Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

علامہ مفتی احمد یار خاں بدایونی علیہ الرحمہ (قسط: دوم)|علامہ محمد احمد مصباحی

علامہ مفتی احمد یار خاں بدایونی علیہ الرحمہ (قسط: دوم)
عنوان: علامہ مفتی احمد یار خاں بدایونی علیہ الرحمہ (قسط: دوم)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

طرزِ تعلم

مفتی صاحب کا طرزِ تحصیل وہی تھا جو ایک سچے خواستگارِ علم کا ہونا چاہیے۔ آنے والے ہر سبق کا شب میں بڑی محنت و جاں فشانی سے مطالعہ کرتے۔ ایسا بھی ہوتا کہ چراغ کے لیے مدرسہ سے ملا ہوا تیل نصف شب تک ختم ہو جاتا تو وہ گلی میں لگی ہوئی بتی کی روشنی میں جا کر کتاب دیکھتے۔ ایک بار رات کو طلبہ کے شور و غل کے سبب مطالعہ نہ کر سکے، صبح کو سبق سمجھ میں نہ آیا تو مضطرب ہو گئے۔ استاذِ گرامی کو معلوم ہوا تو ان کی قیام گاہ الگ کر دی اور سبق میں باوضو شرکت کرنے کی ہدایت فرمائی۔ مفتی صاحب نے ہمیشہ اس کی پابندی کی۔

سبق پڑھنے کے بعد تکرارِ سبق کی بھی پابندی کرتے اور اس طرح کہ استاذ کی پوری تقریر رفقائے درس کو سنا دیتے۔ مزید اعتراضات و جوابات بھی پیش کرتے۔ کہیں شبہ ہوتا تو استاذ کی مجلس میں حاضر ہو کر رفعِ شکوک کرا لیتے۔ اگر ان کی بیان کردہ بات غلط ثابت ہوتی تو ساتھیوں میں آ کر اس کا برملا اعتراف کرتے۔ اس سلسلے میں خود فرمایا کرتے تھے: “میں جب تک اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کر لیتا، میرے ذہن میں ایک ہیجانی کیفیت برپا رہتی ہے۔”

دورِ تدریس

1۔ دستارِ فضیلت باندھنے کے بعد ہی حضرت صدر الافاضل نے جامعہ نعیمیہ میں مفتی صاحب کو تدریسی خدمات سپرد کر دیں۔ تھوڑے ہی عرصے میں مفتی صاحب کی تدریسی قابلیت لوگوں کے سامنے نمایاں ہو گئی اور افتا کی خدمت بھی انہیں کے سپرد کر دی گئی۔

2۔ قریباً ایک سال بعد دارالعلوم مسکینیہ دھوراجی (گجرات) سے صدر الافاضل کے پاس ایک ایسے عالمِ دین کے لیے درخواست آئی جو تدریس، فتویٰ اور خطابت وغیرہ کی خدمات عمدہ طریقے سے انجام دے سکیں، حضرت صدر الافاضل نے مفتی صاحب کو وہاں بھیج دیا۔ اس دارالعلوم میں مفتی صاحب نے نو سال تک دینی خدمات انجام دیں، متعدد بار دورہٴ حدیث کرایا اور بیسوں طلبہ ان کی درس گاہِ فیض سے فارغ التحصیل ہوئے۔ ایک مرتبہ مدرسہ مسکینیہ مالی مشکلات کا شکار ہوا اور مفتی صاحب کو کچھ دوسری پریشانیاں بھی لاحق ہوئیں، جن کے باعث مدرسہ چھوڑ کر اپنے وطن اوجھانی چلے گئے اور صدر الافاضل کو خط لکھ دیا۔

3۔ صدر الافاضل نے دوبارہ انہیں جامعہ نعیمیہ میں بلا کر تدریسی خدمات سپرد کر دیں۔

4۔ قریباً ایک سال پھر وہاں مدرس رہے ہوں گے کہ شیخ المشائخ حضرت شاہ سید علی حسین صاحب اشرفی میاں علیہ الرحمہ نے مدرسہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف کے لیے صدر الافاضل سے ایک قابل مدرس طلب کیا، صدر الافاضل نے وہاں مفتی صاحب کو بھیج دیا۔ انہوں نے یہاں ربیع الاول 1355ھ بمطابق 1936ء سے جمادی الآخرہ 1358ھ بمطابق 1939ء تک علمی و دینی خدمات انجام دیں، پھر بعض وجوہ کی بنا پر مدرسہ چھوڑ کر اپنے وطن اوجھانی چلے گئے اور صدر الافاضل کی خدمت میں اطلاع بھیج دی۔

