| عنوان: | ظلمتِ شب میں ضو فشاں ہے تاب |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد فروغ القادری |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
وہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا
وہ جس سے لرزتا ہے شبستاں وجود
ہوتی ہے ہند و سومن کی اذاں سے پیدا
مجھے یہ جان کر حد درجہ خوشی اور قلبی مسرت ہوئی کہ اصلاحِ فکر و عمل کی عالمی تنظیم دعوتِ اسلامی (مقیم) امسال ۲۰۱۵ء میں اپنی تحریکی، تنظیمی اور دعوتی سرگرمیوں کے پچیس سالہ جشن کا اہتمام کر رہی ہے۔ جس کے لیے ملک و بیرونِ ملک سے اربابِ علم و دانش مدعو کیے گئے ہیں۔ میں اس عظیم اور بابرکت موقع پر اس تحریک کے مؤسس، امیرِ تبلیغِ اسلام و فقیہِ کبیر حضرت مولانا شاکر علی نوری اور ان کے ہمسر فدائے کار اور سلفین کو تہِ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ حضرت مولانا شاکر نوری، نگہِ بلند، سخنِ دلنواز، جہاں سوز جیسی صفات سے مرصع کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں۔ فکرِ رضا پر تڑپ جانے والوں کا کردارِ عمل ملتِ اسلامیہ کے لیے شمعِ محافل، فیضِ باب، کشادۂ کار، اور مایۂ ناز رہا ہے۔ عصرِ حاضر میں بہتی علمی اور اس کے اطراف، جوابِ لب میں فکرِ دین و ملیت کے حوالے سے ان کی سرگرمیاں حد درجہ نمایاں اور مشہودِ بنیادوں پر استوار ہیں۔ ماضیِ قریب میں اس سرزمیں پر تحریکِ دعوت کی چمکتی بہاریں نظر آتی ہیں اس کے پسِ منظر میں علامہ شاکر علی نوری کی ولولہ انگیز اور ایمان افروز جدوجہد کارفرما ہے۔ نیک سیرت، پاک، باہمت، شریف النفس، انداز میں محبوبیت، لب و لہجے میں انکساری، خلوص و محبت، بیدارِ داعی کے عظیم اوصاف سے ہیں۔
دعوتِ الی اللہ ایک اسلامی عمل اور دینی فریضہ ہے۔ دعوتی عمل میں باطل اعتقادات اور حاسد نظریات کے خلاف ایک مثبت کارروائی۔ داعی وہ ہے جو رضائے الہی کے لیے ایمان و اخلاص کے جذبے سے سرشار ہو کر اٹھے اور فکر و عمل پر چھਾ جائے۔ دعوت کا اصلی مقصد یہ ہے کہ برائیوں کے تخمینہ تدمیروں سے دور کیا جائے، دعوت دراصل تاریکی میں روشنی کا چراغ جلانا ہے تاکہ کشورِ دل انوارِ الہی اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی قوت سے آباد ہو جائے اور انسان کی داخلی دنیا میں مثبت اخلاق و خیالات کی بہار آجائے۔ مجھے یقین ہے کہ علامہ شاکر علی نوری نے اپنی والہانہ صلاحیتوں کے ذریعہ سے دعوتِ اسلامی کے آغاز سے ہی مسلکِ اعلیٰ حضرت اور اشاعتِ دین و سنت کی ایک ایسی عظیم الشان تحریک کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے جس سے مسلمانانِ ہند میں جہالت و کم مائیگی کے اندھیرے شعورِ زندگی کی روشنیوں میں قیامت کی صبح تک تبدیل ہوتے رہیں گے اور یہ دینِ حق، روحانیت، تبلیغ، تدریسی اور علمی خدمات تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ جگمگاتی رہیں گی۔
یہی آئینہِ قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گامزن وہ محبوبِ فطرت ہے
