Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو قربانی کرنے کا حکم کیوں دیا؟|محمد عارف رضا قادری امجدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو قربانی کرنے کا حکم کیوں دیا؟
عنوان: اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو قربانی کرنے کا حکم کیوں دیا؟
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا نام “ابراہیم” ہے۔ ابراہیم سریانی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے معنی ہیں:

أَبٌ رَحِيمٌ

(یعنی مہربان باپ) چونکہ آپ بچوں پر بہت مہربان تھے۔ نیز مہمان نوازی اور رحم و کرم میں

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑھاپے میں بڑی دعاؤں اور التجا کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے بطن پاک سے پیدا ہوئے۔

جب حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 86 سال تھی اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی عمر 55 سال تھی۔

قربانی کے وقت حضرت ابراہیم کی عمر 99 سال تھی اور حضرت اسماعیل کی عمر 13 سال تھی۔

86 سال کی عمر میں اللہ نے حضرت ابراہیم کو ایک بیٹا عطا کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے بہت پیار و محبت فرماتے تھے۔

الرُّؤْيَا إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ﴿106﴾ كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿105﴾ وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ﴿107﴾

ترجمہ: “اے ابراہیم! بے شک تو نے خواب سچ کر دکھائی، ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔ بے شک یہ روشن جانچ تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا۔” [تفسیر خازن، ج: 4، ص: 22 ملخصاً، از بیٹا ہو تو ایسا، ص: 12]

روایت ہے کہ فرشتوں نے رب کی بارگاہ میں سوال کیا کہ اے پروردگار عالم تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا:

وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا

لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تو حال یہ ہے کہ اب ان کے دل میں ان کے فرزند کی محبت بھی پیدا ہوچکی ہے۔

اے اللہ تیرا خلیل اور دوست کہلانے کا حق تو وہی رکھتا ہے

جس کے دل میں تیری محبت کے سوا کسی دوسرے کی محبت کی گنجائش ہی نہ ہو۔

بس یہی وجہ

کیا ہر کوئی خواب دیکھ کر اپنا بیٹا ذبح کر سکتا ہے؟

یاد رہے! کوئی شخص خواب یا غیبی آواز کی بنیاد پر اپنے یا دوسرے کے بچے یا کسی انسان کو ذبح نہیں کر سکتا، کرے گا تو سخت گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار قرار پائے گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو خواب کی بنا پر اپنے بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہو گئے، یہ حق ہے کیوں کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا خواب وحیِ الٰہی ہوتا ہے۔ ان حضرات کا امتحان تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام جنتی دنبہ لے آئے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے کے بجائے اس جنتی دنبے کو ذبح فرما دیا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو خواب کے ذریعے اپنے لختِ جگر حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم عطا فرمایا، تاکہ آپ علیہ السلام کی کامل اطاعت، بے مثال تسلیم و رضا اور اللہ تعالیٰ سے بے پناہ محبت کا عملی اظہار ہو۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکمِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا، جس سے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا آپ کے نزدیک دنیا کی ہر نعمت، حتیٰ کہ اپنی عزیز ترین اولاد سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہی واقعہ امتِ مسلمہ کے لیے اخلاص، اطاعت اور کامل بندگی کا عظیم درس ہے۔

اے اللہ! میرے دل میں اپنی محبت سب سے بڑھ کر عطا فرما، مجھے اپنا سچا فرمانبردار بنا، اپنے ہر حکم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اور میرا خاتمہ ایمان پر فرما۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!