Loading...

کثرتِ مدارس یا فقدانِ اخلاص؟|انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف

کثرتِ مدارس یا فقدانِ اخلاص؟
عنوان: کثرتِ مدارس یا فقدانِ اخلاص؟
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

انسانی تاریخ کا مطالعہ بار بار اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ کسی بھی فکر، نظریہ یا مذہب کی اصل قوت اس کے ظاہری ڈھانچے، عمارتوں یا اداروں کی کثرت میں نہیں بلکہ اس کے ماننے والوں کے باطن، ان کی نیتوں اور ان کے اخلاص میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ اس کی روشن ترین مثال ہے جہاں نہ شاندار مدارس تھے، نہ وسیع و عریض تنظیمی ڈھانچے، نہ وسائل کی فراوانی، مگر اس کے باوجود ایک ایسی ایمانی حرارت، ایک ایسا سوز و گداز اور ایک ایسا اخلاص موجود تھا جس نے چند افراد کو دنیا کی عظیم ترین قوتوں پر غالب کر دیا اور رہتی دنیا تک کے لیے ان کے نقوش ثبت کر دیے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے نظر انداز کر دینے سے ہر دور میں زوال نے جنم لیا، اور یہی وہ حقیقت ہے جو آج کے حالات میں ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔

موجودہ منظرنامہ اور تاثیر کا خلا

موجودہ دور میں جب ہم دینی تعلیم کے منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک طرف مدارس کی حیرت انگیز کثرت دکھائی دیتی ہے۔ ہر بستی، ہر شہر اور ہر گاؤں میں دینی ادارے قائم ہیں، جن میں قرآن و حدیث کی تعلیم دی جا رہی ہے، دینی شعور کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، اور بظاہر یہ سب ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا منظر پیش کرتا ہے۔

مگر جب اسی منظر کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک تشویشناک خلا بھی محسوس ہوتا ہے، اور وہ خلا ہے تاثیر کا، وہ کمی ہے اس روح کی جو علم کو زندگی بخشتی ہے، جو الفاظ کو عمل میں ڈھالتی ہے، اور جو تعلیم کو انقلاب میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ جملہ اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ مدارس کی کثرت کے باوجود اگر اخلاص کی قلت ہو جائے تو دین کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے، کیونکہ اصل مسئلہ تعداد کا نہیں بلکہ معیار اور نیت کا ہوتا ہے۔

اخلاص: دینی عمل کی اصل روح

اخلاص دراصل وہ جوہر ہے جو کسی بھی دینی عمل کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول بناتا ہے اور اسی کے ذریعے وہ عمل دلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ورنہ محض الفاظ، دلائل اور مباحث اپنی جگہ موجود رہتے ہیں مگر ان میں وہ تاثیر پیدا نہیں ہوتی جو ایک مخلص دل سے نکلنے والی بات میں ہوتی ہے۔

جب معلم کا مقصد صرف تدریس نہ ہو بلکہ اصلاحِ نفس اور رضائے الٰہی ہو، اور جب متعلم کا ہدف صرف معلومات حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اپنے باطن کو سنوارنا ہو، تو پھر یہی تعلیم ایک ایسی طاقت بن جاتی ہے جو فرد کو بھی بدل دیتی ہے اور معاشرے کو بھی۔ لیکن جب یہی عمل اخلاص سے خالی ہو جائے، جب اس میں دنیاوی اغراض، شہرت کی خواہش یا مسابقت کا جذبہ شامل ہو جائے، تو پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ علم تو بڑھتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ خشیت کم ہوتی جاتی ہے، تقریریں تو بڑھتی ہیں مگر عمل گھٹتا جاتا ہے، اور الفاظ کی کثرت کے باوجود دلوں میں تاثیر باقی نہیں رہتی۔

مدارس کی اہمیت اور ہماری غفلت

یہ کہنا ہرگز مقصود نہیں کہ مدارس کا قیام یا ان کی کثرت کوئی منفی چیز ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی مدارس دین کے قلعے ہیں، یہی قرآن و سنت کے محافظ ہیں، اور انہی کی بدولت دینی شعور کی شمع روشن ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان اداروں کے ساتھ اس روح کو بھی زندہ رکھا ہے جس کے بغیر یہ سب محض ڈھانچے بن کر رہ جاتے ہیں؟

