| عنوان: | امام احمد رضا اور علم توقیت (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد رفیق الاسلام نوری منتظری |
| پیش کش: | نوری کرن |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
وقت فجر اور وقت مغرب میں تعادل ہے۔ فجر کی ابتداء طلوع فجر سے اور انتہائے شرق میں آفتاب کے مغربی کنارے کے چمکنے تک ہے، اس کے برعکس وقت مغرب ہے آفتاب کے آخری کنارے کے چھپنے سے شفق ابیض کے غائب ہونے تک۔ سورج جب ایک مخصوص مقدار میں افق سے انحطاط میں ہو تو ایک مستطیل اجالا افق پر نظر آتا ہے، جانب غرب اسی کو شفق ابیض اور جانب شرق اسی کو فجر مستطیل کہا جاتا ہے۔ اس کے طلوع کرتے ہی وقت فجر کی ابتداء ہے جبکہ اس کے غائب ہونے کے ساتھ ہی عشاء کی شروعات ہے۔
سورج کے اسی انحطاط کی پیمائش میں علمائے محققین میں شدید اختلاف بھی رونما ہوئے۔
دور جدید میں انسان جدید آلات و محاسبات کے گرویدہ ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں اسی شفق ابیض کو پیش نظر رکھیں اور اس مقدار شفق و صبح کے تعین میں نامور محققین کی تحقیقات کا حال دیکھیں۔ پھر امام احمد رضا کا کمال دیکھ کر عقل حیران ہو جاتی ہے۔
اے امام احمد رضا تجھے کیا کہوں! قوتِ حافظہ کی لغات میں ایسے الفاظ موجود نہیں جو تیری ذات کی ترجمانی کر سکیں۔ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایمان افروز نشانی کہوں، سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک محیر العقول معجزہ کہوں؟
یا پھر غوثِ اعظم کی ایک روح پرور کرامت کہوں؟
یہاں تو فرد واحد میں ایک جہاں آباد ہے۔ پھول میں چمن نظر آرہا ہے۔ ستارے میں آسمان نظر آرہا ہے اور کاسۂ بریلی میں سمندر نظر آرہا ہے۔ پھر بھی عدو بددین اور حاسدین کی کج روی و فراست سے بالا تر ہے۔
امت مسلمہ کے لیے محنت و جانفشانی دیکھیے۔ اور آپ کے الفاظ میں سنیے! آپ فرماتے ہیں:
“آفتاب ان دونوں وقت تقریباً اٹھارہ درجہ نیچے ہوتا ہے یہ وہ علم ہے جو اکثر ہیئت دانوں پر مخفی رہا۔ رجماً بالغیب باتیں اڑایا کیے، صبح کاذب کے وقت انحطاط شمس میں مختلف ہوئے، کسی نے سترہ درجہ کہا، کسی نے اٹھارہ، کسی نے انیس بتائے۔ اور مشہور اٹھارہ ہے۔ اور اسی پر شرح چغمینی نے مشی کی اور صبح صادق کے لیے بعض نے پندرہ درجہ بتائے ہیں۔ اسے علامہ برجندی نے حاشیہ چغمینی میں لفظاً نقل کیا اور مقرر رکھا، اور اسی نے علامہ خلیل کاملی کو دھوکا دیا کہ دونوں صبحوں میں صرف تین درجے کا فاصلہ بتایا۔ جسے رد المحتار میں نقل کیا، اور معتمد رکھا۔ حالانکہ یہ سب ہوسات بے معنی ہیں، صبح کاذب کے وقت سترہ یا اٹھارہ یا انیس درجے اور صادق کے وقت پندرہ درجے کا انحطاط ہونا اور صادق و کاذب میں صرف تین درجے کا تفاوت ہونا سب محض باطل ہیں۔ بلکہ اٹھارہ درجہ انحطاط پر صبح صادق ہوتی ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 645]
