| عنوان: | اوصاف و کمالات اعلی حضرت (قسط:دوم) |
|---|---|
| تحریر: | نا معلوم |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اَلْحُبُّ فِي اللّٰهِ وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ
اللہ کے لیے دوستی اور اللہ کے لیے دشمنی آپ کی زندگی کا نصب العین تھا جس میں آپ نے کبھی بھی کوئی رعایت روا نہ رکھی؛ آپ خود اعداء اللہ سے عداوت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
“بحمد اللہ! میری ولادت کی تاریخ اس آیت میں ہے: أُولٰئِكَ كَتَبَ إِلَخ بحمد اللہ تعالیٰ بچپن سے مجھے نفرت ہے اعداء اللہ سے اور میرے بچوں کے بچوں کو بھی بفضلِ اللہ تعالیٰ نفرتِ اعداء اللہ گھٹی میں پلا دی گئی ہے، اور بفضلہ تعالیٰ یہ وعدہ بھی پورا ہوا”۔ [ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: ۴۱۰]
آپ کے اَلْحُبُّ فِي اللّٰهِ وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ کا ایک واقعہ سپردِ قرطاس کیا جاتا ہے۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ میں ہے:
“ایک بار حضرت صدر الافاضل مولانا شاہ نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا: حضور کی کتابوں میں وہابیوں، دیوبندیوں اور غیر مقلدوں کے عقائدِ باطلہ کا رد ایسے سخت الفاظ میں ہوا کرتے ہیں آج کل جو تہذیب کے مدعی ہیں وہ چند سطریں دیکھتے ہی حضور کی کتابوں کو رکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کتابوں میں گالیاں بھری ہیں۔ اس طرح وہ حضور کے دلائل و براہین کو بھی نہیں دیکھتے اور ہدایات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
لہذا اگر حضور نرمی اور خوش بیانی کے ساتھ وہابیوں، دیوبندیوں کا رد فرمائیں تو نئی روشنی کے دلدادہ جو اخلاق و تہذیب والے کہلاتے ہیں وہ بھی آپ کی کتابوں کے مطالعہ سے مشرف ہوں اور حضور کے لاجواب دلائل دیکھ کر ہدایت پائیں؟ حضرت صدر الافاضل رحمۃ اللہ علیہ کی یہ بات سن کر آپ آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا: مولانا تمنا تو یہ تھی کہ احمد رضا کے ہاتھ میں تلوار ہوتی اور احمد رضا کے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی گردنیں ہوتیں اور اپنے ہاتھ سے ان گستاخوں کے سر قلم کرتا اور اس طرح گستاخی اور توہین کا سدِ باب کرتا لیکن تلوار سے کام لینا تو اپنے اختیار میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے قلم عطا فرمایا ہے۔ تو میں قلم سے ان بے دینوں کا شدت کے ساتھ اس لیے رد کرتا ہوں تاکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بدزبانی کرنے والوں کو اپنے خلاف شدید دیکھ کر مجھ پر غصہ آئے، پھر جل بھن کر مجھے گالیاں دینے لگیں اور میرے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گالیاں بکنا بھول جائیں، اس طرح میرے آباء واجداد کی عزت وآبرو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے لیے سپر بن جائیں”۔ [تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص: ۴۳۶]
سادگی
حضور سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی سادگی سے زندگی بسر فرمائی۔ آپ نے ہر شعبۂ زندگی میں سادگی کو اپنایا، خواہ لباس ہو، خوارک ہو، یا رہن سہن۔ آپ اس قدر سادگی میں رہتے کہ کوئی (نووارد) شخص یہ بھی خیال نہیں کر سکتا تھا کہ حضرت مولانا امام احمد رضا خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ جن کی شہرت شرق سے غرب اور شمال سے جنوب تک ہے، یہی ہیں۔
ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک صاحب کاٹھیاواڑ سے حضور کی شہرت سن کر بریلی تشریف لائے۔ ظہر کا وقت تھا اعلیٰ حضرت مسجد میں وضو فرما رہے تھے۔ سادہ وضع تھی، چوڑی مہری کا پاجامہ، ململ کا چھوٹا کرتا، معمولی ٹوپی، مسجد کی فصیل پر بیٹھے ہوئے مٹی کے لوٹوں سے وضو فرما رہے تھے کہ وہ صاحب مسجد میں تشریف لائے اور انہوں نے السلام علیکم کہا، اعلیٰ حضرت نے جوابِ سلام دیا اس کے بعد انہوں نے اعلیٰ حضرت ہی سے دریافت فرمایا:
“میں مولانا احمد رضا خان کی زیارت کو آیا ہوں”۔
اعلیٰ حضرت نے فرمایا: احمد رضا میں ہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو نہیں میں مولانا احمد رضا خان کو ملنے آیا ہوں۔ آپ کبھی شہرت کا لباس، قیمتی عبا، قیمتی عمامہ وغیرہ استعمال نہیں فرماتے تھے، نہ ہی خاص مشائخانہ انداز اختیار فرمایا مثلاً خانقاہ، چلہ، حلقہ وغیرہ، نہ ہی خدام کا مجمع۔ آگے، پیچھے، ہٹو، بڑھو کا انداز بھی نہ رکھا کہ اس کی وجہ سے لوگ خواہ مخواہ داخلِ سلسلہِ عالیہ ہوتے، پھر بھی مریدوں کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر کے قریب ایک لاکھ کے پہنچ گئی تھی۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت، مطبوعہ: مکتبہ نبویہ لاہور، ص: ۶۹۶]
حق گوئی
اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی بھی حق بات کہنے میں نہ ہچکچائے، اپنا ہو، پرایا ہو، بڑا ہو، چھوٹا ہو، حاکم ہو، یا محکوم الغرض آپ نے ہمیشہ حق بات کہی، حق گوئی کی صفت بچپن ہی سے آپ میں نمایاں رہی چنانچہ اعلیٰ حضرت کی عمر شریف ابھی صرف ۱۹-۲۰ سال تھی اور آپ کو فتاویٰ تحریر کرتے ہوئے تقریباً ۶ سال ہو چکے تھے کہ آپ کے ساتھ یہ دلچسپ واقعہ پیش آیا جس سے آپ کی حق گوئی و حق پسندی کا اندازہ ہوتا ہے، وہ واقعہ یوں ہوا:
ایک شخص “رام پور” سے حضرت اقدس امام المحققین مولانا شاہ نقی علی خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہرت سن کر بریلی تشریف لائے اور جناب مولانا ارشاد حسین صاحب مجددی (صاحبِ إِرْشَادُ الصَّرْف) کا فتویٰ جس پر اکثر علما کی مواہیر اور دستخط ثبت تھے، پیشِ خدمت کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ کمرے میں مولوی صاحب ہیں اُن کو دیجیے جواب لکھ دیں گے۔
وہ کمرے میں گئے اور واپس آکر عرض کیا کہ وہاں تو کوئی مولوی صاحب نہیں ہیں، فقط ایک صاحبزادے ہیں۔
حضرت نے فرمایا: “انہیں کو دے دیں وہ لکھ دیں گے”۔
انہوں نے عرض کی: حضور میں تو جناب کا شہرہ سن کر آیا تھا۔
حضرت نے فرمایا: “آج کل وہی فتویٰ لکھا کرتے ہیں انہیں کو دے دیجیے”۔
اعلیٰ حضرت نے جو اس فتوے کو دیکھا تو ٹھیک نہ تھا۔ آپ نے اس جواب کے خلاف جواب تحریر فرما کر اپنے والد ماجد صاحب کی خدمت میں پیش کیا اور حضرت نے اس کی تصدیق و تصویب فرمائی۔ جب والیِ رام پور نواب کلب علی خان کی خدمت میں وہ فتویٰ پہنچا۔ آپ نے شروع سے آخر تک اس فتوے کو پڑھا اور تمام لوگوں کی تصدیقات دیکھیں، دیکھا کہ سب علما کی ایک رائے ہے صرف بریلی کے دو عالموں نے اختلاف کیا ہے، حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب کو یاد فرمایا، حضرت تشریف لائے نواب صاحب نے فتویٰ ان کی خدمت میں پیش فرمایا۔
حضرت مولانا کی دیانت اور انصاف پسندی دیکھیے کہ صاف فرمایا: “فی الحقیقت وہی حکم صحیح ہے جو ان دو صاحبوں نے لکھا ہے”۔ نواب صاحب نے پوچھا پھر اتنے علما نے آپ کے فتویٰ کی تصدیق کس طرح کی؟ فرمایا: اُن لوگوں نے مجھ پر اعتماد میری شہرت کی وجہ سے کیا اور میرے فتویٰ کی تصدیق کی ورنہ حق وہی ہے جو انہوں نے لکھا۔۔۔ یہ سن کر نواب صاحب کو اعلیٰ حضرت سے ملاقات کا شوق ہوا۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت، مطبع: اکبر بک سیلرز، لاہور، ص: ۱۲۶-۱۲۷]
