Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اعلیٰ حضرت کا کامل ایمان | محمد شہید حسین عطاری

اعلیٰ حضرت کا کامل ایمان
عنوان: اعلیٰ حضرت کا کامل ایمان
تحریر: محمد شہید حسین عطاری
پیش کش: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ باطل کے آگے چٹان کی طرح تھے۔ انہوں نے دینِ متین کی بہت سی خدمات سر انجام دیں، بالخصوص عقائدِ اہلِ سنت اور ختمِ نبوت کی حفاظت فرمائی۔ آپ اپنے دین پر مضبوطی سے قائم و دائم رہے اور اپنے اشعار کے ذریعے امتِ مسلمہ کے دلوں میں عشقِ نبی ﷺ کی شمع جلائی۔

ہم آپ کی سیرتِ مبارکہ سے جانیں گے کہ آپ کیسا کامل ایمان رکھتے تھے اور کس قدر مضبوطی سے اپنے دین پر قائم و دائم تھے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی میں مکمل ایمان کی صفت بلند و بالا درجے پر نظر آتی ہے، اور یہ صرف اللہ پاک کی معرفت رکھنے والے بندے ہی کا خاصہ ہے۔ آپ کے عقائد اور سوچ و بچار یقین کی مضبوط بنیادوں پر قائم تھے۔ یہ فقط علم سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے پہچان ضروری ہے۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخِ ولادت مبارکہ جو انہوں نے قرآنِ پاک سے خود نکالی ہے: ﴿اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ﴾ (سورۃ المجادلہ، پارہ 28، آیت 22)۔ ترجمہ کنز الایمان: "یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی۔" یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل پر ایمان نقش فرما دیا تھا اور آپ مکمل یقین کے اس مقام پر فائز تھے۔

ایک دن مولانا محمد حسین میرٹھی کے والد صاحب تشریف لائے (جو علمِ نجوم میں بڑی مہارت رکھتے تھے) تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے دریافت کیا: "فرمائیے! بارش کا کیا طریقہ کار ہے، کب تک ہوگی؟" انہوں نے ستاروں کی وضع سے جنم کنڈلی بنائی اور فرمایا: "اس مہینے میں پانی نہیں ہے، آئندہ مہینے میں ہوگا۔" یہ کہہ کر وہ جنم کنڈلی اعلیٰ حضرت کی طرف بڑھا دی۔ اعلیٰ حضرت نے دیکھ کر فرمایا: "اللہ رب العزت قادرِ مطلق ہے، اگر وہ چاہے تو آج ہی بارش ہو۔" انہوں نے کہا: "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ ستاروں کی وضع کو نہیں دیکھتے۔"

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ ستاروں کے بنانے والے اور اس کی قدرت کو بھی دیکھ رہا ہوں۔" پھر اس مشکل مسئلے کو اعلیٰ حضرت نے کس قدر سہل طریقے سے تفہیم فرمایا۔ سامنے گھڑی لگی ہوئی تھی، اعلیٰ حضرت نے ان سے سوال کیا کہ: "وقت کیا ہے؟" بولے: "سوا گیارہ بج رہے ہیں۔" اعلیٰ حضرت نے فرمایا: "بارہ بجنے میں کتنا وقت ہے؟" شاہ صاحب بولے: "ٹھیک پون گھنٹہ۔" اعلیٰ حضرت اٹھے اور بڑی سوئی کو گھما دیا، فوراً ٹن ٹن بارہ بجنے لگے۔ اب اعلیٰ حضرت نے فرمایا: "آپ نے تو کہا تھا کہ ٹھیک بارہ بجنے میں پون گھنٹہ باقی ہے۔" شاہ صاحب بولے: "آپ نے اس کی سوئی گھما دی، ورنہ اپنی تیزی سے پون گھنٹے کے بعد بارہ بجتے۔"

اعلیٰ حضرت نے فرمایا: "اسی طرح اللہ رب العزت قادرِ مطلق ہے، جس ستارے کو جس وقت جہاں چاہے رسید فرما دے، چاہے تو ایک ماہ کیا، ایک ہفتہ، ایک ہفتہ کیا، ایک دن اور ایک دن کیا، ابھی بارش برسا دے۔" اتنا زبانِ شریف سے نکلنا تھا کہ چاروں طرف سے بادل گرجنے لگے اور اندھیرا چھا گیا اور پانی برسنے لگا۔ [فیضانِ اعلیٰ حضرت، ص 131]

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ایمان کس قدر مضبوط تھا اور اللہ پاک پر کس قدر یقینِ کامل تھا، اس کا مزید اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے: ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ایک شخص نے میری دعوت کی اور بار بار کہنے کے بعد مجھے لے گئے۔ ان دنوں جناب سید حبیب اللہ صاحب دمشق جیلانی یہاں قیام پذیر تھے، ان کی بھی دعوت تھی، میرے ساتھ تشریف لے گئے۔ وہاں دعوت کا یہ سامان تھا کہ چند لوگ گائے کے کباب بنا رہے تھے اور حلوہ پوری (جبکہ میرا عام کھانا چکی کے پسے ہوئے آٹے کی روٹی اور بکری کا قورمہ تھا)۔ گائے کا گوشت میں نہیں کھاتا تھا اور وہاں یہی کھانا تھا۔ سید صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ: "آپ گائے کے گوشت کے عادی نہیں ہیں اور یہاں اور کوئی چیز موجود نہیں، صاحبِ خانہ سے کہہ دیا جائے کہ کچھ انتظام کریں۔" میں نے کہا: "میری خصلت نہیں۔" وہی پوریاں اور کباب کھا لیے۔

