| عنوان: | فتاویٰ و رسائل رضویہ کی خصوصیات (قسط: ششم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا مفتی محمد کمال الدین مصباحی اشرفی |
| پیش کش: | عائشہ صدیقہ بنت مجیب احمد |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
استفتاء:
از: حیدرآباد دکن، مرسلہ صاحبزادہ سید احمد اشرف میاں کچھوچھہ شریف، 3 محرم الحرام 1314ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ بندوق کی گولی سے مارا شکار حلال ہے یا حرام؟ کیا گولی کو حلت صید (شکار) میں تیر کا حکم ہے یا نہ؟ لمبی شکل کی جو گولیاں ہوتی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟
بَيِّنُوا تُؤْجَرُوا
الجواب:
بندوق کی گولی دربارۂ حلت صید حکم تیر میں نہیں۔ اس کا مارا ہوا شکار مطلقاً حرام ہے کہ اس میں قطع و خرق نہیں۔ صدم و دق و کسر و مرق ہے۔ شامی میں ہے:
لَا يَخْفَى أَنَّ الْجُرْحَ فِي الرَّصَاصِ إِنَّمَا هُوَ بِالْإِحْرَاقِ، وَالثِّقَلُ يُوَافِقُهُ عِنْدَ قُوَّتِهِ الْعَنِيفَةِ فَلَيْسَ لَهُ حَدٌّ فَلَا يَحِلُّ وَبِهِ أَفْتَى ابْنُ نُجَيْمٍ
-
اولاً: مطول شکل کی جو گولیاں ہیں وہ بھی دھار دار نہیں ہوتیں بلکہ تقریباً بیضوی شکل پر بنی جاتی ہیں۔ اور آلہ کا حدید یعنی تیز ہونا اگرچہ شرط نہیں مگر محدد یعنی باڑھ دار ہونا جس سے قابل قطع و خرق ہو ضرور ہے۔
-
ثانیاً: اگر بالفرض گولی تیر کی طرح دھار دار ہی بنائی جائے اور اسے بطور معہود بندوق سے سر کرے۔ جب بھی ثبوت حلت میں نظر ہے، تو صرف دھار دار کا وجود ہی کافی نہیں۔ بلکہ تیقن بھی ضروری ہے کہ اس کی دھار سے قطع ہونا ہی باعث قتل ہوا۔ اور یہاں ایسا نہیں کہ اس کا احراق و صدمۂ شدید قاتل ہے۔
كَمَا سَمِعْتَ آنِفًا
تو محتمل کہ یہی وجہ قتل ہوا ہو، قطع نہیں اور بحالت شک و احتمال حکم حرمت ہے۔ ہدایہ میں ہے:
الْأَصْلُ فِي هَذِهِ الْمَسَائِلِ أَنَّ الْمَوْتَ إِذَا كَانَ مُضَافًا إِلَى الْجُرْحِ بِيَقِينٍ كَانَ الصَّيْدُ حَلَالًا، وَإِذَا كَانَ مُضَافًا إِلَى الثِّقَلِ بِيَقِينٍ كَانَ حَرَامًا، وَإِنْ وَقَعَ الشَّكُّ فَلَا يُدْرَى مَاتَ بِالْجُرْحِ أَوْ بِالثِّقَلِ كَانَ حَرَامًا احْتِيَاطًا
اسی میں ہے:
لَا يُؤْكَلُ مَا أَصَابَتْهُ الْبُنْدُقَةُ فَمَاتَ بِهَا لِأَنَّهَا تَدُقُّ وَلَا تَجْرَحُ، فَكَذَلِكَ إِنْ رَمَاهُ بِالْحَجَرِ فَكَذَلِكَ، وَإِنْ جَرَحَهُ قَالُوا إِذَا كَانَ ثَقِيلًا وَبِهِ حِدَّةٌ لِاحْتِمَالِ أَنَّهُ قَتَلَهُ بِثِقَلِهِ إِلَخْ. وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ
[فتاویٰ رضویہ، ج: 8، ص: 381، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]
روسر کی تیار کردہ شکر کا حکم:
