Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے (قسط: اول)

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے (قسط: اول)
عنوان: یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے (قسط: اول)
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف
منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف

اس فانی دنیا میں کسی کو ہمیشہ نہیں رہنا ہے بلکہ ایک نہ ایک دن ہر کسی کو یہ دنیا چھوڑ کر آخرت کا سفر طے کرنا ہے۔ مگر پھر بھی غافل لوگ اس فانی دنیا کی چند روزہ عیش و عشرت کی وجہ سے مسرور، موت کی سختیوں سے غافل اور دنیا کی لذتوں میں بد مست ہیں، اہل و عیال کی چند روزہ انسیت اور دوستوں کی وقتی محبت میں اندھیری قبر کی تنہائیوں کو بھولے بیٹھے ہیں۔ مگر اچانک موت کا فرشتہ آئے گا اور ان کی ساری امیدیں خاک میں مل کر رہ جائیں گی۔ کامیاب شخص وہی ہے جو موت سے پہلے خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائے، گناہوں سے نفرت کرنے لگے اور اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر کے اطاعتِ الٰہی میں مشغول ہو جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

دنیا کی زندگی کا دھوکا

افسوس ہے اس شخص پر جو چند روزہ دنیا کی زندگی کے دھوکے میں پڑ کر موت کی سختیوں، قبر کی تاریکیوں، اور حساب و کتاب کو بھول جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا کے دھوکے سے بچنے کے لیے لوگوں کو تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے:

﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ﴾ [سورۃ فاطر: 5]

ترجمۂ کنز العرفان: اے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ سچ ہے تو ہرگز تمہیں دنیا کی زندگی دھوکا نہ دے اور ہرگز تمہیں اللہ کے حلم پر وہ بڑا فریبی دھوکا نہ دے۔

اللہ عزوجل نے اس آیت میں بندوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچ ہے، مرنے کے بعد ضرور اٹھنا ہے اور ہر ایک کو اپنے اعمال کا حساب و کتاب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دینا ہے تو ایسا نہ کرنا کہ دنیا کی لذتوں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھول جاؤ۔

نقصان میں کون؟

اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَا اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴾ [سورۃ المنافقون: 9]

ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ ایسا نہ ہو کہ تم دنیا میں مشغول ہو کر دین کو فراموش کر دو اور مال کی محبت میں اپنے انجام کی پرواہ نہ کرو اور اولاد کی خوشی کے لیے آخرت کی راحتوں سے غافل رہو۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ جو ایسا کرے یعنی اس فانی دنیا کے پیچھے آخرت کی باقی رہنے والی نعمتوں کی پرواہ نہ کرے وہی گھاٹے میں ہے۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

﴿اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ اَجْرٌ عَظِيْمٌ﴾ [سورۃ التغابن: 15]

ترجمۂ کنز العرفان: تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہی ہیں اور اللہ ہی کے پاس بڑا ثواب ہے۔

محاسبۂ نفس

انسان کو کرنا چاہیے کہ ہر وقت اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نفس کے محاسبہ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے:

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ [سورۃ الحشر: 18]

ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر جان کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ تمہارے کاموں سے باخبر ہے۔

اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اپنے گزشتہ اعمال کا محاسبہ کرے۔ اسی لیے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: ”اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ ہو، تم خود اپنا محاسبہ کر لو اور اس سے پہلے کہ تمہارے اعمال تولے جائیں تم خود اپنے اعمال تول لو“۔

محاسبۂ نفس اور امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

جب رات ہوتی تو امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے قدموں پر چابک مارتے اور اپنے نفس سے کہتے تو نے آج کیا عمل کیا؟

ذرا غور کیجیے! امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جن کو حیات ہی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دے دی تھی، وہ اپنے نفس کا کس طرح محاسبہ فرما رہے ہیں۔ اور ہم خطاکار سیاہ کار انسانوں کا کیا حال ہے، رات و دن غفلت میں گزار رہے ہیں پھر بھی اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!