5۔ اس کے بعد صدر الافاضل نے علامہ سید ابوالبرکات علیہ الرحمہ (متوفی 1398ھ/1978ء) کی وساطت سے مفتی صاحب کو بھکھی ضلع گجرات (پاکستان) میں مولانا سید جلال الدین شاہ کے دارالعلوم میں روانہ کیا، مگر مفتی صاحب کو وہاں کوئی دلچسپی نہ پیدا ہو سکی، اس لیے وہ لاہور پہنچ کر وطن جانے کے لیے آمادہ ہو گئے۔

6۔ مگر سید محمود شاہ رحمتہ اللہ علیہ، سید ابوالبرکات صاحب قبلہ کی وساطت سے مفتی صاحب کو انجمن خدام الصوفیہ (گجرات، پاکستان) کے دارالعلوم کے لیے آمادہ کر کے گجرات لے گئے، پھر وہ گجرات کے ہو گئے اور گجرات ان کا ہو گیا۔ علمِ میراث کے علاوہ مفتی صاحب کی تمام تصنیفات اسی دارالعلوم میں تصنیف ہوئیں، اس لیے یہ دور علمی اعتبار سے انتہائی اہم خصوصیت کا حامل ہے۔

شعر و سخن

شعر و سخن سے مفتی صاحب کو گہرا لگاؤ تھا، “سالک” تخلص فرماتے تھے۔ ان کا مجموعہٴ کلام “دیوانِ سالک” کے نام سے پاکستان سے شائع ہو چکا ہے۔ فنِ شعر سے ان کی وابستگی کا واقعہ بھی خاصا دلچسپ ہے۔ 1355ھ بمطابق 1936ء میں جب وہ کچھوچھہ شریف شیخ الحدیث کی حیثیت سے پہنچے تو حکیم سید نذیر اشرف صاحب فاضل سے ملاقات کے لیے گئے۔ حکیم صاحب نے ابتدائی ذکر و تعارف کے بعد برملا سوال کیا: “آپ کو شعر و سخن سے بھی لگاؤ ہے؟” مفتی صاحب نے نفی میں جواب دیا تو بولے: “آپ نصف عالم معلوم ہوتے ہیں”۔ حکیم صاحب کی یہ بات اس انداز سے مفتی صاحب کے دماغ پر چھا گئی کہ انہوں نے باقاعدہ فنِ شعر گوئی کی تحصیل کی اور حکیم صاحب سے برابر اصلاح لیا کرتے، اس طرح جلد ہی ایک باکمال شاعر بھی ہو گئے۔

بیعت و ارادت

مفتی صاحب نے حضرت صدر الافاضل سے بیعت و ارادت کا شرف حاصل کیا اور خلافت حضرت مولانا الحاج سید شاہ محی الدین اشرف عرف اچھے میاں علیہ الرحمہ سے پائی۔ شیخ المشائخ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ سے بھی براہِ راست اکتسابِ فیض کیا تھا۔ اگرچہ اس کی مدت پانچ ماہ سے زیادہ نہ رہی (کیونکہ ربیع الاول 1355ھ میں مفتی صاحب کچھوچھہ تشریف لائے اور 11 رجب 1355ھ کو اشرفی میاں علیہ الرحمہ کا وصال ہو گیا) لیکن اس کے باوجود حضرت کی نگاہ میں مفتی صاحب کا ذوقِ عرفان ایسا راسخ ہو چکا تھا کہ آخری غسل اور تجہیز و تکفین کے لیے حضرت مفتی صاحب ہی کو سربراہ بنانے کی وصیت فرمائی، یہ ایک ایسا اعزاز تھا جس پر اکابر علما و مشائخ دم بخود تھے۔ [مقالاتِ مصباحی، ص: 354 تا 356]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!