Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عورتوں کو پردے کا حکم|عمر سفیر رضوی

عورتوں کو پردے کا حکم
عنوان: عورتوں کو پردے کا حکم
تحریر: عمر سفیر رضوی

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ [سورۃ الاحزاب: 33]

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ پھرو جیسے اگلی (زمانہ) جاہلیت کی بے پردگی۔

اگلی جاہلیت سے مراد قبل از اسلام کا زمانہ ہے، اس زمانے میں عورتیں اتراتی نکلتی تھیں، اپنی زیب و زینت کا اظہار کرتی تھیں تاکہ غیر مرد دیکھیں، اور لباس اس طرح پہنتی تھیں جس سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکتے تھے۔ اس آیت کا اصل مقصد عفت، حیا اور پردے کا قیام ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، تحفظ اور کردار کی پاکیزگی دی۔ آج کے دور میں جہاں میڈیا، فیشن اور آزادی کے نام پر بے راہ روی پھیل چکی ہے، اس آیت کی روشنی میں مسلمان خواتین کو اپنا طرزِ عمل درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

مذہب اسلام ایک ایسا پاکیزہ اور مؤدب مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو ہر طرح کی نجاست اور آلودگی سے دور رکھتا ہے، حلال و حرام کی نشاندہی کر کے حرام سے دور اور حلال سے قریب رہنے کا حکم دیتا ہے۔ مرد و عورت ہر ایک کا حق متعین کر کے جداگانہ طور پر بیان کر دیا ہے۔ اسلام ایک منظم اور مہذب مذہب ہے جو تہذیب و ادب کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حکم دیتا ہے، اسلام بہت پیارا اور پسندیدہ مذہب ہے۔

اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران میں ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جب اسلام کو پسندیدہ دین کہا تو ایک دوسری جگہ فرمایا: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔

مذکورہ آیتوں میں غور و خوض کریں کہ ایک میں اسلام کو پسندیدہ دین کہا جا رہا ہے اور دوسری میں اسلام کے ماننے والوں کو بہترین امت کے لقب سے یاد کیا جا رہا ہے۔ ہمیں جب قرآن بہترین امت کہہ رہا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم وہی قول و فعل کریں جو قرآن و حدیث سے ثابت ہوں، ہم انہی مسائل و احکام کو مانیں جو تعلیماتِ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں کو اپنانے اور حاصل کرنے کا حکم دیا ہے، ہم انہی کے حصول میں کوشاں رہیں اور جن چیزوں سے ہمیں رکنے کا حکم دیا گیا ہے، ان سے رکے رہیں۔

لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان مرد و عورت اس قدر آزاد خیال ہو چکے ہیں کہ انہیں ہر مسئلے میں آزادی چاہیے، ہر معاملے میں آزادی چاہیے، خواہ وہ مسئلہ عین شریعت کے مطابق ہو یا نہ ہو۔ آج کا مسلمان جہالت میں اس طرح ڈوب چکا ہے کہ محض طبیعت کو اپنی خواہشات کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ جو طبیعت کہتی ہے، جس طرف عقل چلنے کو کہتی ہے، اس طرف وہ دوڑتا ہوا نظر آتا ہے، خواہ وہ حلال ہو یا حرام۔ عقل اور طبیعت کی لاٹھی نے اسے مار کر اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ وہ حلال و حرام میں تمیز نہیں کر پاتا کہ کون سی چیز ہمارے لیے حلال ہے اور کون سی حرام ہے۔

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ [سورۃ الاحزاب: 33]

اس آیت سے پردے کی اہمیت اور غیر محرم مردوں سے اختلاط سے گریز کا حکم ملتا ہے۔ اگرچہ قرآن نے عورت کو تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے یا ضروری امور کے لیے باہر جانے سے نہیں روکا، لیکن شرط یہ ہے کہ فتنے سے محفوظ طریقے سے، سادگی اور شرعی حدود کے اندر رہ کر جائے۔

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ [سورۃ النور: 31]

اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پاک دامنی کی حفاظت کریں اور اپنی خوبصورتی ظاہر نہ کریں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔

تفسیر روح المعانی میں اللہ تعالیٰ کے فرمان “وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ” کی تفسیر کرتے ہوئے جاہلیت کے دور کی بے پردگی کے بارے میں لکھا ہے کہ امام ابن ابی حاتم نے حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی گردنوں اور سینوں کو اپنی اوڑھنیوں کے ساتھ چھپائیں تاکہ اس میں سے کوئی چیز نظر نہ آئے۔ زمانہ جاہلیت میں عورتیں اپنی اوڑھنیوں سے سروں کو چھپاتیں اور انہیں اپنے پیچھے کی طرف پشت پر چھوڑ دیتیں، پس ان کی گردن اور کچھ سینہ ظاہر دکھتا رہتا تھا۔ [تفسیر روح المعانی]

وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ [سورۃ الاحزاب: 33]

اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے کہ تم زمانۂ جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو ظاہر نہ کرو۔ عورتیں بلاضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ زیب و زینت کے ساتھ بن سنور کر غیر مردوں کے سامنے نہ آئیں۔ جیسا کہ جاہلیت کے دور میں عورتیں بے پردہ اور کھلے انداز میں باہر نکلتی تھیں، ویسا رویہ اختیار نہ کریں۔ اسلام نے عورتوں پر یہ پابندیاں اس لیے لگائیں تاکہ عورتوں کی عزت محفوظ رہے۔ کیونکہ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو اس کو ہر مرد دیکھتا ہے، اس لیے عورت کو حکم دیا گیا کہ تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ [ماہنامہ اشرفیہ، ص: 20]

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ عورتوں کے لیے کون سی چیز بہتر ہے؟ تمام صحابہ کرام خاموش رہے، کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی وقت میں سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور آ کر پوچھا: عورتوں کے لیے سب سے بہتر کیا چیز ہے؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نہ وہ مردوں کو دیکھیں اور نہ مرد ان کو دیکھیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے سیدہ فاطمہ کا جواب حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔

مذکورہ حدیث اور تفسیر سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ اسلام میں پردے کی کتنی اہمیت ہے۔ اسلام عورتوں کو قید و بند میں نہیں رکھتا بلکہ ان کی عفت و پاکدامنی کی حفاظت کرتا ہے۔ لہٰذا تمام اسلامی بہنوں اور اسلامی ماؤں کو چاہیے کہ وہ اسلام کے تمام احکامات پر عمل کریں اور دوسرے مذہب والوں کی پیروی نہ کریں جس کی وجہ سے آخرت خراب ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں اور عورتوں کو اسلامی دائرے میں رہ کر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین کے ہر احکام کو اپنانے کی توفیق فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!