| عنوان: | تواضع اور عاجزی کی فضیلت (قسط:اول) |
|---|---|
| تحریر: | شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
جب آپ پر غرور و تکبر اور خود پسندی کی مذمت، ان کی آفات اور برائیاں ظاہر ہو گئیں تو اب تقاضا اس بات کا ہے کہ تواضع کے فضائل اور اس کے بلند مرتبہ کو بھی بیان کیا جائے کیونکہ اشیاء کی پہچان ان کی ضدوں ہی سے ہوتی ہے۔ لہذا اس سلسلے میں وارد روایات کچھ اس طرح ہیں:
82۔ سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "بے شک اللہ عزوجل نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ اتنی عاجزی اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر کرے نہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔" [صحیح مسلم، کتاب الجنة و نعیمھا، باب صفات التی یصرف بھا، الحدیث: 2865، ص 1527]
83۔ شفیعِ روزِ شمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا، اللہ عزوجل بندے کے عفو و درگزر کی وجہ سے اس کی عزت میں اضافہ فرما دیتا ہے اور جو شخص اللہ عزوجل کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔" [صحیح مسلم، کتاب البر، باب استحباب العفو و التواضع، الحدیث: 2588، ص 1388]
84۔ حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوبِ ربِ اکبر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "تواضع بندے کی رفعت میں اضافہ کرتی ہے، لہٰذا تواضع اختیار کرو، اللہ عزوجل تمہیں بلندی عطا فرمائے گا اور درگزر سے کام لینا بندے کی عزت میں اضافہ کرتا ہے لہٰذا عفو و درگزر سے کام لیا کرو، اللہ عزوجل تمہیں عزت عطا فرمائے گا اور صدقہ مال میں اضافہ کرتا ہے لہٰذا صدقہ دیا کرو اللہ عزوجل تم پر رحم فرمائے گا۔" [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب التواضع، الحدیث: 5716، ج 3، ص 48]
85۔ نبیِ کریم، رؤف رحیم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "خوشخبری ہے اس کے لئے جو عیب نہ ہونے کے باوجود تواضع اختیار کرے، سوال کئے بغیر خود کو ذلیل سمجھے، جائز طریقے سے کمایا ہوا مال راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرے، بے سرو سامان اور مسکین لوگوں پر رحم کرے اور علم و حکمت والے لوگوں سے میل جول رکھے، خوش بختی ہے اس کے لئے جس کی کمائی پاکیزہ ہو، باطن اچھا ہو، ظاہر بزرگی والا ہو اور جو لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے، اور سعادت مندی ہے اس کے لئے جو اپنے علم پر عمل کرے، اپنی ضرورت سے زائد مال راہ خدا عزوجل میں خرچ کرے اور فضول گوئی سے رُک جائے۔"
86۔ نبی مکرّم، نُورِ مجسّم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جب بندہ تواضع کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کا درجہ ساتویں آسمان تک بلند فرما دیتا ہے۔" [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب التواضع، الحدیث: 5717، ج 3، ص 49]
87۔ رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جو اللہ عزوجل کے لئے ایک درجہ تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عزوجل اسے ایک درجہ بلندی عطا فرماتا ہے یہاں تک کہ اسے عِلِّیِّین میں پہنچا دیتا ہے۔" [صحیح ابن حبان، باب التواضع والكبر والعجب، ذكر الاخبار عن وضع الله، الحدیث: 5639، ج 7، ص 57]
88۔ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ "(تواضع کرنے والے کو) اللہ عزوجل اَعْلٰی عِلِّیِّین میں پہنچا دیتا ہے، اور جو اللہ عزوجل پر ایک درجہ (یعنی تھوڑا سا) بھی تکبر کرے اللہ عزوجل اسے ایک درجہ پستی میں گرا دیتا ہے یہاں تک کہ اسے اَسْفَلُ السَّافِلِین میں پہنچا دیتا ہے۔" [المرجع السابق]
89۔ اللہ کے محبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہ عزوجل نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو اور تم میں سے کوئی دوسرے پر ظلم نہ کرے۔" [سنن ابن ماجه، ابواب الزهد، باب البراءة من الكبر، الحدیث: 4217، ص 273، "لا يبغی" بدله " لا يفخر"]
90۔ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن و جمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جو اپنے مسلمان بھائی کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے، اور جو اس پر بلندی چاہتا ہے اللہ عزوجل اسے پستی میں ڈال دیتا ہے۔" [المعجم الاوسط، الحدیث: 8111، ج 5، ص 390]
91۔ دافعِ رنج و ملال، صاحبِ جُود و نوال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "تکبر سے بچتے رہو کیونکہ سفید پوش آدمی بھی متکبر ہو سکتا ہے۔" [المعجم الاوسط، الحدیث: 533، ج 1، ص 166]
92۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "مجلس میں کم مرتبہ والی جگہ پر راضی ہو جانا اللہ عزوجل کے لئے تواضع کرنے میں سے ہے۔" [المعجم الكبير، الحدیث: 205، ج 1، ص 114]
93۔ خاتمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "تواضع اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو، اللہ عزوجل کے بڑے مرتبہ والے بندے بن جاؤ گے اور تکبر سے بھی بَری ہو جاؤ گے۔" [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الحدیث: 5722، ج 3، ص 49]
94۔ سیّدِ مُبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "کسی چیز کا مالک خود اس کا بوجھ اٹھانے کا زیادہ حق رکھتا ہے مگر جب وہ ضعیف ہو اور اسے اٹھا نہ سکتا ہو تو اس کا مسلمان بھائی بوجھ اٹھانے میں اس کی مدد کرے۔" [المعجم الاوسط، الحدیث: 6594، ج 5، ص 65]
95۔ شفیعِ المذنبین، انیس الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "تواضع کو لازم پکڑ لو کیونکہ تواضع دل میں ہوتی ہے اور کوئی مسلمان کسی مسلمان کو ایذا نہ دے کیونکہ بعض اوقات کمزور نظر آنے والے لوگ ایسے بھی ہیں کہ اگر کسی بات پر اللہ عزوجل کی قسم اٹھا لیں تو اللہ عزوجل ان کی قسم ضرور پوری فرماتا ہے۔" [المعجم الكبير، الحدیث: 7768، ج 8، ص 186]
96۔ محبوبِ ربِّ العٰلمین، جنابِ صادق و امین ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس کا خادم اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے اور بازار میں وہ گدھے پر سواری کرے اور بکری کا دودھ دوہنے کے لئے اس کی ٹانگیں رسی سے باندھے وہ متکبر نہیں ہو سکتا۔" [شعب الایمان، باب فی حسن الخلق، فصل فی التواضع، الحدیث: 8188، ج 6، ص 289]
97۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "ہر شخص کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جسے ایک فرشتہ تھامے ہوتا ہے اگر وہ تواضع سے کام لے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے: ’اس کی قدر بلند کر دو‘، اور جب وہ تکبر کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے: ’اس کی قدر و منزلت کو پست کر دو‘۔" [المعجم الكبير، الحدیث: 12939، ج 12، ص 169]
98۔ مَخْزنِ جُود و سخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جس نے اللہ عزوجل کے لئے عاجزی اختیار کی اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرما دیتا ہے۔" [مجمع الزوائد، کتاب الادب، باب فی التواضع، الحدیث: 13067، ج 8، ص 51]
99۔ محبوبِ ربِّ العزّت، محسنِ انسانیت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "کھردرا اور تنگ لباس پہنا کرو تاکہ عزت افزائی اور فخر کو تم میں کوئی جگہ نہ ملے۔" [کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الحدیث: 5728، ج 3، ص 49]
