| عنوان: | صاحبِ قرطاس و قلم علامہ عبد المبین نعمانی میدانِ تحریر میں |
|---|---|
| تحریر: | عمران رضا عطاری مدنی |
| منجانب: | المدینۃ العلمیہ، دعوتِ اسلامی ہند |
شائقینِ تحریر ہمیشہ اس جستجو میں رہتے ہیں کہ جس شخصیت کو وہ میدانِ تحریر میں فالو کرتے ہیں، جس سے انہوں نے لکھنے کا سلیقہ سیکھا ہوتا ہے، یا جن کی کتب سے وہ استفادہ کرتے ہیں، ان کا ابتدائی تحریری سفر کیسا رہا ہوگا؟ وہ ایک کامیاب مصنف کیسے بنے؟ انہوں نے سب سے پہلے کس موضوع پر قلم اٹھایا؟ کن اساتذہ کی صحبت اور رہنمائی سے ان کی تربیت ہوئی؟ اور کن مراحل سے گزر کر وہ اس مقام تک پہنچے جہاں آج ان کا نام اعتماد اور وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے؟ یہ تمام پہلو معلوم ہوں، قارئینِ کرام! اپنے اس مضمون میں ہم آپ کو تلمیذِ حافظِ ملت، صاحبِ قرطاس و قلم علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی حفظہ اللہ کے تحریری سفر کے حوالے سے کچھ اہم اور قابلِ قدر معلومات فراہم کریں گے، تاکہ ان کے علمی و قلمی سفر کے ابتدائی نقوش، فکری تربیت اور تحریری خدمات کے ارتقا کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
تحریر کا شوق کہاں سے ملا...؟
مبلغِ اسلام علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی حفظہ اللہ کی عمر تقریباً 16 سال رہی ہوگی، جن دنوں آپ بنارس کے ایک عالم کے پاس درسِ نظامی کی کتب پڑھ رہے تھے۔ موصوف کئی کتابوں کے مصنف تھے اور حضرت نعمانی صاحب نے ان کو کئی مرتبہ کتابیں لکھتے ہوئے دیکھا، کتابوں کی اشاعت میں کوشاں پایا، بلکہ وہ فنِ خطاطی میں بھی ماہر تھے۔ وہیں سے حضرت نعمانی صاحب کو تحریر سے دلچسپی ہوئی اور آپ نے بھی اللہ کا نام لے کر لکھنا شروع کر دیا۔
سب سے پہلے کیا لکھا...؟
سولہ (16) سال کی عمر تھی، دل میں شوقِ تحریر موجزن تھا اور قلم اٹھانے کا جذبہ پروان چڑھ رہا تھا۔ اسی ابتدائی دور میں آپ نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز فرمایا۔ سب سے پہلے آپ نے عربی ادب کی وہ کتاب منتخب کی جو اس وقت آپ کے زیرِ درس تھی۔ اس کا ترجمہ کیا اور اس کی شرح بھی تحریر فرمائی۔ اس کا نام آپ نے “مبین الادب” رکھا، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر اس پر نظرِ ثانی نہ کی اور نہ ہی اسے اشاعت کے لیے پیش کیا۔ اس ابتدائی تجربے کے بعد آپ کے اندر تصنیف و تالیف کا ذوق مزید پختہ ہوتا گیا۔ مطالعہ اور مشاہدے نے آپ کے قلم کو اور جِلا بخشی، چناں چہ آپ نے عربی سے اردو لغت کے موضوع پر بھی ایک مختصر کتاب ترتیب دی۔ جس کا مسودہ آپ کے پاس آج بھی محفوظ ہے۔
جامعہ اشرفیہ میں تحریری مشق
جب علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی صاحب اعلیٰ تعلیم کے لیے ازہرِ ہند، جامعہ اشرفیہ مبارک پور تشریف لے گئے، تو حضرت حافظِ ملت رحمۃ اللہ علیہ نے صرف آپ کی تحریر کردہ درخواست دیکھ کر ہی آپ کو درجۂ سابعہ میں داخلہ عطا فرما دیا۔ اتفاق سے اسی درجہ میں اس وقت علامہ بدر القادری مصباحی رحمۃ اللہ علیہ بھی زیرِ تعلیم تھے، جو پہلے ہی سے عمدہ شاعر اور بہترین مضمون نگار کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنا ایک مضمون تحریر کر کے اس وقت کے معروف ماہ نامہ “ھدیٰ ڈائجسٹ دہلی” کو ارسال کیا، جو شائع بھی ہو گیا۔ اس اشاعت کو دیکھ کر علامہ نعمانی صاحب کے دل میں بھی تحریر کا شوق بیدار ہوا اور انہوں نے یہ عزم کیا کہ وہ اور کوئی مضمون لکھ کر کسی مجلے میں شائع کرائیں گے۔
