Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بیٹیوں کی پرورش : جنت کا انعام|عمران رضا عطاری مدنی

بیٹیوں کی پرورش : جنت کا انعام
عنوان: بیٹیوں کی پرورش : جنت کا انعام
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی بنارسی
پیش کش: المدینۃ العلمیہ ، دعوت اسلامی ھند

بیٹیوں کی پرورش: جنت کا انعام

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ بیٹیوں اور بہنوں کو بوجھ سمجھتے ہیں، حالاں کہ یہ تصور سراسر جہالت اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ کتنے ہی افراد ایسے ہیں جو بیٹیوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے، انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے اور مختلف طریقوں سے ان کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ بعض لوگ بیٹی کی پیدائش پر خوش ہونے کے بجائے غم اور مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔

حالاں کہ دینِ اسلام نے بیٹیوں کی پرورش، تربیت اور حسنِ سلوک پر عظیم بشارتیں دی ہیں اور ان کی کفالت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس زمانۂ جاہلیت میں لوگ بیٹیوں کی پیدائش پر سخت غصہ کرتے، یہاں تک کہ بعض درندہ صفت لوگ انہیں زندہ درگور کر دیتے تھے۔ مگر اسلام نے آ کر اس ظالمانہ اور وحشیانہ رسم کا مکمل خاتمہ کر دیا اور عورت و بیٹی کو عزت، مقام اور تحفظ عطا فرمایا۔

کتنا پیارا ہے ہمارا دینِ اسلام اور اس کی عظیم و حسین تعلیمات! اس دین نے عورتوں کو وہ مقام اور حقوق عطا کیے جن سے وہ زمانۂ جہالت میں محروم تھیں۔ اسلام نے نہ صرف عورت کو عزت و وقار بخشا بلکہ اسے زندگی درگور ہونے جیسے ظالمانہ رسم و رواج سے بھی نجات دلائی۔ مزید یہ کہ اسلام نے بیٹیوں کی پرورش، ان کی بہترین تربیت اور ان کے ساتھ محبت و شفقت پر عظیم بشارتیں عطا فرمائیں، یہاں تک کہ ان کی صحیح دیکھ بھال کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے ماں، بہن اور بیٹی کو عزت، تحفظ اور رحمت کا عملی پیغام دیا۔

آئیے چند احادیثِ مبارکہ نظر افروز فرمائیں!

مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ، وَأَطْعَمَهُنَّ، وَسَقَاهُنَّ، وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَتِهِ كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ [سنن ابن ماجہ، ج: 2، ص: 1210، رقم الحديث: 3669]

جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے، انہیں کھلائے، پلائے اور اپنی حیثیت کے مطابق ان کے لباس کا انتظام کرے تو وہ بیٹیاں اس کے لیے قیامت کے دن جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔

مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ، اتَّقَى اللّٰهَ وَأَقَامَ عَلَيْهِنَّ، كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ هٰكَذَا، وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْأَرْبَعِ۔ [مسند احمد، ج: 20، ص: 48، رقم الحديث: 12593]

جس کے تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ہوں اور وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہوگا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ذریعے قربت کی طرف اشارہ فرمایا۔

نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ يُؤْوِيْهِنَّ، وَيَرْحَمُهُنَّ، وَيَكْفُلُهُنَّ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ۔ [مسند احمد، ج: 22، ص: 150، رقم الحديث: 14247]

جس کے تین بیٹیاں ہوں جن کی وہ کفالت کرے، ان پر رحم کرے اور ان کی ضروریات پوری کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر دو بیٹیاں ہوں؟ فرمایا: دو ہوں تب بھی یہی فضیلت ہے۔ راوی کہتے ہیں: بعض لوگوں نے سوچا کہ اگر وہ ایک کے بارے میں پوچھتے تو شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کے بارے میں بھی یہی فضیلت بیان فرماتے۔

مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هٰذِهِ الْبَنَاتِ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ۔ [صحيح ابن حبان، ج: 1، ص: 443، رقم الحديث: 614]

جس شخص کو بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا جائے اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جاتی ہیں۔

قارئینِ کرام! اس موضوع پر کتبِ احادیث میں بکثرت احادیث مروی ہیں، ہم نے بس چار احادیث ذکر کی ہیں، تفصیل کے لیے کتبِ حدیث کی طرف مراجعت کریں!

امام اہل سنت امام احمد رضا قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ نے بچیوں کے حقوق جو والدین پر لازم ہیں، ان کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

  1. اس کے پیدا ہونے پر ناخوشی نہ کرے بلکہ نعمتِ الٰہیہ جانے۔

  2. بیٹیوں سے زیادہ دلجوئی و خاطر داری رکھے کہ ان کا دل بہت تھوڑا (چھوٹا) ہوتا ہے۔

  3. جو چیز دے پہلے انہیں دے کر بیٹوں کو دے۔ [اولاد کے حقوق، ص: 27]

آئیے! نیت اور پکا عزم کرتے ہیں کہ اپنی بہن بچیوں کے ساتھ پیار محبت والا سلوک کریں گے، اور ان شاء اللہ الکریم جنت کے مستحق بنیں گے۔

20 ذی الحجۃ الحرام 1447ھ / 7 جون 2026ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!