| عنوان: | وطن عزیز ہند میں بڑھتا اسلاموفوبیا |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
ہندوستان دنیا کا ایک بڑا جمہوری ملک ہے، یہاں پر صدیوں سے مختلف مذہبوں، زبانوں اور تہذیبوں کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے چلے آئے ہیں۔ اس یکجہتی نے ملکِ ہندوستان کو دنیا میں ایک الگ شناخت دی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کچھ سالوں سے اس ملک میں مذہبی منافرت، تعصب اور مذہبی شناخت کی بنا پر ظلم کے واقعات نے ملک کی شبیہ کو داغدار کرنے کا کام کیا ہے۔
اسلاموفوبیا کیا ہے؟
اسلاموفوبیا دو لفظوں 'Islam' اور 'Phobia' سے مل کر بنا ہے۔ اسلاموفوبیا سے مراد اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بے بنیاد خوف، نفرت، تعصب، امتیازی رویہ یا منفی پروپیگنڈا ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو ان کے مذہب، لباس، عبادات یا شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کے خلاف غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں اور انہیں معاشرے میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اسلاموفوبیا کو بڑھانے میں اہم کردار
ملک میں اسلاموفوبیا کا زہر گھولنے میں سوشل میڈیا، ملکی میڈیا اور سیاسی لیڈران کا اہم کردار رہا ہے:
-
سوشل میڈیا پر نفرتی پیغامات کی ترسیل: نفرت کرنے والوں نے سوشل میڈیا کو ایک بڑا ہتھیار بنایا ہے۔ آئے دن مسلمانوں کے خلاف نفرتی پیغامات، اسلامی احکامات کا استہزاء، مسلم بزرگ شخصیات پر منفی تبصرے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے قومِ مسلم پر طعن و تشنیع کی جا رہی ہے۔ کہیں نہ کہیں ایسے لوگوں کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے، کیونکہ ان حرکتوں پر سخت کارروائی نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے۔
-
ملکی میڈیا میں نفرت کو بڑھاوا دینے والی ڈیبیٹ: میڈیا جمہوریت کا اہم ستون ہے، لیکن گزشتہ برسوں میں ملک کا مین اسٹریم میڈیا حکومت کی کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے۔ ڈیبیٹ کے نام پر اسلام مخالف پروپیگنڈا اور بین المذاہب نفرت کو بڑھاوا دینا اب عام بات ہو گئی ہے۔
-
سیاسی لیڈران کے نفرتی بیانات: آج سیاست بہت نچلی سطح پر اتر آئی ہے۔ شہرت کے حصول کے لیے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا ایک وطیرہ بن چکا ہے۔ کچھ پارٹیاں اسی نفرت پر اپنی سیاست چمکا رہی ہیں۔ کرسی بچانے کی خاطر باہمی اتحاد کو توڑنے کی ناپاک کوششیں کی جا رہی ہیں، اور سیاسی اسٹیج سے مسلم مخالف پیغامات اور دھمکیاں دینا کچھ مخصوص پارٹیوں کے لیڈران کا ریت بن چکا ہے۔
-
کسی فرد کے جرم کو قوم سے جوڑنا: اسلاموفوبیا کو بڑھانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ قومِ مسلم کے کسی ایک فرد کے جرم کو پوری قوم سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ پھر پوری قوم کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے، ملک سے باہر بھیجنے یا حکومتی اسکیموں سے محروم کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
اسلاموفوبیا کے نقصانات
اگرچہ بظاہر اس کا نقصان مسلم قوم کو اٹھانا پڑ رہا ہے، لیکن حکومت میں بیٹھے لوگوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس سے ملک کی اصل طاقت یعنی 'باہمی اتحاد' کی جڑیں کھوکھلی ہو رہی ہیں، جو جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ہندوستان کی اصل طاقت گنگا جمنی تہذیب، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے انصاف اور اختلاف کے بجائے مکالمے کو فروغ دیں۔ جب ہر شہری ایک دوسرے کے مذہب، عقیدے اور بنیادی حقوق کا احترام کرے گا، تبھی ہمارا وطن امن، ترقی اور خوش حالی کی راہ پر مزید مضبوطی سے گامزن ہوگا۔
