Loading...

اوصاف و کمالات اعلی حضرت(قسط: چہارم)|امام احمد رضا اور القاب نوری

اوصاف و کمالات اعلی حضرت (قسط:چہارم)
عنوان: اوصاف و کمالات اعلی حضرت (قسط:چہارم)
تحریر: نا معلوم
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اعلیٰ حضرت ہر صاحبِ ایمان کے خیر خواہ تھے خواہ کیسے باشد۔ اور آپ کی خیر خواہی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ نے دنیا کے ہزاروں سنیوں کی سنیت اور ایمان کی حفاظت و صیانت فرمائی۔ اس کے علاوہ بھی آپ شفقت و خیر خواہی کیا کرتے۔ چنانچہ چھوٹوں پر شفقت کے تعلق سے پروفیسر مسعود احمد نقشبندی قدس سرہ لکھتے ہیں:

“دار العلوم منظرِ اسلام کے طلبہ کرام پر بڑے شفیق و کریم تھے، خوشیوں کے موقعوں پر، عید کے دنوں میں ان کے لیے نئے نئے کپڑے بنواتے اور قسم قسم کے کھانے پکوا کر کھلاتے۔ عرب طلبہ کے لیے عربی کھانا، روسی طلبہ کے لیے روسی کھانا، بنگالی طلبہ کے لیے بنگالی کھانا، سندھی طلبہ کے لیے سندھی کھانا، پنجابی کے لیے پنجابی کھانا۔ الغرض جن طلبہ کو جو کھانا مرغوب ہوتا وہ پکوا کر اس کو کھلاتے اور کھلا کھلا کر خوش ہوتے”۔ [غریبوں کے غم خوار از پروفیسر مسعود احمد، ادارہ مسعودیہ، ص: ۷]

اصاغر پر شفقت کا ایک اور واقعہ سپردِ قرطاس کیا جاتا ہے۔ حضور ملک العلماء “حیاتِ اعلیٰ حضرت” میں اپنا ایک واقعہ یوں نقل کرتے ہیں:

“۱۳۲۲ھ میں سب سے پہلے جو فتویٰ میں نے لکھا اور اعلیٰ حضرت کی خدمت میں اصلاح کے لیے پیش کیا۔ حسنِ اتفاق بالکل صحیح نکلا۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ اس فتویٰ کو لیے ہوئے خود تشریف لائے اور ایک روپے دستِ مبارک سے فقیر کو عنایت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: مولانا! سب سے پہلے جو فتویٰ میں نے لکھا اعلیٰ حضرت والد ماجد قدس سرہ نے مجھے شیرینی کھانے کے لیے ایک روپے عنایت فرمایا تھا۔ آج آپ نے جو فتویٰ لکھا، یہ پہلا فتویٰ ہے اور ماشاء اللہ بالکل صحیح ہے۔ اس لیے اسی اتباع میں ایک روپے آپ کو شیرینی کھانے کے لیے دیتا ہوں۔ غایتِ مسرت کی وجہ سے میری زبان بند ہو گئی اور میں کچھ نہ بول سکا، اس لیے کہ فتویٰ پیش کرتے وقت میں خیال کر رہا تھا کہ خدا جانے جواب صحیح لکھا ہے یا غلط۔ مگر فضلِ خدا سے وہ صحیح اور بالکل صحیح نکلا اور پھر اس پر انعام، اور وہ بھی ان الفاظِ کریمہ سے کہ میرے والد صاحب نے مجھے اول فتویٰ صحیح پر انعام دیا تھا اس لیے میں بھی اول فتویٰ صحیح پر انعام دیتا ہوں۔ حق یہ ہے کہ ایک خادم کی وہ عزت افزائی ہے جس کی حد نہیں اور اس کے بعد ہمیشہ برقرار رکھا”۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۷۷]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!