مرض مہلک ہے۔ دوائیاں درجنوں۔ معالجوں کی حالت زار خود قابل رحم۔ اہداف بھی جداگانہ۔ صبح کاذب میں یہ اختلافات۔ علامہ برجندی و علامہ کاملی جیسے مدقق بھی تشخیص میں ناکام۔ امام احمد رضا نے ایسے وقتوں میں امت مسلمہ کی رہبری کا فریضہ حسن و خوبی انجام دیا اور صبح صادق کا تعین اٹھارہ درجہ کے انحطاط سے بتایا۔ جبکہ صبح کاذب تو اس وقت بھی نظر آئی جب آفتاب تینتیس درجے کے انحطاط میں ملا۔ کہاں تینتیس کہاں پندرہ؟
صبح کاذب کے لیے آپ کا یہ فرمان اختلافات میں ہرگز نہیں۔ بلکہ وہمی، شکی اور تقلیدی تعینات کے درمیان تحقیق کا جلوہ تھا۔
یہی وجہ ہے کہ آج اپنوں کے علاوہ غیروں کا فتاویٰ بھی اسی پر ہے۔ یہ نیکیاں بھی اگر کسی کو برائیاں نظر آئیں تو پھر ہم تو یہی کہیں گے کہ چشم سترہ شعاع شمس کے قابل نہیں۔
زمانہ تو یہ ہے کہ جگنو بھی اپنے کو زہرہ صبح سے بھی زیادہ تابناک بتانے میں جری ہے۔ لیکن ہمارے امام کا انداز بیان دیکھیے، دیگر علماء میں کوئی اسے امام احمد رضا کا ذاتی نظریہ نہ قرار دے۔ اس لیے فاضل بریلوی نے اپنے قول کی تائید میں ایک ایسی دلیل بھی پیش فرمائی جس سے یہ کوئی جدید مسئلہ نہ ہو کر صدیوں پرانا نظر آنے لگا۔ اور مسلمان اسے مختلف فیہ نہیں بلکہ متفق علیہ مسئلہ بتانے لگے۔
امام کا فرمان ہے:
“وہاں (بلغاریہ میں) وقتِ عشا نہ پانا متفق علیہ ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 646]
بلغاریہ ایک بڑا ملک تھا۔ سوویت یونین کا اس پر بھی قبضہ رہا۔ سرخ طاقت کے خاتمہ کے ساتھ اسے بھی آزادی ملی۔ لیکن یہ ملک ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ اس نام سے اب ایک چھوٹا سا ملک ہی جنوب میں باقی رہ گیا ہے۔ اسی ملک کی شمالی سرحد سے متصل ایک وسیع علاقہ میں جون کے مہینے میں وقتِ عشا کے نہ ملنے پر فقہائے کرام کا صدیوں سے اتفاق رہا جبکہ اس کے محلِ وقوع کے بارے میں امام احمد رضا نے فرمایا:
“بلغاریہ کا عرضِ شمالی ساڑھے انچاس درجے ہے۔”
كَمَا فِي الزِّيجِ السَّمَرْقَنْدِيِّ ثُمَّ الزِّيجِ الْأُلُغْ بَيْگِيِّ۔
“اور میلِ کلی یعنی راس السرطان کا میل اس زمانہ میں ساڑھے تئیس درجے سے کچھ زائد تھا۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 647]
یہ مسئلہ متفق علیہ ہے اب اگر علامہ برجندی و علامہ کاملی کے قول کو درست مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ ایک خلافِ واقع مسئلہ بتانے پر صدیوں ہمارے فقہائے کرام کا اتفاق رہا۔
وَالْعِيَاذُ بِاللّٰهِ تَعَالٰی
صبحِ صادق کی ابتدا کے بارے میں ہیئت و زیج کے ماہرین نے پندرہ درجہ کی حد بندی کر دی تھی کہ افق سے سورج کا انحطاط پندرہ درجے کا ہوگا۔ بلغاریہ کے اس علاقہ کا عرضِ زیجِ سمرقندی اور زیجِ الغ بیگی سے ساڑھے انچاس درجہ شمالی ظاہر ہے، جب اس کا عرض ساڑھے انچاس درجہ ہے تو اس کا تمام ساڑھے چالیس درجہ ہوگا، اور میلِ شمس ساڑھے تئیس درجہ کو اس سے منہا کریں تو ابھی بھی سترہ درجہ کا انحطاط باقی ہے۔