انگریزوں کی ایک کمپنی “روسر” شکر تیار کرتی تھی، اس کمپنی میں جن ہڈیوں کے ذریعہ شکر صاف کیا جاتا تھا ان میں احتیاط نہیں کی جاتی تھی کہ وہ ہڈیاں پاک ہوں یا ناپاک، حلال جانوروں کی ہوں یا مردار کی۔ نیز یہ بھی مشہور تھا کہ اس میں شراب بھی پڑتی تھی یا ان چیزوں کا اس میں استعمال ہوتا تھا جن میں شراب کا امتزاج ہوتا تھا۔ اس کمپنی کی تیار شدہ شکر کے بارے میں امام احمد رضا قدس سرہ سے استفتاء کیا گیا اور اس کے استعمال کا حکم شرعی پوچھا گیا۔ آپ نے پوری تحقیق کے ساتھ اس کا مفصل جواب دیا جو کہ فتاویٰ رضویہ کے تقریباً 38 صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ جواب دینے سے پہلے آپ نے دس مقدمے بطور تمہید بیان کیے اور ہر مقدمہ کا ثبوت احادیث کریمہ اور تصریحات فقہاء سے پیش کیا۔ پھر اس کے بعد تفصیلی حکم بیان فرمایا۔ ان مقدمات عشرہ و قواعد کلیہ کی روشنی میں آپ نے اس کمپنی کی تیار کردہ شکر کے بارے میں تحقیقی و تفصیلی جواب دیا، پھر اخیر میں نوپید مسائل کے حکم شرعی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بطور تنبیہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی ان مقدمات عشرہ کو ذہن نشین کر لے گا اور خوب خوب سمجھ لے گا تو وہ اس قسم کے تمام جزئیات مثلاً بسکٹ، نان، پاؤ، رنگت کی پڑیوں اور یورپ کے آئے ہوئے دودھ، مکھن، صابن، اور مٹھائی وغیرہ کے احکام شرعی خود جان سکتا ہے۔ ذیل میں اختصار کے پیش نظر ان مقدمات سے قطع نظر کرتے ہوئے ہم صرف تفصیلی جواب کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں، پہلے استفتاء ملاحظہ ہو۔
استفتاء:
از بارہ بنکی مرسلہ شیخ عبد الجلیل پنجابی، 1303ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روسر کی شکر جو ہڈیوں سے صاف کی جاتی ہے اور صاف کرنے والوں کو کچھ احتیاط اس کی نہیں کہ وہ ہڈیاں پاک ہوں یا ناپاک، حلال جانور کی ہوں یا مردار کی، اور سنا گیا ہے کہ اس میں شراب بھی پڑتی ہے۔ اسی طرح کل کی برف اور کل وہ چیزیں جن میں شراب کا لگاؤ سنا جاتا ہے، شرعاً کیا حکم رکھتی ہیں؟
بَيِّنُوا تُؤْجَرُوا
[فتاویٰ رضویہ، ج: 8، ص: 87]
روسر کی شکر کے بارے میں آپ کا تحقیقی جواب:
تفصیلی جواب:
کل کے برف میں شراب ملنے کی خبر قابل غور و واجب نظر، اب مقدمہ 4، 5 کی تقریریں پیش نگاہ رکھ کر لحاظ درکار۔ اگر یہ اخبار افواہ بازار یا منتہائے سند بعض مشرکین و کفار ہیں تو بالکل مردود و محض بے اعتبار۔ ہاں صورت اخیرہ میں اگر ان کا صدق دل پر جمے تو احتیاط بہتر تاہم گناہ نہیں، اور اتنا بھی نہ ہو تو اصلاً پرواہ نہیں۔ اور اگر فساق، بد اعمال، یا مستور الحال کی خبر ہو تو شہادت قلب کی طرف رجوع معتبر، اگر دل اس امر میں ان کے کذب کی طرف جھکے تو کچھ بات نہیں مگر احتراز افضل، کہ آخر مسلمان ہیں، عجب کیا کہ سچ کہتے ہوں، خصوصاً مزدور کہ اس کی عدالت معلوم نہیں، تو فسق بھی ثابت نہیں۔ اور اگر قلب ان کے صدق پر گواہی دے تو بے شک احتراز چاہیے کہ ایسے مقام پر تحری حجت شرعیہ ہے اگرچہ وہ خبر فی نفسہٖ حجت نہ تھی مگر یہاں ممانعت کا درجہ حرمت قطعیہ تک تجاوز نہ کرے گا۔
لِأَنَّ التَّحَرِّيَ مُحْتَمِلٌ لِلْخَطَاءِ كَمَا فِي الْهِدَايَةِ وَالظُّنُونُ رُبَّمَا تَكْذِبُ كَمَا فِي الْحَدِيثِ
اور وہ بھی اسی کے حق میں جس کا دل ان کے صدق کی طرف جائے۔
فَإِنَّ شَهَادَةَ قَلْبِكَ لَيْسَ حُجَّةً إِلَّا عَلَيْكَ وَذَلِكَ فِي الْقَاطِعِ كَالْوِجْدَانِ فَكَيْفَ بِالظُّنُونِ