کیا ہم نے اپنی توجہ اس بات پر مرکوز رکھی ہے کہ یہاں سے نکلنے والا ہر فرد نہ صرف علم کا حامل ہو بلکہ عمل کا نمونہ بھی ہو، اس کے کردار میں وہ سچائی ہو جو دوسروں کو متاثر کرے، اور اس کے اندر وہ اخلاص ہو جو اس کی ہر بات کو دلوں میں اتار دے؟ اگر اس پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر جتنی بھی کثرت ہو، وہ مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتی، کیونکہ پانی کی فراوانی بھی اس وقت بے فائدہ ہو جاتی ہے جب اس میں زندگی بخشنے کی صلاحیت نہ رہے۔

فقدانِ اخلاص کے معاشرتی اثرات

اخلاص کی قلت کے اثرات معاشرے میں بڑی خاموشی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ کہیں یہ شہرت اور ناموری کی خواہش کی صورت میں سامنے آتی ہے، کہیں مسلکی تعصبات کی شکل اختیار کر لیتی ہے، کہیں علم محض مباحث اور مناظرات تک محدود ہو جاتا ہے اور کہیں تعلیم کا مقصد ہی بدل جاتا ہے۔

اور جب یہ تمام عوامل جمع ہو جاتے ہیں تو ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں دین کی باتیں تو بہت ہوتی ہیں مگر دین کی روح کمزور پڑ جاتی ہے، اور یہی وہ خطرناک مرحلہ ہوتا ہے جہاں سے زوال کی ابتدا ہوتی ہے۔ ایسے میں عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے، کیونکہ وہ الفاظ سے زیادہ کردار کو دیکھتے ہیں، اور جب کردار میں وہ سچائی نظر نہ آئے جو اخلاص کا نتیجہ ہوتی ہے، تو پھر الفاظ کی تاثیر خود بخود کم ہو جاتی ہے۔

حل: تزکیۂ نفس اور تجدیدِ نیت

اس تمام صورتِ حال کا حل نہ تو مدارس کی تعداد کم کرنے میں ہے اور نہ ہی ظاہری ڈھانچوں کو بدلنے میں، بلکہ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنی نیتوں کا جائزہ لیں، اور اس بنیاد کو مضبوط کریں جس پر پورا دینی نظام قائم ہے، یعنی اخلاص۔ جب نیت درست ہو جائے تو معمولی عمل بھی غیر معمولی اثر پیدا کرتا ہے، اور جب نیت میں کھوٹ آ جائے تو بڑے سے بڑا کام بھی اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ تھوڑے مگر مخلص افراد نے وہ کام کر دکھائے جو بڑی بڑی جماعتیں بھی نہیں کر سکیں۔

آج کا تقاضا یہی ہے کہ دینی تعلیم کو اس کی اصل روح کے ساتھ جوڑا جائے، اس میں تزکیۂ نفس کو مرکزی حیثیت دی جائے، اساتذہ اور طلبہ دونوں کے اندر اخلاص، تقویٰ اور احساسِ ذمہ داری کو بیدار کیا جائے، اور یہ شعور عام کیا جائے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ محض ایک پیشہ یا روایت نہیں بلکہ ایک امانت ہے جس کا حساب دینا ہے۔

جب یہ احساس بیدار ہو جائے گا تو مدارس کی کثرت بھی بابرکت بن جائے گی اور ان کی تاثیر بھی بڑھ جائے گی، اور جب اخلاص کی یہ شمع روشن ہو گی تو علم صرف ذہنوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دلوں میں اترے گا، کردار میں ڈھلے گا اور معاشرے کو بدلنے کا ذریعہ بنے گا، اور یہی وہ منزل ہے جس کی طرف ہمیں پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ بڑھنے کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاصِ کامل عطا فرمائے۔ (آمین)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!