| عنوان: | آیوش ملک اور تبدیلی مذہب: ایک تجزیہ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی |
شاملی کے نو مسلم آیوش ملک (سابقہ نام محمد علی) نے دوبارہ ہندو مذہب قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چند ہفتے پہلے آیوش ملک کا نام اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب اسے جبری مسلمان بنانے کے الزام میں شاملی ہی کی ایک مسلم لڑکی اور اس کے والد کو شاملی پولیس نے گرفتار کیا۔ مذکورہ خاتون سے آیوش ملک نے نکاح بھی کیا ہوا تھا۔ اسی بنیاد پر اس کے خلاف "غیر قانونی تبدیلی مذہب ایکٹ" کی دفعات میں مقدمہ درج ہوا اور گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔
لڑکی کی گرفتاری کے بعد آیوش ملک میڈیا کے سامنے آیا اور اس نے اپنے قبولِ اسلام کا پس منظر بیان کیا، اس کے مطابق؛
-
اس نے قریب بارہ سال پہلے اسلام قبول کیا تھا۔
-
سوشل میڈیائی مواد خصوصاً ڈاکٹر اسرار کے ویڈیوز نے اسے اسلام میں رغبت دلائی۔
-
اسلام قبول کرنے کے بعد آیوش نے مکمل داڑھی رکھی اور پابندی سے نماز پڑھنے لگا۔
-
چار سال پہلے اس نے شاملی ہی کی رہائشی چاندنی نامی خاتون سے شرعی/قانونی طور پر نکاح کیا۔
اپنے اسلام کا اعلان کرتے وقت آیوش کی باڈی لینگویج اور لہجے کی مضبوطی سے ایسا لگ رہا تھا کہ اسلام اس کی رگ و پے میں سما چکا ہے۔ اس نے میڈیا کے سامنے شہادت کی انگلی اٹھا کر کہا تھا: "الحمد للہ! آئی ایم مسلم! میرے ایک ہاتھ میں سورج رکھ دو اور ایک میں چاند، تب بھی اسلام نہیں چھوڑ سکتا۔ مجھے باپ کی جائداد کا لالچ نہیں ہے۔ ماں باپ ساری دولت اپنی بیٹیوں کو دے دیں، مجھے ان کی دولت کی کوئی ضرورت نہیں۔"
لیکن مضبوط اعصاب کا دکھنے والا یہ نوجوان کل (یکم جولائی 2026) کو جاری کردہ ویڈیو میں نہایت لاچار اور بے بس انداز میں اپنے دوبارہ ہندو ہونے کا اعلان کرتے اور پوجا کرتے ہوئے نظر آیا۔ ویڈیو سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اسے ایک کاغذ پر لکھا ہوا پڑھوایا جا رہا ہے۔ بولتے وقت اس کی آنکھیں نم اور زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ حالت یہ تھی کہ محض دو لائن بولنے میں اسے پسینے آگئے۔ باڈی لینگویج سے انسانی خیالات کا اندازہ لگانے والے اس کے دونوں ویڈیو دیکھیں، دونوں میں زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ قبولِ اسلام کے اعلان کے وقت اس کی باڈی لینگویج کچھ اور تھی جب کہ ہندو دھرم اپناتے ہوئے اس کی لاچارگی ساری کہانی اپنے آپ بیان کر دیتی ہے۔
مسلمان کیا کرتے؟
آیوش کے تازہ ویڈیو کے بعد بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے آیوش کا ساتھ نہیں دیا ورنہ وہ کسی حال اسلام نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہاں ہمارے احباب قدرے جذباتی ہو رہے ہیں۔ آیوش ملک مسلمانوں کے رابطے اور رینج میں تھا ہی نہیں! وہ اپنے والد اور ہندو تنظیموں کے حصار میں تھا۔ اس تک کسی مسلمان کی رسائی ممکن ہی نہیں تھی، کہ اس کا عملی ساتھ دیا جاتا۔
اس معاملے کا اہم پہلو "غیر قانونی تبدیلی مذہب ایکٹ" کا استعمال بھی ہے۔ جس کے باعث چاندنی سمیت کل دس افراد نامزد ہیں۔ میڈیا ٹرائل میں اسے منصوبہ بند سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ یعنی اس کیس میں مزید کئی لوگوں کو پھنسایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر اسرار کا نام آنے کی وجہ سے معاملے کا غیر ملکی کنکشن بنانے تک کی کوشش چل رہی ہے۔ ایسے میں مقامی مسلمان چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
تبدیلی مذہب کے معاملے پر حکومتی مزاج اور انتظامیہ کا رویہ پوری طرح واضح ہے۔ مسلمان، ہندو بنے تو شخصی آزادی اور ہندو اسلام قبول کرلے تو اسے منصوبہ بند سازش اور برین واش کہا جاتا ہے۔ حالیہ معاملے میں جس طرح آیوش ملک نے اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا، کیا انتظامیہ کے لیے وہ ایک مضبوط ثبوت نہیں تھا؟ پولیس چاہتی تو آیوش کو کورٹ میں پیش کر کے یہ بیان ریکارڈ کراتی۔ بیان درج ہوتے ہی مقدمہ خارج ہوجاتا اور گرفتار شدگان رہا ہوجاتے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ الٹا آیوش کو سادھوؤں اور سماجی نیتاؤں کے سپرد کر دیا گیا۔ سماجی بائیکاٹ، خاندانی دباؤ اور سیاسی ہتھکنڈوں کا پورا استعمال کیا گیا، نتیجہ اس کے ہندو ہونے کے اعلان کے روپ میں نکلا۔