جبکہ مذکورہ محققین نے پندرہ درجہ کے انحطاط سے مغرب میں وقتِ عشا اور مشرق میں وقتِ فجر کی ابتدا بتائی ہے۔ اگر پندرہ درجہ کی حد بندی کو درست قرار دیا جائے تو لازم کہ صدیوں تک ایک غلطی کو حق کہنے پر فقہائے کرام کا اتفاق رہا۔ اور اگر فقہائے کرام حق پر متفق رہے اور یہی حق ہے تو پندرہ درجہ کی حد بندی باطل کہ ابھی دو درجے کا انحطاط باقی ہے۔ اس کا وقت دو گھنٹے بیس منٹ اور چالیس سیکنڈ ہے۔ سب سے بڑے دن میں اگر یہ وقت پایا جائے تو باقی دنوں میں تو اور بھی زیادہ عشا کا وقت ملے گا۔
بین و واضح ہو گیا کہ امام احمد رضا کے اٹھارہ درجے کا قول حق ہے کہ انحطاطِ شمس بلغاریہ میں سترہ درجہ جبکہ اٹھارہ درجے کے انحطاط سے ہی وقتِ فجر کی ابتدا ہے۔ لہذا وقتِ عشا نہیں پایا گیا۔ اسی پر فقہائے کرام کا اتفاق رہا۔
امام احمد رضا نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا اور تخریجِ اوقات میں فرماتے ہیں:
“اگر مقدارِ وقت جاننا چاہو تو عرضِ شمالی 49 درجہ 30 دقیقہ۔ میلِ شمالی 23 درجہ 33 دقیقہ مساوی 25 درجہ 57 دقیقہ جمع بعد سمتی مفروض 105 درجہ مساوی 130 درجہ 57 دقیقہ نصفہ 65 درجہ 28 دقیقہ 30 ثانیہ حبیبہ 9.958936 جیب اول منہا 105 نصفِ مذکور مساوی 39 درجہ 31 دقیقہ 30 ثانیہ حبیبہ 9.8037403 جیب دوم قاطع عرض 0.1874556 قاطع میل 0.0377676 مساوی 9.9878996 پس شروع وقتِ عشا 40 درجہ 43 دقیقہ 10 ثانیہ شروع وقتِ صبح 20 درجہ 16 دقیقہ 1 ثانیہ۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 647]
یہ ہے امام احمد رضا کی تحقیق۔
ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ۔
اگر صبح اور عشا میں سورج کے لیے ان محققینِ حضرات کے قول کو برقرار رکھا جائے تو بلغاریہ کے اس علاقہ میں دس بج کر تینتالیس منٹ اور چالیس سیکنڈ میں وقتِ عشا کی ابتدا ہوئی۔ اور رات ایک بج کر سولہ منٹ بیس سیکنڈ تک جاری رہی۔ دو گھنٹہ بتیس منٹ چالیس سیکنڈ کا وقت عشا کے لیے پایا گیا۔ اور وہ بھی سب سے بڑے دن میں۔ کیا پھر بھی یہاں وقتِ عشا نہ پائے جانے پر صدیوں سے فقہائے کرام کا اتفاق رہا؟ یہ کہنے کی جرات وہی کرے گا جو ان فقہائے کرام کی جلالتِ شان سے ناواقف ہو۔
امام احمد رضا نے اپنے مشاہدہ کی بنیاد پر اسے اٹھارہ درجہ قرار دیا اور اس مشاہدہ نے ثابت کیا کہ فقہائے کرام کا بلغاریہ کے مسئلہ پر اتفاق سو فیصد صحیح اور برحق ہے، جبکہ پندرہ درجہ کی تقدیر باطل اور حلیۂ صدق و صواب سے عاری و عاطل ہے۔ کہ مذکورہ تاریخ میں آدھی رات کے وقت بلغاریہ کے نقطۂ شمال سے بمشکل سترہ درجہ کے انحطاط میں آفتاب پایا گیا۔ جبکہ اٹھارہ درجہ کے انحطاط سے عشا کا وقت شروع ہوگا جو آدھی رات میں بھی نہ آیا۔ تو وقتِ عشا کہاں سے آئے گا۔ اور مشرق کا اجالا بتا رہا ہے کہ آدھی رات سے پہلے طلوعِ فجر ہو چکا ہے۔ لہذا وقتِ عشا نہ پایا جانا برحق ہے۔
پندرہ درجہ کی تقدیر پر رضوی تحقیق کی بینائی سے ہمیں جون کے سب سے بڑے دن میں بھی عشا کے لیے دو گھنٹہ بتیس منٹ چالیس سیکنڈ کا وقت ملا۔
