| عنوان: | آخری نبی ﷺ کی ریش مبارک |
|---|---|
| تحریر: | محمد ناظم قادری نیپال |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
حضور ﷺ کا ہر ہر عضو باکمال و بے مثال ہے۔ آج تک کوئی آپ کے کسی ایک جز پر بھی کما حقہ نہ لکھ سکا اور نہ لکھ سکے گا۔ ہم غلام ہیں اور غلامی کا حق ہے کہ اپنے آقا کی تعریف و ثنا سے زبان ہمیشہ تر رکھیں۔ ذیل میں راقم الحروف حضور احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ریش مبارک کے بارے میں لکھ کر غلامانِ رسول ﷺ کی فہرست میں اپنا نام درج کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔
ریش مبارک احادیث کی روشنی میں
امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے مبارک رسالے "لمعۃ الضحی" کے مطابق، نبی کریم ﷺ کی ریش مبارک کے بارے میں احادیثِ مبارکہ کا تذکرہ درج ذیل ہے:
- کثیر اللحمیہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ریش مبارک میں بال کثیر و انبوہ تھے۔
- رنگ و ہیئت: امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا رنگ گورا، آنکھیں بڑی اور سیاہ داڑھی گھنی تھی۔
ایک مشت داڑھی رکھنے کا حکم
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: "مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو وافر رکھو اور مونچھوں کو پست کراؤ۔" آپ خود حج یا عمرہ کے موقع پر اپنی داڑھی کو مٹھی میں لیتے اور جو اس سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے۔ فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ شریف الحق امجدی رحمہ اللہ تعالیٰ کے مطابق، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے۔
سنتِ نبوی ﷺ پر کاربند رہنا
ایک روایت کے مطابق جب کسریٰ کے بھیجے گئے قاصد دربارِ نبوی میں حاضر ہوئے تو ان کی داڑھیاں منڈی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ نے ان کی طرف دیکھنا پسند نہ فرمایا اور ارشاد فرمایا: "مجھے میرے رب نے داڑھی بڑھانے اور لبیں تراشنے کا حکم فرمایا ہے۔" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ داڑھی کاٹنا یا منڈانا خلافِ شرع اور سنتِ نبوی ﷺ سے دوری کا سبب ہے۔
داڑھی کے فوائد اور ترکِ سنت کی وعیدیں
داڑھی رکھنا سنتِ مصطفیٰ ﷺ ہے اور اس کے کئی فوائد ہیں:
- لوگوں میں عزت و وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔
- مجالس میں فضیلت اور بات کو توجہ سے سنا جاتا ہے۔
- عوام و خواص میں ایک الگ ہی خوبصورتی اور معرفت کا اظہار ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، داڑھی منڈانا حرام اور کفار کا شعار ہے۔ داڑھی نہ رکھنا مرد کا اپنے آپ کو عورت کے مشابہ بنانا ہے، جس کے بارے میں حدیثِ پاک میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ اللہ پاک نے مرد کو عورتوں پر نگہبان بنایا ہے، لہٰذا ہمیں اپنی ظاہری وضع قطع کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
اللہ پاک ہمیں اپنے اسلاف کے طریقے پر کاربند رہنے اور حضور ﷺ کی پیاری سنتوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