بلاشبہ امیرِ تحریکِ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا شاکر علی نوری، زہد و تقویٰ کے تذکرہ اور اصلاح کی اس صحرا نوردی میں جس وقت فراز اور دشوار گزار راہوں سے گزر رہا ہوگا اس کے لیے یہ یقینی طور پر وجہِ ظفر ہوگا۔ ان اربابِ فکر و نظر نے اپنی تحریک کی جلیل القدر مدت میں عمدہ ثابت زمانہ کے بعد مقابل، فکری، انقلابی اختلافات کی زد پر جس صبر و تحسین اور ناقابلِ تسخیر قوت و عزیمت کے ساتھ عشقِ رسالت کا پرچم لہرایا ہے، اس کے لیے یہ پورے عالمِ اسلام سے مبارکبادوں کے مستحق ہیں۔ ایک داعی اپنے دعوتی مرحلے سے گزرتے ہوئے لمحے لمحے توقعِ حالات سے نبردآزما ہوتا ہے۔ جہاں سوزِ خدا کے منتظر رہتے ہیں، مخالف قوتیں آگے بڑھنے سے روکتی ہیں، تحریک کی مثالِ قدمی کے ساتھ ساتھ ان کی مزاحمتِ ازالہ شدہ، سر ہوتی چلی جاتی ہے۔ حالات کے اس پسِ منظر میں آج سے پچیس سال پہلے حضرت علامہ شاکر علی نوری اپنے چند جاں نثار اور وہ کش مکش ساتھیوں کے ساتھ بغیر کسی مادی طاقت کے اپنے ہاتھوں میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور غلبۂ دینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا چراغ لے کر دورِ برِ صغیر ہند کے لاکھوں افراد کے دلوں میں غلامِ اسلام کے خاکِ دابی زندگی کا نصب العین بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر دیں۔
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے، ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی
اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پانے والے اصحابِ ضمیر ہر دور میں اپنی فکری رفعتوں اور ذہنی وسعتوں کے تخیل کو خود تلاش کرتے ہیں۔ ان کی کامیابی، ان کی منزلِ مرکز کسی غیر کی رہینِ منت نہیں۔ بلکہ یہ ان کی اپنی کوششوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آج کے اس ایماں افروز کام کا سہرا ہے کہ ملک و بیرونِ ملک دینِ اسلام کے بارے میں شعورِ نو اور ایک نئی نسل میں نہایت ہی افتخار کے ساتھ یہ کہنا چاہوں گا کہ ہمارے خلاف سب سے بڑی دلیل مستشرقینِ یورپ کا لٹریچر اور مغرب کے الزامات ہی ہیں، بلکہ خود ہمارے اندر عمل، ہمارا طرزِ فکر، ہمارا باہمی انتشار و افتراق ہے۔ ہم نے بھی کبھی اسلامی دعوت کی اہمیت و سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ ہر جگہ ملک و بیرونِ ملک میں اقلیتی لوگ بن کر ملتِ سنتِ جماعت کو جو افسوس ناک المیہ ہے وہ نہ ہوتا۔
سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن میں حیات
میں گزشتہ کالم میں دہائیوں سے اہل سنت و جماعت کی بین الاقوامی تنظیم ورلڈ اسلامک مشن، انگلینڈ کے بانی، اس کے مرکزی قائدین، سزاوارِ استاذ خطیبِ اعظم سیدی علامہ قمر الزمان اعظمی مدظلہ العالی، مفکرِ ملت، ماہرِ لسانیات، حضرت علامہ شاہد رضا نعیمی، زید مجدہ الکریم کے زیرِ نگرانی بیاں ہوں۔ مجھے اس کا براہِ راست اندازہ ہے کہ خود مسلم اکثریت کا علاقہ ہو یا مشرق و مغرب کے وہ ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ دعوتِ اسلامی کا ایک دشوار گزار مرحلہ ہے۔ خاص کر مغرب میں اسلامک مشن کا کام خاصا مشکل ترین امر ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یورپی تہذیب کا ارتقا اس بنیاد پر رہا ہے کہ انسان اب ذہنی و فکری طور پر بالغ ہو چکا ہے۔ اور اسے کسی کی ضرورت اب نہیں رہ گئی کہ وہ انسانی مسائل کے حل کے لیے کسی مافوقِ الفطرت کی طرف رجوع کرے۔ اس طرح کا ذہنی الحاد ان دنوں مغرب میں بہت تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مغربی تہذیب اور اس کے نظریات کا اثر ہے کہ جہاں مذہب کی ضرورت انسان کی روزمرہ زندگی میں محسوس نہیں کی جاتی، ساتھ ہی یہاں یورپ میں بعض صالح و واقعاتی شعور واقعات کا بھی ردِ عمل ہے کہ جس کی وجہ سے مغربی قیام کے لیے مذہب میں بظاہر کوئی ٹھوس نظر نہیں آتی۔ مگر اب بھی حالیہ شرق میں آباد مغربی نظریات کے حامل افراد کا جو تار ہا ہے۔
اس کے برعکس اسلام کی ابتدا احکامِ خداوندی کے اقرار اور قرآنی ہدایات کے ساتھ ہوئی ہے۔ اب ایسے اردو خیز عالم میں اسلامی دعوت کی ذمے داری انفرادی اور اجتماعی طور پر کر دیے جانے والی ہے، اس سے یقینی طور پر سواِ اہم کہ اربابِ علم و اقتدار نہیں کر سکتے۔ ہمارا حق ہے کہ کسی بھی ملک سے ہو، مگر بحیثیتِ امت یہ بات اپنی جگہ قدرِ مشترک ہے کہ ہمیں اپنی حقیقتِ تاریخی، بہر اپنے حقیقی مقاصد کی کامیابی کے لیے سرتاپا جدوجہد کرنا ہوگا۔ اسلام کو اس دورِ جدید میں میڈیا ہی ہے وہ پا کے ضد سے قطعِ نظر مؤثر ترین علمی اور عملی پہلو بناتے ہوئے ہمیں تازہ ترین حالات کا سامنا ہے اس کا باضابطہ حل ہمیں اسی تلاش کرنا چاہیے، اس دنیا میں اسلام کے لیے کا حقیقی خواب اس میں مضمر ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں اپنے آپ کو قطعِ تعلقی سے باہر نکالنا ہوگا۔ اس کے بغیر دین و ایمان اور تہذیب و معاشرت کا تحفظ ممکن نہیں۔ نئی نسلیں ہماری اپنی کوتاہی فرش کے نیچے ہیں ہم سے متنفر ہو رہی ہیں اور مسلمانوں کی باہمی حیثیت ایک جزیرے کے لیے ہے جو انتہائی مخالف طوفان کی موجوں کے درمیان گھر گیا ہے، جسے اب لد اب نہیں اور نصرتِ خداوندی ہی ڈوبنے سے بچا سکتی ہے۔
اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا
شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس
جس سے چمن افسردہ ہو یادِ سحر کیا
[اقبال]
نئی نسلوں، خصوصاً نوجوانوں کی دینی، علمی اور اعتقادی اصلاحات کے لیے امیرِ سنی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ شاکر علی نوری نے جلسے، محافل اور اجتماعات کے علاوہ انگریزی، اردو اور دیگر زبانوں میں کتابوں کی اشاعت کو بھی اہتمام فرمایا ہے جو بقیہ خوش آئند اور امید افزا بات ہے۔ آمین۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی مخلصانہ قیادت اور دعوتِ فکر و عملوں کے نتیجے میں سنی و عقیدت اسلامی کو اپنی ارتقائی منازل کی بہت ساری بہاریں ابھی دیکھنی ہیں۔ دین کے خدمت گزاروں کو ان کی خدمات کا صلہ عالمِ غیب سے عطا کیے جاتے ہیں۔
میں اپنے اس اعتراف میں حق بجانب ہوں کہ جنابِ آشیف امیر سنی دعوتِ اسلامی صاحب قبلہ، سیکرٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن انگلینڈ کے ولولہ انگیز خطاب نے بھی سنی دعوتِ اسلامی سے مربوط ہزاروں نوجوانوں کے دلوں میں علاتی روح پھونک دی۔ خصوصاً وہی نورِ کارِ میدانِ ابہی کے سہارے اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ان قدیم مدرسوں اربابِ اہل سنتہ کچھ کر بھی اہتمامِ شوق کی تشنگی محسوس کرتے ہیں۔ اس جذبِ جنون اور شوقِ فراوانی کے عالم میں ان کی خطابت کا سحر آج بھی باقی ہے۔ علامہ اعظمی اپنی پاکیزہ سرشت میں محض مشوروں کو پرزور کرنے والے ایک شعلہ بار خطیب ہی نہیں بلکہ وہ باوقار کردار و عمل کے حامل ایک نابغہ شب زندہ دار بھی ہیں۔ امتِ اسلامیہ کے زوال اور اس کی زبوں حالی کے غم میں ان کی برستی آنکھیں کا انتشار اور دردِ مند دل کا اضطراب ہم نے اکثر دیکھا ہے۔ انہوں نے خطابت کے اصول و نظری کے حصول کے لیے امتِ اسلامیہ کے انتہائی مسائل کو حد درجہ اہمیت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بحرانِ خطابت اپنے مقتوع اب وجیہ پوری قوم کو اپنی فکرِ اور عملی صلاحیتوں کو رواج دے کر ہوئے اسلامی اقلامِ ملت کی تعمیر اور تشکیلِ جدید کے لیے ہر لمحہ، ہر پل کوشان رہنے کی دعوت دیتے ہیں۔ علامہ اعظمی کی خطابت کا کوئی بھی ایسا مرحلہ بھی نظروں سے نہیں گزرا جہاں انہوں نے عالمی سطح پر مسلمانوں کے کربِ خیز مسائل کا تذکرہ شدتِ احساس کے ساتھ نہ کیا ہو، انہوں نے مشرق و مغرب میں پھلی ہوئی برائیوں کے اسباب کا نہایت ہی قریب سے جائزہ لیا ہے، جہاں وہ جدید معاشرے پر واضح لفظوں میں تنقید فرماتے ہیں، وہیں قومِ ملت کی نوجوان نسلوں کو ایک نمایاں خطوطِ کارِ عقلی شعور اور مستقبل کی راہوں میں انسانی عظمت کے تحفظ کے لیے ایک نئی فکری بصیرت بھی عطا فرماتے ہیں۔ مفکرِ اسلام حضرت علامہ اعظمی کی قد آور آواز جب افق کے کناروں سے گونجتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے دشت و جبل میں زندگی کی دھڑکنیں دوڑ گئی ہوں۔ کالمِ رب میں کالمِ مکمل آگہی ہوں۔ ان کا ہر جملہ انسانی خیال کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں سرور و ابصار کے آثارِ سنائی دیتا ہے۔ اور ایک خطِ راہ کے نقشے ڈالے ہوئے ہیں۔ وجدان ایک لمحے کے لیے بھی کہیں اور متوجہ نہیں ہوتا۔ روحِ اللہ کی زبان بولتے ہیں، ان کا نقطہ نظر ادبِ لطیف کے حصار میں ڈوبا ہوتا ہے، جملہ چاہے جس قدر طویل ہو، مگر فعل، متعلقات، مبتداء خبرِ سب ایک خاص معنویت کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں۔ جسے اپنی جگہ سے ہٹایا نہیں جا سکتا، کہیں کہ وہ زبانِ ادب کی جہا بلندی سے بولتے اور مخاطب کرتے ہیں کہ اس میں مزید ترفع کی گنجائش نہیں رہتی۔ دعا ہے کہ رب کریم حضورِ فکرِ اسلام علامہ اعظمی کے سایہِ ظلِ عاطفہ کو اہل سنت کے افق پر تا دیر باقی رکھے۔ آمین۔
میں اخیر میں "کتابِ ملتِ بیضا" کی شیرازہ بندیوں کے لیے نئے عصری تقاضوں اور وسائل سے ہم آہنگ ایک نئے متبادل طریقے عمل کو اپنے دعوتی اور تحریکی جدوجہد کے ذریعہ معاشرے میں عام طور پر سنی دعوتِ اسلامی کے امیر، معاونین اور اربابِ دل ملتِ سنت کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
