Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تفقہ فی الدین اور اس کا طریق کار|عمر سفیر رضوی

تفقہ فی الدین اور اس کا طریق کار
عنوان: تفقہ فی الدین اور اس کا طریق کار
تحریر: عمر سفیر رضوی

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [سورۃ التوبہ: 122]

تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے تاکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں۔

دین کا اصطلاحی معنی یہ ہے:

قَانُونٌ سَمَاوِيٌّ سَائِقٌ لِذَوِي الْعُقُولِ إِلَى الْخَيْرِ بِالذَّاتِ، كَالْأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ النَّازِلَةِ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم۔ [المحصول فی علم الأصول، ج: 1، ص: 5]

دین ایسے سماوی قانون کو کہتے ہیں جو ذوی العقول یعنی عقلمندوں کو خیر بالذات کی طرف لے جائے۔ وہ آسمانی قانون جو ذوی العقول کی خیر بالذات کی طرف رہنمائی کرے۔ جس طرح کے شرعی احکام ہمارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے، یہ انسانوں کی خیر بالذات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انسان جب ان احکام کو سمجھ لیتا ہے، پھر ان پر عمل کرتا ہے، تو خالقِ کائنات اسے دونوں جہانوں یعنی عالمِ دنیا و عقبیٰ کی بہتریاں عطا فرماتا ہے۔

ہم جس وقت دین کا لفظ بولتے ہیں، تو اس سے مراد خاص دین ہوتا ہے۔ ویسے تو کوئی بھی نظام جس کا ضابطہ حیات اچھا ہو یا برا، اس پر دین کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید پارہ 30 میں اللہ جل مجدہ کا فرمان ہے:

لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ [سورۃ الکافرون: 6]

تمہارا دین تمہارے لیے اور میرے لیے میرا دین۔

لیکن تفقہ فی الدین کے اندر جو لفظ “دین” ہے، اس سے مراد وہ دین ہے جو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:

إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ [سورۃ آل عمران: 19]

بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔

ہمارے فہم میں یہ بات آگئی کہ تفقہ فی الدین سے کیا مراد ہے۔ اب اس چیز کو سمجھنے کی ضرورت درپیش ہے کہ اسے حاصل کس طرح کیا جائے، اور اس میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں۔

یاد رکھیں کہ اس میں ہماری جو سب سے پہلی ذمہ داری ہے، وہ یہ کہ گھر سے نکلنا، فہمِ دین کے لیے سفر کرنا اور فہمِ دین کی طرف قدم اٹھا کر رواں دواں ہونا۔ اس کے بارے میں رب تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ [سورۃ التوبہ: 122]

کیوں نہیں ایسا ہوتا کہ ایک گروہ نکلے۔

فہمِ دین کے لیے سب سے پہلی ذمہ داری ہے کہ اپنے گھر کی مصروفیات اور عیش و آرام کو چھوڑ کر تھوڑی صعوبتیں برداشت کی جائیں اور فہمِ دین کے لیے سفر کیا جائے۔ آج ہمارے لیے تو بطور سعادت چند قدم رہ گئے ہیں کہ گھر سے نکلیں اور فہمِ دین کے لیے ایک جگہ پر پہنچ جائیں۔ لیکن ہمارے اسلاف نے فہمِ دین کی خاطر کئی کئی ماہ کی مدت تک سفر کیا، پھر بھی ان کا شوق ماند نہیں پڑا، بلکہ مسلسل سفر کرنے سے انہیں لذت محسوس ہوئی اور انہوں نے اپنی زندگی کا طویل حصہ فہمِ دین کے لیے وقف کر دیا۔

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے صرف ایک حدیث پاک سیکھنے کے لیے ایک ماہ تک کا سفر کیا اور حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے:

وَرَحَلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ فِي حَدِيثٍ وَاحِدٍ. [صحیح البخاري، کتاب العلم، باب الخروج في طلب العلم]

ایسی درجنوں نہیں، سینکڑوں مثالیں ہمیں ملتی ہیں جن سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف نے فہمِ دین اور علمِ دین کی تحصیل کے لیے کئی کئی سال وقف کیے اور بالآخر انہوں نے اپنی منزل کو پا لیا۔ فہمِ دین کے لیے سفر کرنے میں کتنی عظمتیں اور کتنا عروج ہے، اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے لگایا جا سکتا ہے:

مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ. [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2699]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو شخص کسی ایسے راستے پر چلے جس میں وہ علمِ دین حاصل کرنا چاہتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس راستے کی وجہ سے اس شخص کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔

فہمِ دین کے لیے سفر کرنے والوں کی فضیلت

صحیح مسلم میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالبِ علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور یقیناً آسمانوں و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔” [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2699]

ہمیں چاہیے کہ ہم بھی تحصیلِ علمِ دین کی خاطر سفر کریں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:

طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ. [سنن ابن ماجه، رقم الحدیث: 224، باب فضل العلماء]

ہر مسلمان مرد اور عورت پر علم کا طلب کرنا فرض ہے۔ یاد رہے کہ اس حدیث مبارکہ کا یہ مطلب نہیں کہ ہر مسلمان مرد و زن پر ہر علم کا سیکھنا فرض ہے، بلکہ اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر اتنا ہی علم سیکھنا فرض ہے جو روزمرہ کی زندگی میں اس پر فرض ہے۔ جیسے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور جو بھی تجارت وہ شخص کرتا ہے، اس کا علم سیکھنا اس پر فرض ہے۔

أَفْضَلُ الْعِلْمِ عِلْمُ الْحَالِ، وَأَفْضَلُ الْعَمَلِ حِفْظُ الْحَالِ. [تعلیم المتعلم، ص: 11]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!