پس اگر دوسرے کے دل پر ان کا کذب جمے اس کے حق میں وہی پہلا حکم ہے کہ احتراز بہتر ورنہ اجازت۔ ہاں اگر اس قدر جماعت کثیر کی خبر ہو جن کا کذب پر اتفاق عقل تجویز نہ کرے تو بے شک علی الاطلاق حرمت قطعی کا حکم دیا جائے گا اور اس کے سوا کسی امر پر لحاظ نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ سب مخبر فساق و فجار بلکہ مشرکین و کفار ہوں۔
فَإِنَّ الْعَدَالَةَ بَلْ وَالْإِسْلَامَ أَيْضًا لَا يُشْتَرَطُ فِي التَّوَاتُرِ عِنْدَ الْجُمْهُورِ خِلَافًا لِلْإِمَامِ فَخْرِ الْإِسْلَامِ عَلَى مَا اشْتُهِرَ إِلَخْ
اسی طرح اگر منتہائے سند مسلمان عادل اگرچہ ایک ہی ہو جب بھی احتراز واجب اور برف حرام و نجس، مگر یہ ضرور ہے کہ وہ خود اپنے معائنہ سے خبر دے، ورنہ سنی سنائی کہنے میں اس کا قول خود اس کا قول نہیں۔
حاصل یہ ہے کہ جب خبر معتبر شرعی سے ثابت ہو جائے کہ شراب اس کی ترکیب کا جز ہے تو برف کی حرمت و نجاست میں کلام نہیں اور علی العموم اس کے تمام افراد ممنوع و محذور اور یہ احتمال کہ شاید فرد خاص میں نہ پڑی ہو محض مہمل و مہجور کہ یہ ما ہو محذور میں یقین نوعی کلی ہے اور ایسی جگہ یہ احتمالات یک لخت مضمحل و غیر کافی، یہاں تک کہ ایسی شے کا دوا میں بھی استعمال ناروا مگر جب اس کے سوا دوا نہ ہو اور یقین کامل ہو کہ اس سے قطعاً شفا ہو جائے گی جیسے بحالت اضطرار پیاسے کو شراب پینا یا بھوکے کو گوشت مردار کھانا، شرع مطہر نے جائز فرمایا کہ اس سے پیاس اور اس سے بھوک کا جانا یقینی ہے، نہ مجرد قول اطباء کہ ہرگز موجب یقین نہیں۔ اور اگر ایسی خبر سے ثبوت نہیں تو غایت درجہ اس قدر کہ بحکم تورع و اجتناب شبہات احتراز کرے، مگر تحریم و تنجیس کا حکم بے دلیل شرعی ہرگز روا نہیں۔ قدر بیان اس کا آگے گزرا اور ان شاء اللہ تعالیٰ خاتمہ رسالہ میں ہم پھر اس طرف عود کریں گے۔
یہ تو اصل حکم فقہی ہے، اب واقعہ پر نظر کیجیے تو اس خبر کی کچھ حقیقت پائے ثبوت کو نہیں پہنچتی، نہ اس پانی میں جسے منجمد کرتے ہیں شراب ملانے کی کوئی وجہ معلوم ہوتی ہے، تو برف پر حکم جواز ہی ہے۔ ہاں انگریزی دواؤں میں جتنی دوائیں رقیق ہوتی ہیں جنہیں ٹنکچر کہتے ہیں ان سب میں یقیناً شراب ہوتی ہے وہ سب حرام بھی ہیں اور ناپاک بھی، نہ ان کا کھانا حلال، نہ بدن پر لگانا جائز۔ مسلمان اسے خوب سمجھ لیں اور ڈاکٹری علاج میں ان ناپاکیوں، نجاستوں سے بچیں، خصوصاً سخت آفت اس وقت ہے کہ ان علاقوں میں قضا آ جائے اور مسلمان اس حالت میں مرے کہ معاذ اللہ اس کے پیٹ میں شراب ہو۔ اسی طرح بے شک اس شکر کا ہڈیوں سے صاف کیا جانا ایسا یقینی ہے جس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں، مگر:
-
اولاً: غور واجب ہے کہ اس تصفیہ میں ہڈیوں پر شکر کا صرف مرور و عبور ہوتا ہے، بغیر اس کے ان کے کچھ اجزاء شکر میں رہ جاتے ہوں جس طرح پانی کو کوئلوں اور ہڈیوں سے متقاطر کر کے صاف کرتے ہیں کہ برتن میں ستھرا پانی شفاف آ جاتا ہے اور گوشت و استخواں کا کوئی جز اس میں شریک نہیں ہونے پاتا، جب تو اس شکر کی حلت کو صرف ان ہڈیوں کی طہارت درکار ہے اگرچہ حلال و ماکول نہ ہوں۔
كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى عَاقِلٍ وَذَلِكَ لِأَنَّهُ لَمْ يَخْتَلِطْ بِالْحَرَامِ فَيَتَمَحَّضُ فِي الْأَكْلِ وَالْمُرُورُ عَلَى طَاهِرٍ وَلَوْ حَرَامٍ لَا يُورِثُ مَنْعًا
اور در صورت مرور ظاہر یہی ہے کہ منافذ کو تنگ کر کے اور بطور تقاطر اس کو عبور دیتے ہوں کہ ازالہ کثافت کی ظاہراً یہی صورت، ہڈیوں پر صرف بہاؤ میں نکل جانا غالباً باعث تصفیہ نہ ہوگا۔ تو اس تقدیر پر در صورت نجاست استخواں عصیر و حرمت شکر میں شک نہیں ورنہ بلا ریب طیب و حلال۔ اور اگر اجزائے استخواں پیس کر اس میں ملائیں اور وہ مخلوط و غیر ممیز ہو کر اس میں رہ جاتے ہیں تو حلت شکر کو ان ہڈیوں کی حلت بھی ضرور، صرف طہارت کفایت نہ کرے گی اور اگر غیر ماکول یا مردار کے استخواں ہوئے تو اس تقدیر پر شکر کے ساتھ ان کے اجزاء بھی کھانے میں آئیں گے۔
لِلِاخْتِلَاطِ وَعَدَمِ الِامْتِيَازِ
اور ان کا کھانا گو طاہر ہوں حرام، تو شکر بھی حرام ہو جائے گی۔
فِي الدُّرِّ الْمُخْتَارِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْأَسْفَارِ لَوْ تَفَتَّتَ فِيهِ نَحْوُ ضِفْدَعٍ جَازَ إِلَّا الْوُضُوءُ بِهِ لَا شُرْبُهُ لِحُرْمَةِ لَحْمِهِ إِلَخْ
روسر کی جس شکر کا حال تحقیقاً معلوم کہ یہ بالخصوص کیوں کر بنی ہے اس کے تفاصیل احکام ہماری اس تقریر سے ظاہر ہیں اور استخواں کی طہارت، نجاست، حلت، حرمت کا حکم پہلے معلوم ہو چکا۔
-
ثانیاً: کیف ما کان ان خیالات پر مطلق شکر روسر کو نجس و حرام کہہ دینا صحیح نہیں بلکہ مقام اطلاق میں طہارت و حلت ہی پر فتویٰ دیا جائے گا وقتیکہ کسی صورت کا خاص حال تحقیق نہ ہو کہ اس قدر سے تمام افراد کی نجاست و حرمت پر یقین نہیں، صرف ظنون و خیالات ہیں، جنہیں شرع اعتبار نہیں فرماتی۔ مانا کہ بنانے والے بے احتیاط ہیں، مانا کہ انہیں نجس و طاہر، حلال و حرام کی پرواہ نہیں، مانا کہ ہڈیوں میں وہ بھی پائی جاتی ہیں جن کے اختلاط سے شے حرام یا نجس ہو جائے مگر نہ سب ہڈیاں ایسی ہی ہیں بلکہ حلال و طاہر بھی بکثرت، نہ بنانے والوں کو خواہی نخواہی التزام کہ خاص ایسے ہی طریقہ سے صاف کریں جو موجب تحریم و تنجیس ہو، نہ کچھ ناپاک یا حرام ہڈیوں میں کوئی خصوصیت کہ انہیں تصفیہ میں زیادہ دخل ہو جس کے سبب وہ لوگ انہیں کو اختیار کریں اور جب ایسا نہیں تو صرف اس قدر یقین حاصل ہوا کہ ہڈیوں سے صاف کرتے ہیں کیا ممکن نہیں کہ وہ ہڈیاں طاہر و حلال ہوں الیٰ آخرہ۔ [دیکھو مقدمہ: 9]
خاتمہ:
بحمد اللہ تعالیٰ ہم نے اس شکر کے بارے میں ہر صورت پر وہ واضح و مبین کلام کیا کہ کسی پہلو پر حکم شرعی مخفی نہ رہا، اب اہل اسلام نظر کریں اگر یہاں ان صورتوں میں سے کوئی شکل موجود، جن پر ہم نے حکم حرمت دیا تو وہی حکم ہے ورنہ مجرد ظنون و اوہام کی پابندی محض تشدد و ناواقفی ہے۔ نہ بے تحقیق کسی شے کو حرام اور ممنوع کہہ دینے میں کچھ احتیاط بلکہ احتیاط اباحت اصلیہ میں ہے جب تک دلیل خلاف واضح نہ ہو۔
[فتاویٰ رضویہ، ج: 8، ص: 117 تا 123]
