہیں، سلام کرے اس کے بعد کلام شروع کرے۔
اجازت لینے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ بلند آواز سے سُبْحَانَ اللہ یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ یا اللہ اَکْبَرْ کہے، یا کَھنکارے جس سے مکان والوں کو معلوم ہوجائے کہ کوئی آنا چاہتا ہے، یا یہ کہے کہ کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے۔ [صراط الجنان]
کسی کا دروازہ بہت زور سے کھٹکھٹانا اور شدید آواز سے چیخنا خاص کر علماء اور بزرگوں کے دروازوں پر ایسا کرنا اور ان کو زور سے پکارنا مکروہ و خلافِ ادب ہے۔ لہٰذا درمیانے انداز میں دروازہ بجائیں اور آواز دینے کی ضرورت ہو تو درمیانی آواز سے پکاریں۔
اجازت سے پہلے سلام کرے
غیر کے گھر جانے والے کی اگر صاحبِ مکان سے پہلے ہی ملاقات ہوجائے تو پہلے سلام کرے پھر اجازت چاہے اور اگر وہ مکان کے اندر ہو تو سلام کے ساتھ اجازت لے اور اس طرح کہے: السلام علیکم، کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ سلام کو کلام پر مقدم کرو۔ [ترمذی]
دروازے کے سامنے کھڑا نہ ہو
اگر دروازے کے سامنے کھڑے ہونے میں بے پردگی کا اندیشہ ہو تو دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہو کر اجازت طلب کرے۔ ابو داود نے عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے دروازہ پر تشریف لے جاتے تو دروازہ کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے تھے بلکہ دائیں یا بائیں ہٹ کر کھڑے ہوتے اور یہ فرماتے: “اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ، اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ”۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانہ میں دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔ [بہارِ شریعت]
گھر میں کوئی نہ ہو تب بھی اجازت ضروری ہے
فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ [سورۃ النور: 28]
پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ جب بھی بے مالکوں کی اجازت کے ان میں نہ جاؤ۔
یعنی اگر مکان میں اجازت دینے والا موجود نہ ہو تو بھی ان میں داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دیدی جائے کیونکہ غیر کی مِلک میں تصرف کرنے کے لیے اس کی رضا مندی ضروری ہے۔
تین بار اجازت لیں
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص تین بار اجازت مانگے اور جواب نہ ملے تو واپس جائے۔ [بہارِ شریعت]
یونہی جس کے گھر پر بیل لگی ہو تو ایسا نہ کریں کہ بٹن پر ہاتھ رکھ کر ہی کھڑے ہو جائیں اور جب تک دروازہ کھل نہ جائے اس سے ہاتھ نہ ہٹائیں بلکہ ایک بار بٹن دبا کر کچھ دیر انتظار کریں، اگر دروازہ نہ کھلے تو دوبارہ بجا لیں، کچھ دیر انتظار کے بعد پھر بجا لیں، اگر تیسری بار بجانے کے بعد بھی جواب نہ ملے تو کسی شدید مجبوری اور ضرورت کے بغیر چوتھی بار نہ بجائیں بلکہ واپس چلے جائیں۔
اگر واپس ہونے کو کہے تو بغیر ناراض ہوئے واپس ہو جاؤ
وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْؕ- وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ [سورۃ النور: 28]
اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہ تمہارے لیے بہت ستھرا ہے، اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔
اگر مکان میں اجازت دینے والا موجود ہو اور وہ تمہیں کہے کہ واپس لوٹ جاؤ تو تم واپس لوٹ جاؤ اور اجازت طلب کرنے میں اصرار اور منت سماجت نہ کرو۔ اگر تم نے اجازت مانگی اور صاحبِ خانہ نے اجازت نہ دی تو اس سے ناراض نہ ہو، اپنے دل میں کدورت نہ لاؤ، خوشی خوشی وہاں سے واپس آجاؤ۔
کون کے جواب میں ”میں“ نہ کہو
جب کسی کا دروازہ بجائیں اور اندر سے پوچھا جائے کہ کون ہے تو اس کے جواب میں یہ نہ کہیں کہ ”میں ہوں“ بلکہ اپنا نام بتائیں تاکہ پوچھنے والا آپ کو پہچان سکے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے قرض کے سلسلے میں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو میں نے دروازہ بجایا۔ آپ نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے عرض کی: میں ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: “میں، میں” (یعنی میں تو میں بھی ہوں) گویا آپ نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔ [بخاری]
چھوٹے بچے بھی تین اوقات میں اجازت لیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ [سورۃ النور: 58]
اے ایمان والو! چاہیے کہ تم سے اجازت لیں تمہارے ہاتھ کے مال غلام اور وہ جو تم میں ابھی جوانی کو نہ پہنچے، تین وقت: نمازِ صبح سے پہلے اور جب تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو دوپہر کو اور نمازِ عشاء کے بعد۔ یہ تین وقت تمہاری شرم کے ہیں۔ ان تین کے بعد کچھ گناہ نہیں تم پر نہ ان پر، آمدورفت رکھتے ہیں تمہارے یہاں ایک دوسرے کے پاس۔
ان تین اوقات میں خلوت و تنہائی ہوتی ہے، بدن چھپانے کا بہت اہتمام نہیں ہوتا، ممکن ہے کہ بدن کا کوئی حصہ کھل جائے جس کے ظاہر ہونے سے شرم آتی ہے، لہٰذا ان اوقات میں غلام اور بچے بھی بے اجازت داخل نہ ہوں۔ ان تین وقتوں کے سوا باقی اوقات میں غلام اور بچے بے اجازت داخل ہوسکتے ہیں۔
بالغ اپنے گھر میں بھی اجازت لے کر جائیں
وَ إِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ [سورۃ النور: 59]
اور جب تم میں لڑکے جوانی کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اِذن مانگیں جیسے ان کے اگلوں نے اِذن مانگا۔
گھر میں صرف ماں ہو جب بھی اجازت لے
حدیث شریف میں ہے اگر گھر میں ماں ہو تب بھی اجازت طلب کرے۔ [موطا امام مالک]
حضرت عطا بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا میں اپنی ماں کے پاس جاؤں تو اس سے بھی اجازت لوں؟ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے عرض کی: میں تو اس کے ساتھ اسی مکان میں رہتا ہی ہوں۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجازت لے کر اس کے پاس جاؤ، انہوں نے عرض کی: میں اس کی خدمت کرتا ہوں (یعنی بار بار آنا جانا ہوتا ہے، پھر اجازت کی کیا ضرورت ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اجازت لے کر جاؤ، کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اسے بَرَہْنَہ دیکھو؟” عرض کی: نہیں، فرمایا: تو اجازت حاصل کرو۔
اسی طرح گھروں میں سب کے الگ الگ کمرے ہوتے ہیں وہاں بھی یہ خیال ضروری ہے کہ دوسرے کے کمرے میں بلا اجازت داخل نہ ہوں۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ دوسرے کے کمروں میں جھانک کر دیکھتے ہیں یا اچانک جا کر دیکھتے ہیں کہ فلاں کیا کر رہا ہے۔ یہ بہت غلط حرکت ہے۔ یہ اسلام کے حکمت بھرے احکام ہیں ہم کو چاہیے کہ انہی کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔
