Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کیا ہر صاحبِ خلافت صاحبِ مزار ہوتا ہے؟ (قسط دوم)

کیا ہر صاحبِ خلافت صاحبِ مزار ہوتا ہے؟ (قسط دوم)
عنوان: کیا ہر صاحبِ خلافت صاحبِ مزار ہوتا ہے؟ (قسط دوم)
تحریر: سرفراز احمد قادری امجدی
پیش کش: محمد فرید خان قادری مدنی
منجانب: جامعۃ المدینہ شاہ جہان پور


آج کے پُر فتن دور میں پیری مریدی کا مقدس نظام، جو کبھی اصلاحِ نفس، تزکیہ باطن اور قربِ الہیٰ کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، رفتہ رفتہ ایک رسم، کاروبار اور ظاہری نسبت کا نام بنتا جا رہا ہے۔ عوام ایک عجیب ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی پیر سے بیعت کر لینے کے بعد نماز اور اعمالِ صالحہ کی فکر باقی نہیں رہتی، جبکہ اسلام میں نجات کا مدار ایمانِ صحیح، اتباعِ شریعت اور تقویٰ پر ہے، نہ کہ محض کسی شخصیت سے وابستگی پر۔

نام نہاد سجادہ نشینی اور دینی غفلت

افسوس کہ بعض پیر اور سجادہ نشین مریدوں کی دینی تربیت سے زیادہ اپنی شہرت، نذرانوں اور حلقہ ارادت بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ صرف اس بنیاد پر "ولی" اور "صاحبِ مزار" سمجھے جانے لگے ہیں کہ ان کے آباء و اجداد ولی تھے۔ حالانکہ ولایت نسب یا گدی سے نہیں، بلکہ تقویٰ اور مکمل اتباعِ سنت سے حاصل ہوتی ہے۔ فیشن زدہ لباس، نمازوں میں غفلت اور دینی علوم سے ناواقفیت کے باوجود خود کو عالم اور ولی ظاہر کرنا عوام کو گمراہی کی طرف لے جا رہا ہے۔

خلافت کا غلط استعمال

آج کل چند پروگراموں، وقتی عقیدت یا شہرت کی بنیاد پر خلافت نامہ عطا کر دیا جاتا ہے۔ نہ علم دیکھا جاتا ہے، نہ تقویٰ، اور نہ ہی کردار۔ نتیجہ یہ کہ خلافت ایک روحانی ذمہ داری کے بجائے وراثتی جائیداد اور بزنس بنتی جا رہی ہے۔ اگر یہی حال رہا تو ہر گاؤں اور محلے میں کئی نام نہاد مزار اور خانقاہیں بن جائیں گی، جن کا حقیقتِ تصوف سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔

اکابرین کا طریقہ اور معیارِ بیعت

ہمارے اکابرین پیرِ کامل کی تلاش میں سالہا سال کا مجاہدہ کرتے تھے۔ حضور غوث العالم جیسی عظیم شخصیات نے اقتدار چھوڑ کر اصلاحِ باطن کے لیے طویل سفر کیے اور اپنے نفس کو مار کر خلافت حاصل کی۔ امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ (جلد 9، صفحہ 497) میں مرشد بننے کے چار اہم شرائط بیان فرمائے ہیں:

  • سنی صحیح العقیدہ ہونا۔
  • ضروری علمِ دین کا حامل ہونا۔
  • کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا۔
  • سندِ خلافت کا صحیح اور متصل ہونا۔

جس شخص میں ان شرائط میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو، اس کو پیر نہیں بنانا چاہیے۔

وضاحت

نوٹ: اس مضمون کا مقصد کسی بھی طور پر سچے اولیاء و مشائخ اور اہل حق کی توہین نہیں ہے۔ یہ تنقید صرف اُن نام نہاد و ڈھونگ کے طلبگاروں کے خلاف ہے جو اس مقدس منصب کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اہل حق، باعمل اور متقی مشائخ ہمارے سر کا تاج ہیں اور ان کی عزت و عقیدت ہمیشہ ہمارے دلوں میں قائم ہے۔

اللہ ہمیں جعلی اور فاسق پیروں کے فتنے سے محفوظ رکھے اور کامل علمائے کرام کی سچی محبت نصیب فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!