| عنوان: | اہل سنت کی شیرازہ بندی کیسے ہو؟ |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
اصولاً اتحاد کے لیے اختلاف کے اسباب کا جاننا ضروری ہے۔ اس ناحیہ سے دیکھا جائے تو اہل سنت کے اختلافی مسائل کے پیچھے بھی وہی عناصر کار فرما ہیں، جو تقریباً ہر اختلاف کا حصہ رہے ہیں۔ اس عنوان پر خوب غور کرنے کے بعد کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے تو مختصراً یوں کہا جاسکتا ہے کہ اخلاق رسول پر بے پناہ زور بیان صرف والی جماعت اہل سنت کی شیرازہ بندی میں سب سے بڑا روڑا “اخلاقیات کا فقدان” ہے۔
اور یہ وہ کینسر ہے جس کے بطن سے بہت سی اخلاقی بیماریاں جنم لیتی ہیں مثلاً:
-
حسد
-
تنگ دلی
-
بے صبری
-
پاپائیت
-
عملی منافقت
-
بنا تحقیق اعتماد
-
جوش رقابت میں شرعی تقاضوں کی پامالی
-
اور خلوص و خشیت سے زیادہ حلقۂ اثر و ارادت کی فکر وغیرہ۔
اگر تمام دل چسپ تاویلوں کو درمیان سے ہٹا کر بلا لومۃ لائم قرآنی اسلوب کے مطابق بیماری کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اہل سنت کے عمومی اختلافات کے پیچھے انہی جزوی بیماریوں میں سے کوئی بیماری نظر آئے گی۔
جبکہ ان اخلاقی برائیوں کے نتائج پر غور کیا جائے تو کچھ اس طرح کی فہرست بنتی ہے:
-
دعوتی مزاج تقریباً رخصت ہوگیا
-
اسلام کی آفاقیت کا تصور ختم سا ہوگیا
-
اسلام، دنیا کے لیے باعث کشش نہ رہا
-
مسلمانوں کا بھرم جاتا رہا
-
دشمنوں کو جگ ہنسائی کا موقع ملا
-
اسلام کے عملی فیضان سے محرومی مقدر بن گئی
-
توفیق خیر چھین لی گئی
-
علمی وراثتیں محفوظ نہ رہیں
-
نفسیاتی بیماریاں بلا کی صورت عام ہوتی چلی گئیں وغیرہ۔
یعنی خلاصے کے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اخلاقی اقدار کے زوال کے بعد بھلے زبانوں پر اسلام جاری رہا لیکن میدان عمل میں دور دور تک نظر نہیں آتا۔
اب اس درد کا درماں یہ ہے:
-
خانقاہی نظام کو مجاوری نظام بننے سے روکا جائے
-
اکابر کسی بھی فرد، تنظیم یا ادارہ کے تعلق سے اس وقت تک ری ایکشن نہ کریں جب تک کہ شرعی پیمانوں پر تحقیق نہ کر لیں
-
بزرگوں کی روش کے مطابق اسٹیج شیئر ہوں
-
شر پسند، تفرقہ پرور اور تملق پیشہ افراد کی سرکوبی ہو
-
اسلامی تعلیمات یا کم سے کم دشمن کی حالیہ شاطرانہ چالوں کے پیش نظر غیرت ملی اور فراست مومنانہ کا ثبوت دیتے ہوئے تحمل، رواداری، تعظیم اور ادب کے جذبات کی تعمیم ہو
-
دار الافتاؤں کا دائرہ کار متعین کیا جائے اور بالخصوص ذاتی اور تکفیری و تضلیلی فتاویٰ کے لیے چند بڑے دار الافتاء مختص کر دیے جائیں۔
ذاتی طور پر ہر فرد ملت کو چاہیے کہ:
-
محاسبہ نفس
-
تزکیہ نفس
-
تقویٰ اور
-
کشادہ قلبی جیسی دیگر اخلاقی اقدار کا اپنے آپ کو پابند بنائے۔
اصل بات بیماری، اس کے خطرناک عوامل اور پھر بے حد خطرناک نتائج جاننا نہیں، ان کا علاج چاہنا ہے۔ اگر ہم اس کے لیے تیار ہیں تو ٹھیک، ورنہ ذرا غور سے سنیں، ایک آواز آ رہی ہے: مرو! شور مچاتے کیوں ہو۔
