Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عورت: نسلوں کے ایمان کی ضامن|عرشی عطاریہ

عورت: نسلوں کے ایمان کی ضامن
عنوان: عورت: نسلوں کے ایمان کی ضامن
تحریر: عرشی عطاریہ

اللہ رب العزت نے عورت کو بے پناہ عزت و بلندی سے سرفراز فرمایا ہے۔ یہی عورت، ماں کے روپ میں نئی نسل کے ایمان و اخلاق کی ضامن ہوتی ہے۔ اولاد کی سب سے پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے، جہاں سے بچے ایمانیات اور دین کے سانچے میں ڈھل کر پروان چڑھتے ہیں۔ اگر ماں شروع سے ہی اسلام کی حقانیت کو صحیح پیرائے میں بچے کی گھٹی میں شامل کر دے، تو وہ بچہ دین کا علمبردار بنتا ہے اور معاشرے کی اصلاح کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ایمان کا محافظ بن کر ابھرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر کوئی بچہ دین سے دور، کسی فاسقہ و فاجرہ کی گود میں پرورش پائے، تو وہ دین سے ناآشنا، دنیا میں بدمست، نفس پرست اور شیطان کا آلہ کار بن کر معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ اسی لیے خواتین کے لیے علمِ دین سیکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کی جا سکے۔

ماضی کی مائیں اور آج کی ضرورت

تاریخ گواہ ہے کہ جب مائیں دین دار ہوا کرتی تھیں، تو ان کی آغوش سے پروان چڑھنے والے بچے اسلام کا پرچم بلند کرتے، اللہ کی راہ میں جہاد کے ذریعے اسلام کی سرحدوں کو وسعت دیتے اور باطل قوتوں کے لیے ذلت و رسوائی کا سبب بنتے تھے۔ افسوس! فی زمانہ مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور انہیں ظلم و ستم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔

خدارا! علمِ دین سیکھیں، خاص کر تعلیمِ نسواں پر توجہ دیں، تاکہ نئی نسل کی بنیاد اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اطاعت اور شریعتِ اسلامیہ کے سانچے میں رچ بس جائے۔ جب بنیاد مضبوط ہوگی تو کوئی لاکھ گمراہ کرنے کی کوشش کرے، وہ ناکام و نامراد ہی رہے گا۔ عورت کی زندگی محض آسائشوں کا نام نہیں، بلکہ اس کے کاندھوں پر نسلوں کو سنوارنے کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ حقیقی زندگی اور دلی سکون اسی وقت ممکن ہے جب حیات شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کے مطابق گزاری جائے، ورنہ دنیا کی ہر شے میسر ہو کر بھی سب ادھورا ہے۔ یاد رکھیں، ایک باعمل مومنہ عورت کا مقام اس قدر بلند و بالا ہے کہ دنیا کی کوئی شے اس کی قیمت نہیں ہو سکتی۔

حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا: جرأت و شجاعت کی عظیم پیکر

آئیے! میں آپ کو تاریخِ اسلام کی ایک ایسی عظیم مجاہدہ خاتون کے تذکرے سے روشناس کرواؤں، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی فرماں بردار تھیں اور جنہوں نے دینِ متین کی سربلندی کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔

یہ عظیم ہستی حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا ہیں، جن کا اصل نام “نسیبہ” ہے۔ غزوۂ احد میں آپ اپنے شوہر حضرت زید بن عاصم اور دو فرزندوں، حضرت عمارہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ تشریف لائی تھیں۔ ابتدا میں تو آپ مجاہدین کو پانی پلانے کی خدمت انجام دیتی رہیں، لیکن جب آپ نے دیکھا کہ کفار نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اچانک شدید حملہ کر دیا ہے، تو آپ نے پانی کی مشک پھینک دی اور ایک خنجر (اور تلوار) لے کر کفار کے مقابلے میں سینہ سپر ہو گئیں۔ آپ شمعِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد پروانے کی طرح گھوم کر کفار کے تیروں اور تلواروں کے وار روکتی رہیں۔ اس جانثاری کے دوران آپ کے سر اور گردن پر تیرہ (13) زخم آئے۔

جب ابنِ قمیئہ ملعون نے حضورِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار کا وار کیا، تو حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا نے آگے بڑھ کر وہ وار اپنے بدن پر روکا، جس سے ان کے کندھے پر اتنا گہرا زخم آیا کہ گوشت میں گہرا شگاف پڑ گیا۔ اس کے باوجود آپ نے خود بڑھ کر اس ملعون کے شانے پر زور دار وار کیا، لیکن وہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا جس کی وجہ سے بچ نکلا۔

آپ کے فرزند حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک کافر نے زخمی کر دیا اور زخم سے خون رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میری والدہ (ام عمارہ) نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑا، میرے زخم کو باندھا اور حوصلہ دیتے ہوئے کہا: “بیٹا اٹھو! کھڑے ہو جاؤ اور پھر سے جہاد میں مشغول ہو جاؤ۔”

اتفاق سے وہی کافر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اے ام عمارہ! دیکھ تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا یہی ہے۔” یہ سنتے ہی حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا نے جھپٹ کر اس کافر کی ٹانگ پر تلوار کا ایسا بھرپور وار کیا کہ وہ کٹ کر گر پڑا اور پھر چلنے کے قابل نہ رہا، بلکہ زمین پر گھسٹتا ہوا بھاگا۔ یہ منظر دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: “اے ام عمارہ! تو اللہ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے اتنی طاقت اور ہمت عطا فرمائی کہ تو نے اللہ کی راہ میں یوں جہاد کیا۔”

اس پر حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: “یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! دعا فرمائیے کہ ہم لوگوں کو جنت میں بھی آپ کی خدمت گزاری کا شرف حاصل ہو جائے۔” اس وقت رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے، ان کے شوہر اور بیٹوں کے لیے ان الفاظ میں دعا فرمائی:

“یا اللہ! ان سب کو جنت میں میرا رفیق بنا دے۔”

حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا زندگی بھر فخر سے اعلانیہ فرمایا کرتی تھیں کہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے بعد اب دنیا میں مجھ پر کتنی ہی بڑی مصیبت کیوں نہ آ جائے، مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔”

اللہ رب العزت ہمیں بھی ان صحابیات جیسا جذبۂ ایمانی نصیب فرمائے اور اسلام کی روشنی میں ایک اچھی بیٹی، ایک بہترین بیوی اور ایک عظیم ماں بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!