اس کے بعد آپ نے ہمت اور جذبے کے ساتھ قلم اٹھایا اور عظیم عاشقِ رسول علامہ بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک نہایت خوبصورت مضمون تحریر فرمایا، جس کا عنوان تھا: “عاشقِ رسول”۔ اتفاق دیکھیے کہ یہ مضمون بھی مدیر کو پسند آیا اور بلا تاخیر اسے اشاعت کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ مضمون کی اشاعت پر آپ کو بے حد خوشی ہوئی اور بڑا حوصلہ ملا۔ خود علامہ نعمانی صاحب حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس وقت میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔
مضمون: علمِ غیبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
پہلا مضمون شائع ہونے کے بعد علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی حفظہ اللہ کے دل و دماغ میں تحریر کا ذوق مزید پروان چڑھا اور ان کے جذبات کو گویا چار چاند لگ گئے۔ اسی شوق اور حوصلہ افزائی کے اثر سے انہوں نے ایک اور نہایت علمی اور مدلل مضمون تحریر فرمایا، جس کا عنوان تھا “علمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم”۔ اس مضمون میں آپ نے حدیث کی مشہور کتاب مشکوٰۃ المصابیح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علمِ غیب پر مشتمل احادیث کو جمع کیا اور نہایت خوب صورت، منظم اور علمی انداز میں انہیں پیش فرمایا۔ اس کے بعد یہ مضمون اشاعت کے لیے ماہ نامے کے مدیر کو ارسال کر دیا گیا۔ مدیر نے آپ کے مضمون کو ماہ نامے میں شاملِ اشاعت کر لیا۔ جس پر آپ بہت خوش ہوئے۔
اس طرح علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی حفظہ اللہ کا سلسلۂ مضمون نگاری رفتہ رفتہ آگے بڑھتا رہا، اور آپ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی کاپی پر مضامین تحریر فرماتے رہے۔ بعد ازاں آپ کی تحریریں مختلف علمی جرائد تک پہنچیں اور ان کی پذیرائی کا دائرہ مزید وسیع ہوتا گیا۔ آپ کے مضامین ماہنامہ جامِ نور، نورِ کرن بریلی شریف، ماہنامہ اعلیٰ حضرت اور ماہنامہ پاسبان الٰہ آباد میں بھی شائع ہوئے، جس سے آپ کے قلمی سفر کو نئی شناخت اور تقویت حاصل ہوئی۔
شرحِ بخاری کا تحریری کام
راقم الحروف کا ایک مضمون بعنوان “حافظِ ملت کی حدیثی خدمات” جو ماہ نامہ اشرفیہ (دسمبر، 2024ء) میں شائع ہوا تھا، اس میں ذکر ہے: علامہ عبد المبین نعمانی قادری دورانِ طالبِ علمی جب حافظِ ملت سے بخاری شریف کا درس لیتے تھے، اسی زمانہ میں، میں نے حضرت کا درسِ بخاری لکھنا بھی شروع کر دیا تھا، ایک کاپی مکمل اور دوسری نصف یعنی تقریباً 100 صفحات لکھ بھی چکا تھا، لیکن افسوس کہ وہ کاپی کسی نے چوری کر لی، جس پر آپ نے بڑے افسوس کا اظہار فرمایا کہ میں نے جتنا لکھا تھا صرف وہی اگر میرے پاس موجود ہوتا تو میں اس کو شائع کر دیتا، لیکن افسوس! وہ ضائع ہو گیا۔
نذرِ حبیب: پہلی کتاب
