| عنوان: | نوجوان علما میں بغاوت کے تیور یوں ہی تو نہیں؟ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
اسلام دلیل، گہرائی، سچائی، حق بیانی، نیک نیتی، تقوی شعاری اور احقاق حق کا مذہب ہے، جو سچ بات ہو، بنا کسی لاگ لپیٹ کے نیک نیتی کے ساتھ کہہ دینی چاہیے، بھلے کوئی مانے، نہ مانے، کیوں کہ آج نہ، کل سہی، کوئی حق پرست ضرور عمل پیرا ہوگا، کوئی منصف مزاج ضرور اصلاح پذیر ہوگا۔
إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسی پس منظر میں اسلام کے اہم اوامر میں سے ہے۔ ورنہ آج کے پرفتن، بدباطن اور کینہ پرور ماحول میں یہ کوئی آسان بات نہیں کہ پوری دیانت و شجاعت کے ساتھ سچ بات کہی جا سکے، اور کوئی مرد میدان کہہ بھی دے تو سنتا کون ہے اور کوئی سن بھی لے تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی کسے توفیق، جب کہ عمل کا مرحلہ تو شروع ہی ان سب کے بعد ہوتا ہے، جہاں تک شاید ہی نوبت پہنچتی ہے۔
اس وقت جماعت اہل سنت کے نوجوان علما کے مزاج میں بڑی تیزی کے ساتھ بغاوتوں کے آثار جنم لے رہے ہیں جنہیں ہر بزرگ تحت الشعور میں واضح طور پر محسوس کر سکتا ہے اور کرنا بھی چاہیے۔ ان نوجوانوں میں ایک عجیب بے چینی ہے۔ اور یہ صورت حال اب کسی خاص گروہ یا علاقے تک محدود نہیں رہی بلکہ منصفانہ تجزیہ کیجیے تو لگ بھگ ہر جگہ کے نوجوان ذہنی طور پر اپنے اپنے علاقے کے بزرگوں کے خلاف گویا محاذ آرا ہیں۔
ان کا الزام یہ ہے کہ ان کے بزرگوں میں قائدانہ صلاحیتیں نہیں، ان کے بزرگ ان کی صلاحیتوں کو دیکھنا نہیں چاہتے، کام نہیں کرنے دیتے اور ان کے ان بزرگوں کی تسبیح یہ ہے کہ یہ نسل مؤدب نہیں، بالجبر قیادت چاہتی ہے اور نااہل ہے۔ دل کے بہلانے کو بات چاہے جو ہو، بہر صورت نقصان دین اور سنیت کا ہے اور بے تحاشا ہے۔ اپنی انرجی اپنوں کے خلاف برباد ہو رہی ہے اور فخر یہ ہے کہ اپنے ہی دشمن ہیں۔
سچائی یہ ہے کہ یہ نوجوان علما اپنی زندگی کے ایک عجیب دوراہے پر کھڑے ہیں اور بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود جب کچھ نہیں کر پا رہے ہیں یا ان کے مطابق کچھ نہیں کرنے دیے جا رہے ہیں تو پھر ان کے جذبات بغاوت کا روپ لے کر ملت کے حق میں فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔
دراصل یہ جنریشن گیپ کی گھمسان ہے۔ جس کا بنیادی سبب انسانی نفسیات کی نافہمی اور مناسب تربیت کا فقدان ہے۔ اور اسی وجہ سے صلاحیتوں نے بغاوتوں کی شکل لے لی ہے۔ ایک طرف اگر ہمارے بزرگ نوجوانوں کی نفسیات، عزت نفس اور ان کے جذبات دروں کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں یا سمجھ سمجھانے کے باوجود اپنی انا کے آگے کسی خاطر میں نہ لا کر کچل دینا چاہتے ہیں تو دوسری طرف نوجوان ایک لمحہ یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی یہ باغیانہ روش ملت و مسلک کے حق میں نہایت گھاتک ثابت ہو رہی ہے۔ نتیجہ سامنے ہے دونوں ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں اور یہ کوئی نہیں سمجھ پا رہا ہے کہ اصل مسئلہ اصاغر نوازی اور اکابر شناسی کے جذبات کا ختم ہو جانا نہیں بلکہ اصل بیماری صالح قیادت کے فقدان اور باہمی نفسیات کی نافہمی ہے اور جب تک اس اصلی مرض نہاں کی صحیح تشخیص نہیں ہوگی، نہ اصاغر نوازی کا وظیفہ کارآمد ہوگا اور نہ اکابر شناسی کا موہوم تصور کچھ فائدہ دے گا۔
ہو یہ رہا ہے کہ نسل نو اپ ڈیٹ حالات کے اعتبار سے کچھ نیا کرنا چاہتی ہے لیکن بزرگان زمانہ ان کی پرواز خیال کو صرف جدت پسندی کہہ کر ٹال دینا چاہتے ہیں بلکہ کبھی کبھی تکبر اور بغاوت کہہ کر کچل بھی رہے ہیں، ظاہر ہے ٹیکنالوجی کی اکیسویں صدی میں کوئی بزرگ صرف اپنی بزرگی کی بنیاد پر صلاحیتیں مسل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس صدی کی ٹیکنالوجی نے اپنی نسل کو اتنا اپ ڈیٹ کر دیا ہے کہ اس جذباتی نسل کو جہاں پرانی بے ڈھنگی چال دقیانوسی یا غیر ضروری معلوم ہوتی ہے، وہیں یہ نسل گلوبل ولیج کے اس دور میں اپنی سمت راہ خود متعین کرنے کی ایک حد تک صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