اسی دن مسوڑھوں میں ورم ہو گیا اور اتنا بڑھ گیا کہ حلق اور منہ بالکل بند ہو گیا۔ مشکل سے تھوڑا سا دودھ گلاس سے اترتا تھا اور اسی پر قناعت کرتا۔ بات بالکل نہ کر سکتا تھا، یہاں تک کہ قراءت بھی آسانی سے نہیں ہو پاتی تھی۔ سنتوں میں بھی کسی کی پیروی کرتا۔ اس وقت مذہبِ حنفی میں قراءت خلف الامام کے ناجائز ہونے کا یہ نفیس فائدہ ظاہر ہوا۔ جو کچھ کسی سے کہنا ہوتا، لکھ دیتا۔ بخار بہت سخت تھا اور کان کے پیچھے گلٹیاں نکل آئیں۔ میرے منجھلے بھائی حسن رضا ایک ڈاکٹر کو بلا کر لائے۔ ان دنوں بریلی میں طاعون کی بیماری پھیلی ہوئی تھی (یہ ایک ہلاکت خیز بیماری ہے جس میں جسم پر گلٹیاں نکلتی ہیں اور تیز بخار ہوتا ہے)۔ ان صاحب نے دیکھ کر سات آٹھ بار کہا: "یہ وہی ہے! وہی ہے! وہی ہے!" یعنی طاعون۔

میں بالکل بات نہ کر سکتا تھا اس لیے انہیں کوئی جواب نہ دے سکا، حالانکہ میں خوب جانتا تھا کہ یہ غلط کہہ رہے ہیں، نہ مجھے طاعون ہے اور نہ اِن شاء اللہ العزیز کبھی ہوگا۔ اس لیے کہ میں نے طاعون زدہ کو دیکھ کر وہ دعا پڑھ لی تھی جس کے بارے میں حضورِ سیدِ دو عالم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی مصیبت پہنچنے والے کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لے گا، وہ اس مصیبت سے بچا رہے گا۔" وہ دعا یہ ہے: "اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ عَافَانِيْ مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِيْ عَلٰی كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيْلًا"۔ جن جن امراض کے مریضوں اور جن جن مصائب کے مبتلاؤں کو دیکھ کر میں نے اسے پڑھا، بحمد للہ تعالیٰ آج تک ان سب سے بچا ہوں اور خدائے تعالیٰ کی مدد سے ہمیشہ بچتا رہوں گا۔ مجھے ارشادِ حدیث پر کامل یقین تھا کہ مجھے طاعون کبھی نہ ہوگا۔

آخری رات میں درد بڑھا، میرے دل نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: "اَللّٰهُمَّ صَدَقَ الْحَبِيْبُ وَكَذَبَ الطَّبِيْبُ" (یعنی اے اللہ! تیرے حبیب نے سچ فرمایا اور ڈاکٹر نے جھوٹ بولا)۔ کسی نے میرے داہنے کان پر منہ رکھ کر کہا: "مسواک اور سیاہ مرچیں استعمال کرو۔" لوگ باری باری میرے لیے جاگتے تھے، اس وقت جو شخص جاگ رہا تھا، میں نے اشارے سے اسے بلایا اور اسے مسواک اور کالی مرچ لانے کا اشارہ کیا۔ وہ مسواک تو سمجھ گئے، گول مرچ کسی طرح نہ سمجھے، غرض دشوار سمجھے۔ جب دونوں چیزیں آئیں، بہ دقتِ تمام میں نے مسواک کے سہارے تھوڑا سا منہ کھولا اور دانتوں میں مسواک کر کے سیاہ مرچ کا سفوف چھوڑ دیا کہ دانتوں نے بند ہو کر دبا لیا۔ پسی ہوئی مرچیں میں نے اسی راہ سے داڑھوں تک پہنچائیں۔ تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک کلی خالص خون کی آئی مگر کوئی تکلیف و اذیت محسوس نہ ہوئی۔ اس کے بعد ایک کلی خون کی اور آئی اور بحمد اللہ تعالیٰ وہ گلٹیاں جاتی رہیں اور منہ کھل گیا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور ڈاکٹر صاحب سے کہنے کے لیے بھیجا کہ آپ کا وہ طاعون بفضلہِ تعالیٰ دور ہو گیا۔ اور تین دن بعد بخار بھی جاتا رہا۔ [ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، مکتبۃ المدینہ، ص 17]

پیارے اسلامی بھائیو! اس واقعے سے بہت کچھ سبق سیکھنے کو ملتا ہے کہ دعا کے ساتھ دوا بھی ضروری ہے اور ذاتِ باری تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کے فرامین پر کامل بھروسا اور یقین ہونا چاہیے۔ ہمیں بھی اپنے ایمان پر اسی طرح مضبوطی سے قائم و دائم رہنا چاہیے۔ اور اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پیارے آقا ﷺ کی بات بالکل حق اور یقینی ہے۔ ہماری بات جھوٹ ہو سکتی ہے مگر حضور ﷺ کی فرمائی ہوئی ہر بات سچ ہو کر رہتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!