| عنوان: | بُرے اخلاق کی تباہ کاریاں (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
3۔ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حسن و جمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "بد اخلاقی عمل کو اس طرح برباد کر دیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے۔" [کشف الخفاء، حرف السین المہملۃ، الحدیث: 1396، ج 1، ص 205]
4۔ دافعِ رنج و ملال، صاحبِ جود و نوال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "بد اخلاقی برا شگون ہے، عورتوں کی اطاعت ندامت ہے اور درگزر کرنا اچھی عادت ہے۔" [کنزلعمال، کتاب الاخلاق، الحدیث: 444، ج 3، ص 78]
5۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "بد اخلاقی برا شگون ہے اور تم میں بدترین وہ ہے جس کا اخلاق سب سے برا ہے۔" [تاریخ بغداد، احمد بن عیسیٰ، 2321، ج 5، ص 31]
6۔ نبی کریم، رؤف رحیم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جب تم یہ بات سنو کہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس بات کی تصدیق کر دو اور جب یہ سنو کہ کسی شخص نے اپنا اخلاق بدل لیا ہے تو ہرگز اس بات کی تصدیق نہ کرنا کیونکہ بندہ اپنی عادت پر ہی قائم رہتا ہے۔" [المسند للامام احمد بن حنبل، الحدیث: 27529، ج 10، ص 219]
7۔ سیّدِ مبلغین، رحمۃٌ للعالمین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "بے شک ہر گناہ کی توبہ ہے مگر بد اخلاقی کی توبہ نہیں، کیونکہ جب وہ کسی ایک گناہ سے توبہ کرتا ہے تو اس سے بڑے گناہ میں پڑ جاتا ہے۔" [جامع الاحادیث للسیوطی، قسم الاقوال، الحدیث: 2063، ج 2، ص 752]
8۔ شفیعِ المذنبین، انیسِ الغریبین، سراجِ السالکین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "اللہ عزوجل کے نزدیک بد اخلاقی کے علاوہ ہر گناہ کی توبہ ہے کیونکہ بد اخلاق آدمی جب ایک گناہ سے توبہ کرتا ہے تو اس سے بڑے گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے۔" [کنزلعمال، کتاب الاخلاق، فصل الترہیب، الحدیث: 452، ج 3، ص 78]
9۔ محبوبِ ربّ العالمین، جناب صادق و امین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "برا شگون بد اخلاقی ہے۔" [المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدہ عائشہ، الحدیث: 24601، ج 9، ص 29]
10۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "اگر بد اخلاقی انسان (کی شکل میں) ہوتی تو وہ شخص سب سے بدصورت ہوتا اور بے شک اللہ عزوجل نے مجھے بد کلامی کرنے والا نہیں بنایا۔" [کنزلعمال، کتاب الاخلاق، فصل الترہیب، الحدیث: 451، ج 3، ص 78]
11۔ مخزنِ جود و سخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جس کا اخلاق برا ہوگا وہ تنہا رہ جائے گا اور جس کے رنج زیادہ ہوں گے اس کا بدن بیمار ہو جائے گا اور جو لوگوں کو ملامت کرے گا اس کی بزرگی جاتی رہے گی اور مروت ختم ہو جائے گی۔" [المطالب العالیۃ، کتاب البر والصلۃ، الحدیث: 2602، ج 7، ص 116]
12۔ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "بد اخلاق آدمی جنت میں داخل نہ ہوگا۔" [جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، الحدیث: 1946، ج 1، ص 183]
13۔ محبوبِ ربّ العزت، محسنِ انسانیت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "لوگ مختلف چیزوں کے سرچشمے ہیں اور باپ دادا کی عادتیں اولاد میں ضرور منتقل ہوتی ہیں اور بے ادبی بہت بری عادت کی طرح ہے۔" [شعب الایمان، باب فی الجود والسخاء، الحدیث: 7609، ج 1، ص 255]
14۔ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزولِ سکینہ، فیض گنجینہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "بے شک برا اخلاق عمل کو اس طرح خراب کرتا ہے جیسے سرکہ شہد کو خراب کرتا ہے۔" [جامع الاحادیث للسیوطی، قسم الاقوال، الحدیث: 2005، ج 3، ص 71]
15۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور ﷺ نماز شروع کرتے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے: "اَللّٰھُمَّ اھْدِنِی لِاَحْسَنِ الْاَخْلَاقِ لَا یَھْدِی لِاَحْسَنِھَا اِلَّا اَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّی سَیِّئَھَا لَا یَصْرِفُ سَیِّئَھَا اِلَّا اَنْتَ" یعنی اے اللہ عزوجل! مجھے اچھے اخلاق کی راہنمائی فرما کیونکہ اچھے اخلاق کی راہنمائی تو ہی فرماتا ہے اور مجھے بُرے اخلاق سے دور رکھ کیونکہ بُرے اخلاق سے تو ہی دور رکھتا ہے۔ [سنن النسائی، کتاب الافتتاح، الحدیث: 897، ص 2125]
اچھے اخلاق کی برکتیں
اس باب میں اور بھی بہت سی احادیث مبارکہ مروی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ:
16۔ دو جہاں کے تاجدار، سلطانِ بحر و بر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "حسنِ اخلاق دنیا اور آخرت کی بھلائیاں لے گیا۔" [المعجم الکبیر، الحدیث: 411، ج 23، ص 222]