حضرت علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی حفظہ اللہ کی منظرِ عام پر آنے کے اعتبار سے پہلی مستقل تصنیف حضور مجاہدِ ملت، علامہ حبیب الرحمن عباسی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی سوانحِ حیات پر مشتمل کتاب “نذرِ حبیب” ہے۔ حضرت مجاہدِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد مریدین و محبین نے یہ ارادہ کیا کہ چہلم کے موقع پر آپ کی زندگی اور احوال پر ایک کتاب شائع کی جائے۔ اس سلسلے میں مریدین نے حضرت علامہ نعمانی صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اتنی کم مدت میں مکمل کتاب کی تیاری مشکل ہے، اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ تاہم مریدین و محبین اپنے اصرار پر قائم رہے اور عرض کیا کہ حضرت! آپ کو یہ کتاب ضرور لکھنی ہوگی۔ یہ بات سن کر حضرت نعمانی صاحب نے اس ذمہ داری کو قبول فرما لیا۔ آپ نے مریدین کے فراہم کردہ رسائل، اپنے مشاہدات اور حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں نہایت محنت اور اخلاص کے ساتھ انتہائی کم مدت یعنی ڈیڑھ دن میں تقریباً 56 صفحات پر مشتمل ایک مختصر کتاب تیار فرما دی۔ یہ کتاب فوری طور پر شائع بھی کر دی گئی اور مریدین و محبین میں تقسیم ہوئی، جسے بے حد پسند کیا گیا۔
ہر سال ایک کتاب منظرِ عام پر
آبروئے قلم حضرت علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی حفظہ اللہ جب اشاعتِ علم کے لیے چریاکوٹ تشریف لائے اور جامعہ قادریہ میں تدریسی خدمات کا آغاز فرمایا تو اسی وقت سے آپ کے قلمی سفر میں ایک باقاعدہ اور منظم تسلسل قائم ہو گیا۔ اس کے بعد سے ہر سال کم از کم ایک مستقل تصنیف منظرِ عام پر آنے لگی۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور اس دوران چالیس (40) کے قریب کتب و رسائل منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ گویا یہ بات آپ کے علمی مزاج کا حصہ بن چکی ہے کہ سالانہ ایک تصنیف ضرور اشاعت پذیر ہو۔ اسی تسلسل کے تحت امسال ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں آپ کی ایک نہایت خوب صورت اور قابلِ مطالعہ کتاب “شمائلِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم” شائع ہوئی، جو قارئین کے لیے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال و کمال کو سمجھنے کا ایک عمدہ ذریعہ ہے۔
تصنیفاتِ نعمانی
صاحب زادے مولانا عارف رضا نعمانی مصباحی لکھتے ہیں: آپ کی پچاس سے زیادہ کتابیں شائع ہو کر مقبول ہو چکی ہیں، ان میں بہت ساری کتابوں کے کئی کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن برکاتی مصباحی نے اپنی کتاب “فرزندانِ اشرفیہ کی علمی و تصنیفی خدمات” میں آپ کی کتابوں کے نام شمار کرائے ہیں، جن میں: ارشاداتِ اعلیٰ حضرت، انتخابِ کلامِ اعلیٰ حضرت، مسنون دعائیں، ارکانِ اسلام، احوالِ قبر، نواے نعت، نذرِ حبیب، عورت اور ہمارا معاشرہ، شراب اور اس کے نقصانات، اصلاحِ معاشرہ، پنج سورہ رضویہ، فضائلِ نماز، مسائلِ نماز، شادی اور اسلام، شمائلِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور محاسنِ کنز الایمان وغیرہ شامل ہیں۔ تفتیشِ مضمون کے وقت حضرت نعمانی صاحب نے فرمایا کہ اب تک تقریباً 70 کتابیں ہو چکی ہیں، جب کہ مسودات علیحدہ ہیں۔
نوٹ: گزشتہ شب بعد نمازِ عشا حضرت علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی حفظہ اللہ سے ملاقات کا شرف ملا۔ حضرت کا تصنیفی سفر کیسے شروع ہوا...؟ اس موضوع پر طویل گفتگو ہوئی۔ رات 12 بجے سے اسے مضمون کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش شروع کی، تاکہ دیگر لوگ بھی مستفیض ہوں۔ بحمدہ تعالیٰ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں مضمون مکمل ہوا۔
