| عنوان: | علامہ مفتی احمد یار خاں بدایونی علیہ الرحمہ (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
خانگی زندگی
مفتی صاحب کی شادی ان کے دھوراجی کے زمانہٴ قیام میں شیخوپور، ضلع بدایوں کے ایک معزز افغان خاندان میں عبداللطیف خاں کی صاحبزادی سے ہوئی۔ خطبہٴ نکاح حضرت صدر الافاضل نے پڑھایا۔ مفتی صاحب کی تمام اولاد اسی معزز خاتون کے بطن سے پیدا ہوئی۔ یہ نہایت دیندار، نیک دل اور پارسا خاتون تھیں۔ خانگی مصروفیات اور نماز و عبادت کے ساتھ ساتھ محلے کے بچے بچیوں کی ابتدائی تعلیم کا کام بھی انجام دیتیں۔ مفتی صاحب کے فرائضِ منصبی کا انہیں اچھی طرح احساس تھا، اس لیے تمام تر گھریلو ذمہ داریاں خود سنبھال لیتیں؛ اسی وجہ سے مفتی صاحب کے لیے گھر کا کوئی مسئلہ پریشانی کا باعث نہ بنتا تھا۔ یہ اپنے آبائی وطن سے ہزاروں میل دور مفتی صاحب کے ساتھ گجرات (پاکستان) میں بھی رہیں اور وہیں 23 مئی 1949ء کو اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئیں؛ ان کی ناگہانی جدائی کا مفتی صاحب کو بے حد قلق رہا۔
ایک عرصے کے بعد احباب کے مشورے اور اصرار پر حضرت مفتی صاحب نے گجرات ہی میں دوسرا نکاح کیا۔ یہ خاتون بھی انتہائی نیک نفس اور دیندار تھیں، ان کے بطن سے مفتی صاحب کی کوئی اولاد تو نہیں ہوئی مگر پہلی اہلیہ کی اولاد ہی کو انہوں نے اپنی سگی اولاد کی طرح پالا اور بے پناہ محبت دی۔
مفتی صاحب کے دو صاحبزادے ہیں: مولانا مفتی مختار احمد خاں اور مفتی اقتدار احمد خاں۔ یہ دونوں حضرات دینی خدمات میں مصروف اور اپنے والدِ گرامی کے لائق جانشین ہیں۔ ان کی چار صاحبزادیاں تھیں، جن میں سے دو منجھلی صاحبزادیاں حیاتِ مستعار پوری کر کے وفات پا چکی تھیں۔
مفتی صاحب نے اپنے لڑکے اور لڑکیوں کو بھی علم و فن سے آراستہ کیا اور ان کی مذہبی تربیت کی طرف خصوصی توجہ صرف کی۔ زندگی کے آخری سالوں میں انہیں یہ احساس زیادہ ستانے لگا تھا کہ خواتین میں علمِ دین کا فقدان ہوتا جا رہا ہے، اس لیے انہوں نے خواتین کو دینی تعلیم دینے والی ایک مخلص ٹیم خود اپنے گھر میں تیار کر دی۔ انہوں نے اپنی بڑی بہو اور چھوٹی صاحبزادی کو مشکوٰۃ اور بخاری شریف کا ترجمہ چار سال کے عرصے میں پڑھایا۔ اس کے ساتھ ہی صرف و نحو کے ضروری قواعد اور عربی بول چال کی کچھ مشق بھی کراتے رہے۔ انہیں وعظ و نصیحت کا طریقہ بھی سکھایا۔ آگے چل کر ان بیٹیوں نے دیگر خواتین اور طالبات کے لیے کلاسیں قائم کر کے انہیں پڑھانا شروع کیا۔ یہ طریقہ اس قدر فیض رساں ثابت ہوا کہ مفتی صاحب کی وفات تک تقریباً چار سو بچیاں اور خواتین ان کے گھر قائم اس “مدرسہٴ دینیات” سے علم کی پیاس بجھا کر فارغ التحصیل ہو چکی تھیں۔
ان پاکیزہ احوال کے پیشِ نظر بلا شبہ کہا جا سکتا ہے کہ مفتی صاحب کا گھرانہ اس قرآنی دعا کا سچا مظہر اور بہترین نمونہ تھا:
“اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔”
معمولاتِ زندگی
مفتی صاحب کے روزمرہ کے اعمال و اشغال میں تدریس، تصنیف، مطالعہ، درسِ قرآن، عبادات، تلاوت، اخبار بینی، تفریح اور ملاقاتیں وغیرہ شامل تھیں۔ ان تمام کاموں کے لیے انہوں نے اپنے اوقات کو بڑے سلیقے اور باقاعدگی سے تقسیم کر رکھا تھا اور ہر کام کو اس کے مقررہ وقت پر ہی انجام دیتے۔ نماز باجماعت کی سختی سے پابندی فرماتے، تکبیرِ اولیٰ کبھی فوت نہ ہونے دیتے اور سفر و حضر ہر حالت میں تہجد کی نماز بھی باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے۔ اکثر و بیشتر زبان پر درود شریف کا ورد جاری رہتا تھا۔ یہ ان کے لیے ایک روحانی غذا کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں ذرا سا موقع ملتا درود پاک کا ورد شروع کر دیتے، یہاں تک کہ گفتگو کے دوران جب ان کا مخاطب بات کر رہا ہوتا، تو اس مختصر وقفے میں بھی وہ خاموشی سے درود شریف پڑھ لیا کرتے تھے۔
زیارتِ روضہٴ اقدس سے بھی ان کو بے پناہ عشق اور شغف تھا۔ انہوں نے زندگی میں پانچ بار حج اور زیارتِ مدینہ منورہ کا شرف حاصل کیا۔ ایک بار دھوراجی کے زمانہٴ قیام میں اور چار بار گجرات کے قیام کے دوران۔ عوامی اور سماجی زندگی سے بھی ان کو گہری دلچسپی تھی۔ چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور حکمت کے ملے جلے انداز میں گفتگو فرماتے۔ لوگوں کے احوال پر نظر رکھتے اور ان کی اخلاقی اصلاح و ہدایت کی طرف متوجہ رہتے۔ عوامی اور خاندانی تقریبات میں شرکت فرماتے اور لوگوں کو فضول خرچی، مسرفانہ اخراجات اور غیر شرعی رسوم و رواج سے سختی سے روکتے۔ مفتی صاحب کی بے نظیر تصنیف “اسلامی زندگی” ان کے اسی مصلحانہ ذہن و فکر کی عکاس ہے۔ لوگوں کے آپسی تنازعات اور گھریلو جھگڑوں کا تصفیہ کرنے میں بھی انہیں خداداد ملکہ حاصل تھا۔ لوگ جب آپس میں لڑ جھگڑ کر مرنے مارنے پر آمادہ ہوتے، لیکن جیسے ہی وہ اپنا معاملہ مفتی صاحب کی عدالت میں لاتے، تو آپ ایسا منصفانہ اور شاندار فیصلہ فرماتے کہ فریقین خوشی خوشی گلے مل کر اور آپس میں پیار محبت سے رہنے کا عزم لے کر اٹھتے۔ [مقالاتِ مصباحی، ص: 356۔357]