یہاں سیدنا اعلیٰ حضرت کے پیشِ نظر علامہ برجندی و علامہ کاملی کا وہ نظریہ تھا بلغاریہ کے لیے وقتِ عشا نہ پائے جانے والے متفقہ مسئلہ سے جس کا تعارض تھا بلکہ یہ دونوں مسئلے ایسے ہیں کہ ایک کی صحت دوسرے کے بطلان کو لازم ہے، ایسے وقت میں امام احمد رضا کی وہ عظیم تحقیق جس کی بنیاد آپ کے تجربات و مشاہدات پر ہے۔ جہاں اس سے وقتِ عشا و فجر کے لیے انحطاطِ شمس پندرہ درجہ کا انجام ریختہ نظر آیا، وہیں اس مسئلہ پر فقہائے کرام کا اتفاق تحقیقِ رضا کو اپنی خاموش زبان سے یقیناً خراجِ تحسین پیش کر رہا ہوگا۔
اس سے اس قدر تو واضح ہو ہی گیا کہ یہ انحطاط پندرہ درجہ نہیں بلکہ اٹھارہ درجہ ہے۔ پندرہ درجہ کی تقدیر پر (جو باطل ہے) امام احمد رضا نے یہاں وقتِ عشا کا استخراج فرمایا ہے۔ جو دس بجکر تینتالیس منٹ چالیس سیکنڈ میں شروع ہو رہا ہے۔ اسی طرح ایک بجکر سولہ منٹ بیس سیکنڈ میں طلوعِ فجر ہو رہا ہے۔ اس اعلیٰ تحقیق میں استخراجِ اوقات کا نتیجہ دو فرضی اصل کو لازم ہے۔ نہ کہ خارجی نفس الامر کے مطابق ہے۔ بلکہ خارج میں تو یہاں وقتِ عشا کا نہ ملنا عند الاحناف متفق علیہ ہے۔
ان دونوں میں سے ایک اصل یہ ہے کہ انحطاطِ شمس پندرہ درجہ ہے۔ اور دوسری اصل یہ ہے کہ بلغاریہ کی جس جگہ کا یہ وقت بتایا گیا ہے میلِ کلی میں وہاں کی گھڑیوں کے مطابق ٹھیک بارہ بجے آفتاب نصف النہار میں پایا گیا تھا۔ انہیں فرضی اصولوں کی بنیاد پر وہ نتیجہ برآمد ہوا جو نفس الامر کے مطابق نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ پندرہ درجے کا انحطاط نفس الامر کے مطابق یقیناً نہیں ہے۔
اس استخراجِ اوقات میں فاضل بریلوی نے طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کی طرف توجہ نہیں فرمائی اس لیے کہ اثباتِ مدعا سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن آپ کے فرمودہ قواعد کی رہنمائی میں اس کا بیان بھی یہاں فائدہ سے خالی نہیں ہے۔ لہذا ظلِ عرضِ بلد 1.1708 ضرب ظلِ میلِ کلی 0.4358 مساوی 0.5102 یہ مقدار تیس درجہ بیالیس دقیقہ کی جیب ہے۔ نصفِ قطرِ شمس کے تئیس دقیقے اور انکسار کے تینتیس دقیقوں کے اضافہ سے 31 درجات و 38 دقائق آئے۔ لہذا اس کا وقت دو گھنٹہ چھ منٹ اور بتیس سیکنڈ برآمد ہوا۔
اس کو ربعِ دور کے چھ گھنٹے پر اضافہ سے ظاہر ہوا کہ مذکورہ تاریخ میں آٹھ بجکر چھ منٹ بتیس سیکنڈ تک وہاں دن رہا۔ پندرہ درجہ انحطاط کی صورت میں دو گھنٹہ سینتیس منٹ اور آٹھ سیکنڈ کا وقتِ مغرب ملا۔ جو باطل ہے۔ اور رضا کی تحقیق میں یہ وقت تین گھنٹہ ترپن منٹ اٹھائیس سیکنڈ کا ہے۔ یہی اس مسئلہ میں حق و صواب ہے حالانکہ اس کے بعد ہی فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ اور مغرب سے اس کا بھی تعادل ہے۔ تو عشاء کا وقت نہ ملا۔ لہذا تین بجکر ترپن منٹ انتیس سیکنڈ میں یہاں آفتاب طلوع کرے گا۔ جبکہ فجر کا وقت بھی پندرہ درجے کی تقدیر پر دو گھنٹے سینتیس منٹ آٹھ سیکنڈ ہی نظر آیا تھا۔
