Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عورتوں کو طلاق کا اختیار کیوں نہیں؟|مولانا ممتاز عالم مصباحی

عورتوں کو طلاق کا اختیار کیوں نہیں؟
عنوان: عورتوں کو طلاق کا اختیار کیوں نہیں؟
تحریر: مولانا ممتاز عالم مصباحی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

یہ سوال ان یورپی دانشوروں کا ہے جو مذہبِ اسلام کے دیگر قوانین کی طرح ”طلاق“ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور یہ استفسار کرتے ہیں کہ جب مذہبِ اسلام نے مساوات کا درس دیا ہے تو پھر عورتوں کو طلاق کا اختیار کیوں نہیں؟ اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے مسئلہ طلاق کے متعلق صحیح اسلامی نقطہ نظر کو واضح کرنا ضروری ہے۔

طلاق کی شرعی تعریف

لغت میں طلاق پابندی ختم کرنے کو کہتے ہیں۔ اصطلاحِ شرع میں مخصوص الفاظ کا استعمال کر کے نکاح کو فوراً یا کچھ وقفہ کے بعد ختم کر دینا طلاق ہے، چاہے ان الفاظ کو شوہر خود استعمال کرے یا اس کا وکیل یا قاضی (جسے شرع نے بعض خاص حالات میں شوہر کا نائب قرار دے کر اس کی رضامندی کے بغیر طلاق دے دینے کا اختیار دیا ہے)۔ [درمختار مع ردالمحتار، صفحہ 569، 571]

طلاق اور اسلامی نقطہ نظر

نکاح کے ذریعے قائم ہونے والا رشتہ دائمی ہوتا ہے۔ تاہم، انسانی فطرت اور طبیعتوں کے اختلاف کے پیشِ نظر، شریعت نے ایسے حالات کے لیے ”طلاق“ کو مشروع کیا ہے جہاں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ناگزیر ہو جائے تاکہ حالات مزید نہ بگڑیں۔ البتہ اس کے بے جا استعمال پر سخت وعیدیں آئی ہیں اور اسے تمام جائز چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ (ابغض المباحات) قرار دیا گیا ہے۔

طلاق کی اقسام اور ترتیب

اسلام نے طلاق کے لیے ایک خاص ترتیب مقرر کی ہے جس کی خلاف ورزی گناہ ہے۔

  • طلاقِ سنت: وہ طلاق جو حالتِ طہر (ایسا زمانہ جس میں شوہر نے بیوی سے ہمبستری نہ کی ہو) میں دی جائے۔

  • طلاقِ بدعت: جو حالتِ حیض میں دی جائے یا یک بارگی تین طلاقیں دے دی جائیں۔ اسے ممنوع قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کی گنجائش نہیں رہتی۔

شریعت کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک ہی طلاق دی جائے تاکہ میاں بیوی کو غور و فکر کا موقع ملے اور حالات سدھرنے کی صورت میں عدت کے دوران رجوع کر سکیں۔

عورتوں کو طلاق کا اختیار نہ دینے کی حکمت

مغربی سوال کا اجمالی جواب یہ ہے کہ عام طور پر عورت مرد کے مقابلے میں زیادہ زود رنج اور جذباتی ہوتی ہے اور معمولی بات پر بھی جذباتی فیصلہ کر سکتی ہے، جبکہ مرد نسبتاً معاملہ شناس اور صاحبِ الرائے ہوتا ہے۔ اگر عورت کو طلاق کا اختیار دیا جاتا تو آئے دن میاں بیوی کے رشتے ٹوٹنے کا خدشہ تھا۔ اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی زود رنجی کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ اتفاقاً کسی وقت معمولی سی بات خلافِ طبیعت دیکھ کر فوراً کہہ اٹھتی ہیں کہ میں نے آج تک یہاں کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔ [بخاری شریف، جلد دوم]

سائنسی اور نفسیاتی مطالعہ

مغربی محققین بھی اس فرق کی تائید کرتے ہیں۔ فرید وجدی کی ”دائرۃ المعارف“ کے مطابق، علم التشریح اور علم النفس سے ثابت ہو چکا ہے کہ جسمانی ساخت اور دماغی تناسب کے اعتبار سے مرد و عورت میں فرق ہے، جس کے تحت عورت زیادہ جلد متاثر ہونے والی اور زود رنج واقع ہوئی ہے۔ یہ جسمانی و نفسیاتی فرق ہر خطے کے انسانوں میں یکساں موجود ہے۔

مغرب میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور نتائج

طلاق کے اختیار کے بے جا استعمال کے نتائج کا اندازہ برطانیہ کے معاشرتی رجحانات (1961ء سے 1971ء) سے لگایا جا سکتا ہے جہاں طلاق کی تعداد دس ہزار سے بڑھ کر ساڑھے پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ مغربی معاشرے میں اکثر طلاق کا مطالبہ انتہائی مضحکہ خیز وجوہات (مثلاً پالتو کتے کی ناپسندیدگی) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اگر عورتوں کو طلاق کا اختیار مل جاتا تو خاندانی نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو جاتا۔

واضح رہے کہ اسلام نے عورت کو مشکلات سے بچانے کے لیے ”خلع“ کا اختیار دیا ہے، جس کے ذریعے وہ ناگزیر حالات میں اپنا رشتہ ختم کر کے ایک باعزت زندگی گزار سکتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!