Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سیرتِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حسین گوشے (قسط: دوئم)|حافظ افتخار احمد قادری

سیرتِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حسین گوشے (قسط: دوئم)
عنوان: سیرتِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حسین گوشے (قسط: دوئم)
تحریر: حافظ افتخار احمد قادری
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

آپ کی حیاتِ طیبہ، سیرتِ مبارکہ، صبر و استقامت، عزم و ہمت اور ایثار و قربانی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی پیغام اور ایک زندہ تحریک ہے۔ کربلا کا واقعہ کسی ایک خاندان کی مظلومیت یا ایک سیاسی مرحلے کا نام نہیں، بلکہ یہ حق و باطل، صبر و ہمت، منافقت، وفاداری، غداری اور اخلاقی تربیت کے درمیان برپا ہونے والی معرکہ آراء جنگ ہے جس کے اثرات قیامت تک باقی رہیں گے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل سے یہ واضح فرما دیا کہ ایک مسلمان کی اصل زندگی اصولوں سے وابستہ ہوتی ہے، مفادات سے نہیں۔

جب دینِ اسلام کے بنیادی تصورات، عدل و انصاف کی اقدار اور حق و صداقت کے چراغ کو بجھانے کی کوشش کی جائے تو خاموش رہنا جرم بن جاتا ہے۔ ایسے موقع پر امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا جان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت کے لیے وہ لازوال قربانی پیش کی جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ آپ جانتے تھے کہ یہ سفرِ شہادت ہے، آپ کو اس بات کا بھی علم تھا کہ اس راہ میں آپ کے اہلِ بیت، نوجوان بیٹے، بھتیجے، بھائی اور جاں نثار ساتھی بھی قربان ہوں گے، لیکن اس کے باوجود آپ نے حق کا دامن نہ چھوڑا اور باطل کے سامنے جھکنے کے بجائے شہادت کو گلے لگا لیا۔

آج ہم جب اس کرب کا مطالعہ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ صرف اپنے زمانے کے لیے نہیں بلکہ ہر دور اور ہر نسل کے لیے ایک کامل نمونہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ آپ کی سیرتِ مبارکہ یہ درس دیتی ہے کہ اگر انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہو تو دنیاوی بڑی سے بڑی مشکل بھی اس کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہیں کر سکتی۔ اگر دل میں اخلاص ہو، نیت میں پاکیزگی ہو اور مقصد رضائے الٰہی ہو تو تکلیف، وسائل کی کمی اور قلتِ افراد کبھی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔

کربلا کے میدان میں ظاہری اعتبار سے ایک طرف طاقت، حکومت، لشکر اور دنیاوی وسائل تھے جبکہ دوسری طرف چند نفوسِ قدسیہ تھے، لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ کامیابی تعداد اور طاقت کی نہیں بلکہ حق اور سچائی کی ہوتی ہے۔ آج بہت سے لوگ محرم الحرام کو صرف غم و حزن کا مہینہ سمجھتے ہیں، حالانکہ اس مہینے کا اصل پیغام اصلاحِ کردار، تزکیۂ نفس اور تجدیدِ عہد ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی یاد منانے کا تقاضا صرف آنسو بہانا نہیں بلکہ اپنے اندر حسینی صفات پیدا کرنا ہے۔ اگر ہم جھوٹ بولتے رہیں، لوگوں کے حقوق غصب کرتے رہیں اور پھر دعویٰ کریں کہ ہم امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں تو یہ محبت اپنے حقیقی مفہوم سے خالی ہوگی۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو ان کے اسوہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں، اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں، معاملات میں دیانت پیدا کریں اور اپنے دلوں کو تقویٰ اور خوفِ خدا سے منور کریں۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرتِ طیبہ یہ درس دیتی ہے کہ انسان کو کبھی ظلم کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ ظلم، خواہ حکمران کا ہو یا معاشرے کا، ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ ظلم سے نفرت کرے اور عدل و انصاف کا علمبردار بنے۔ آج معاشرہ جن اخلاقی اور سماجی خرابیوں کا شکار ہے، ان میں سے بیشترین وجہ یہ ہے کہ ہم نے حق گوئی اور جرأتِ اظہار کو چھوڑ دیا ہے۔ ہم سچ جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں، باطل کا بول بالا ہوتے ہوئے بھی اس کی مخالفت نہیں کرتے اور مصلحتوں کے نام پر حق کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے سبق دیا کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جا سکتی ہے، مگر حق کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔

کربلا ہمیں صبر کا بھی عظیم درس دیتی ہے۔ جس باپ نے اپنے جوان بیٹے حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کی لاش دیکھی ہو، جس بھائی نے اپنے بھائیوں اور بھتیجوں کی شہادت دیکھی ہو، جس نواسے نے اپنے شیر خوار فرزند حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ کو تیر کھاتے دیکھا ہو، اس کے باوجود زبان پر شکوہ نہ آئے اور دل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے علاوہ کوئی خیال نہ آئے؛ یہ صبر کی وہ عظیم مثال ہے جس کے سامنے دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو صبر کا شاہکار کہا جاتا ہے۔

آج کے نوجوانوں کو خصوصاً سیرتِ حسینی کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ موجودہ دور میں مادیت، نفس پرستی، خود غرضی اور دنیا طلبی نے انسان کو اس کے اصل مقصدِ حیات سے دور کر دیا ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی نوجوانوں کو بتاتی ہے کہ اصل کامیابی دولت، شہرت اور اقتدار میں نہیں بلکہ حق پر ثابت قدم رہنے میں ہے۔ اگر ایک نوجوان اپنے اندر حسینی کردار پیدا کر لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو سنوار سکتا ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسی طرح اہل علم، ائمہ، خطباء، اساتذہ اور دینی قائدین پر بھی لازم ہے کہ وہ واقعۂ کربلا کو محض جذباتی انداز میں بیان کرنے کے بجائے اس کے حقیقی پیغام کو عام کریں۔ امت کو یہ بتایا جائے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کا مقصد صرف ایک تاریخی یادگار چھوڑنا نہیں تھا، بلکہ امت کو یہ سکھانا تھا کہ جب دین اور حق کو خطرہ لاحق ہو تو ایک مسلمان کو ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہیے۔ کربلا کا پیغام استقامت، اخوت، عدل، انصاف، صبر و ہمت اور قربانی کا پیغام ہے اور یہی وہ اقدار ہیں جن کی آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ شہدائے کربلا کی قربانیاں صرف مسلمانوں کا سرمایہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے مفکرین اور دانشوروں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت کا اعتراف کیا ہے کیونکہ آپ نے انسانی آزادی، عزتِ نفس اور اصول پسندی کی ایسی مثال قائم کی جو ہر دور کے انسان کے لیے باعثِ احترام ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ ایک فرد بھی اگر حق پر قائم ہو تو وہ پوری تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔ آج ضرورت یہ ہے کہ ہم محرم الحرام کے ایام میں اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی کوتاہیوں پر غور کریں، اپنے دلوں کو کینہ، حسد، بغض اور نفرت سے پاک کریں اور اپنے اندر محبتِ اہلِ بیت کو زندہ کریں۔ محبتِ اہلِ بیت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کے اخلاق اپنائیں، ان کی تعلیمات پر عمل کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

دعا:

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کی سچی محبت نصیب فرمائے، ان کی قربانیوں کے مقاصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں حق پر چلنے، باطل سے بچنے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی سعادت بخشے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور محبتِ اہلِ بیت سے منور فرمائے اور ہمیں ان نفوسِ قدسیہ کے صدقے دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!