رام پور سے ایک سوال مع جواب ہمارے امام کی بارگاہ میں پہنچا تھا۔ دیوبند و گنگوہ کے علماء نے اس کی تصدیق کی تھی۔ ہر ایک آبادی اور ہر ایک موسم میں مغرب اور فجر کا وقت ایک گھنٹہ بیس منٹ بتایا گیا تھا۔ کہ مغرب میں اس کے بعد وقتِ عشاء کی ابتدا اور مشرق میں سحری کا خاتمہ ہے۔ اور اسی کو متفق علیہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ صنادیدِ دیوبند کا مصدقہ فیصلہ تھا۔ لیکن برقِ بارِ رضوی قلم کی ضیاباری میں انہیں اپنی فحش غلطی کی بھیانک تصویر تو ضرور نظر آئی پھر بھی توبہ نصیب نہ ہوئی کہ ان کے حق میں:
ثُمَّ لَا يَعُوْدُوْنَ
حدیث میں آچکا ہے اس پر خامۂ رضا کا جاہ و جلال کچھ یوں ہے:
“عشا کا متفق علیہ وقت ہمیشہ ایک گھنٹہ بیس منٹ بعد ہو جانے کا جبروتی حکم کہ بعض بے علموں نے محض جزافاً لکھ دیا اور گنگوہ و دیوبند کے جاہل و ناواقف ملاؤں نے اس کی تصدیق و توثیق کی۔ بریلی، بدایوں، رام پور، شاہجہاں پور، مراد آباد، بجنور، بلند شہر، پیلی بھیت، دہلی، میرٹھ، سہارن پور، دیوبند، گنگوہ وغیرہ بلادِ شمالیہ بلکہ عامہ مواضع و اضلاع، ممالکِ مغربی و شمالی و اودھ و پنجاب و بنگال و وسطِ ہند و راجپوتانہ، غرض معظم آبادی ہندوستان میں محض غلط و باطل، اور حلیۂ صدق و صواب سے عاری و عاطل ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 2، ص: 272]
اس کے بعد امام احمد رضا نے اس فتویٰ کی تردید اور حقائقِ نفس الامر کے بیان میں ایسے دلائلِ قاہرہ کو بیان فرمایا ہے جن کے ایک ایک لفظ نے ایسے مفتی و مصدق کی عقل پر سے درجنوں حجابات کی نقاب کشائی کر دی ہے۔ اس برہانی طوفان میں ان کی فکر ایک خشک تنکے کے مانند اور اغلاط کا پلندہ یہ فتویٰ کٹی پتنگ کی طرح فضاؤں میں قلابازیاں کھا رہا تھا۔ گرچہ ان مصدقین کو اپنی غلطی سے توبہ کی توفیق نہیں ملی، اور نہ ہی ان لوگوں نے اپنی اس غلطی کا اقرار کیا۔ لیکن فتویٰ کی زبان ضرور بدل گئی۔ اور آج اس بارے میں ان کا فتویٰ بھی وہی ہے جو امام احمد رضا نے فرمایا تھا کہ اوقاتِ عرضِ بلد اور موسم کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں۔
مَنْ شَاءَ فَلْيَأْخُذْ مِنْهَا۔
تحقیقاتِ رضویہ کی رفعتِ شان جہاں اوجِ ثریا کو بھی دعوتِ نظارہ پیش کر رہی ہے وہیں ان کی ضوفشانی کی بھیک مانگنے والوں میں کتنے ماہ و نجوم بھی منگتوں کی صف میں کھڑے ہیں۔
ان میں عمیق مطالعہ کا دعویٰ ایسا عالم ہی کر سکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہو۔ اس کے باوجود اس سمندر سے اگر کسی کو شبنم کا ہی کچھ سہارا مل گیا، تو اسے ان تحقیقات سے خدا کی قدرت یاد آتی ہے۔ قاسمِ نعمت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ یاد آتا ہے۔ غوثِ اعظم کی کرامت یاد آتی ہے۔ [ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، اکتوبر، نومبر، دسمبر 2018، ج: 4، شمارہ: 36، ص: 475 تا 479]