آیوش خاندانی مسلم اور لڑکی ہندو ہوتی تو کیا پولیس مسلم لڑکے کو اتنی چھوٹ دے سکتی تھی؟ لڑکی ہندو ہوتی تو اولین فرصت میں مسلم لڑکے کا مکان بلڈوز ہوتا اور اس کے ساتھ اس کے دوست و رشتہ داروں کو جیل بھیج دیا گیا ہوتا۔ اس پورے معاملے میں بگھرا آشرم کے سادھو یش ویر مہاراج کا اہم رول رہا ہے۔ اسی نے انتظامیہ پر مقدمے اور گرفتاری کا دباؤ بنایا۔ حالانکہ خود یہی شخص مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کی علی الاعلان مہم چلاتا ہے۔ آئے دن مسلمانوں کی دکانوں/ہوٹلوں پر چھاپے ماری کرتا ہے۔ زبردستی مورل پولیسنگ کرتا پھرتا ہے۔ لیکن سیاسی چھتر چھایا کی بنا پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے اور کسی طرح کی کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ایسے میں مقامی مسلمان اس شخص کے خلاف کیا ہی کر سکتے تھے؟
کیا کر سکتے ہیں؟
گزشتہ کچھ سالوں میں بی جے پی نے گیارہ ریاستوں میں غیر قانونی تبدیلی مذہب قانون بنایا ہے۔ جس کے مطابق تبدیلی مذہب کے لیے ضلع مجسٹریٹ اور ایس ڈی ایم کی تحریری منظوری ضروری ہے۔ لالچ، دباؤ اور جبراً کسی کا مذہب تبدیل کرانا ناقابل ضمانت جرم مانا گیا ہے۔ ایسے معاملات میں تین سال سے عمر قید تک سزا اور جرمانہ شامل ہے۔ سبھی ریاستوں کے تبدیلی مذہب قانون بنیادی طور پر مسلم/عیسائی کمیونٹی پر سخت جب کہ ہندو کمیونٹی کے تئیں سافٹ نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن ہندو تنظیمیں کسی بھی مسلمان/عیسائی کے خلاف سب سے پہلے تبدیلی مذہب کا مقدمہ درج کراتی ہیں۔ مقدمہ درج ہوتے ہی میڈیا اسے 'لَو جہاد' کَہ کر پروپیگنڈا رپورٹنگ کرتا ہے۔ عوامی سطح پر اس معاملے کو ہندو بہن بیٹیوں کی عزت سے جوڑ کر مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا ہے۔ پولیس اس معاملے میں سب سے پہلے ملزم کا مکان بلڈوز کرتی ہے اور پہلی فرصت میں اسے گرفتار کرکے جیل بھیج دیتی ہے۔
حالانکہ دستیاب اعداد و شمار حکومت اور پولیس کی کارکردگی اور نیت پر سوال کھڑا کرتے ہیں۔ اتر پردیش میں 2021 سے 2024 تک کل 1700 گرفتاریاں ہوئیں لیکن صرف 16 معاملات ہی ثابت ہو سکے۔ اسی طرح ایم پی میں 2021 سے 2025 تک 283 مقدمات درج ہوئے لیکن ثابت صرف سات معاملے ہوئے۔ یہ معاملے بھی نچلی عدالتوں میں ثابت ہوئے ہیں۔ انہیں ہائی کورٹوں میں چیلنج کیا گیا ہے ممکن ہے وہاں یہ مقدمات بھی خارج ہو جائیں۔ اس طرح یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ تبدیلی مذہب قانون صرف مسلمانوں/عیسائیوں کو پریشان اور ہراساں کرنے کا آسان ہتھیار بن گیا ہے۔
اس محاذ پر ہندو تنظیمیں منظم طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے یہاں مختلف مندروں/آشرموں میں باضابطہ تبدیلی مذہب کا کھلم کھلا کھیل چل رہا ہے۔ مظفر نگر میں سوامی یش ویر مہاراج اور بریلی میں اگستے مُنی آشرم مندر مسلم لڑکیوں کے ارتداد کا سب سے بڑا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ یہاں منظم انداز میں مرتد بنایا جاتا ہے۔ ڈی ایم/ایس ڈی ایم سے قانونی منظوری کا مرحلہ مکمل کیا جاتا ہے۔ اخراجات کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں۔ عدالتی پیروی کے لیے وکیل مہیا کرائے جاتے ہیں اور حساس معاملات میں پولیس پروٹیکشن بھی دلایا جاتا ہے۔ متاثرہ مسلمان انفرادی طور پر ایسے معاملات میں کوشش کرتا بھی ہے تو وہ ان تنظیموں کے مقابلے کمزور پڑ جاتا ہے اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ انفرادی کام اجتماعیت کا بدل اور جواب نہیں ہو سکتے۔ مسلم تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ترجیحی طور پر ایک ایسا فورم تشکیل دیں جہاں قانونی طور پر ایسے معاملات کو سنبھالنے کے لیے ماہرین کی ٹیم موجود ہو۔ جو اچھی طرح ایسے معاملات کو ہینڈل کر سکے۔ جب تک ہم منصوبہ بندی اور اجتماعیت کے ساتھ کام نہیں کریں گے تب تک ہمارے لڑکے لڑکیاں اسی طرح دوسروں کے جال میں پھنستے رہیں گے اور اپنا ایمان و کردار گنواتے رہیں گے۔
