| عنوان: | موضوع: مذہبی رواداری اور اسوۂ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد ضیاء الدین برکاتی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
فتح مکہ میں مذہبی رواداری
۸ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو فتح کیا۔ جہاں تک کسی ملک یا علاقہ کو فتح کرنے کا سوال ہے، تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب کوئی بادشاہ، یا ڈکٹیٹر یا کوئی جنرل کسی ملک یا علاقہ کو فتح کرتا ہے تو انسانی آبادی خاک و خون میں لت پت ہو جاتی ہے، ہنستے بستے شہر کھنڈر میں تبدیل ہو جاتیں ہیں، بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں اور ظلم و بربریت کی وہ کہانی دہرائی جاتی ہے جسے دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح میں ہلاکت و بربادی نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوتے ہیں تو پیشانیِ مبارک نہایت عاجزی سے جھکی ہوتی ہے اور اعلان فرماتے ہیں:
- ۱۔ جو شخص مقابلے سے ہاتھ روک لے اسے امان ہے۔
- ۲۔ جو اپنے گھر کے دروازے بند کر لے اسے امان ہے۔
- ۳۔ جو اپنی تلوار میان میں رکھ لے اسے امان ہے۔
- ۴۔ جو ابو سفیان یا حکیم بن حزام کے گھر میں داخل ہو جائے اسے امان ہے۔
- ۵۔ جو مسجدِ حرام میں پناہ لے اسے امان ہے۔
- ۶۔ جو شخص بھاگے اس کا پیچھا نہ کیا جائے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ میں دنیا کے سامنے یہ تاریخ بھی رقم کر دی کہ مذہبی رواداری کے بل بوتے پر بھی علاقوں کو فتح کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہی مکہ تھا جہاں آپ کے جانی دشمن رہا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے اصحاب پر ان لوگوں نے ظلم کے پہاڑ توڑے، جنہوں نے مسلمانوں کی خوں ریزی، غارت گری اور آبرو ریزی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہتے تو ایک ایک سے انتقام لیتے، انہیں تہِ تیغ کر دیتے اور ان کے مال و متاع پر قبضہ کر لیتے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پر تلوار نہ اٹھائی بلکہ سب کو معاف کر دیا۔ کیا مذہبی رواداری کی اس سے بہتر مثال کسی اور مذہب کی تاریخ میں مل سکتی ہے؟
خطبۂ حجۃ الوداع میں مذہبی رواداری
خطبۂ حجۃ الوداع، وحدتِ الٰہی اور وحدتِ آدم کا ایسا آفاقی اعلان نامہ ہے، جسے انسانی تہذیب کی روحانیت، مذہبی رواداری اور تخلیقی سفر کی منزلِ مراد کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر انسانی تہذیب کے انتہائے کمال کو زبان میسر آجائے تو اس سے بالکل وہی الفاظ جاری ہوں گے جو اس خطبے میں نبیِ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئے، جس میں رنگ و نسل کی بنیاد پر اونچ نیچ کو ختم کر دیا گیا، ہر طرح کے تشدد کو یکسر مسترد کر دیا گیا، سبھوں کے ساتھ مساوات کا برتاؤ کرنے کا حکم دیا گیا، جنگ و جدل اور خون ریزی کو یکسر مسترد کر دیا گیا، اور خدا کا خوف دلایا گیا کہ تمہیں اپنے ہر عمل کے سلسلے میں اپنے خدا کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔
لیکن یہ اعلان نامہ محض لفظوں کا مجموعہ نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان لفظوں کی بنیاد پر جو انسانی معاشرہ وجود میں آیا وہ فرد کی آزادی، فرد و معاشرے کے مابین رشتے کے توازن، مذہبی رواداری کا منبع، انسانی صلاحیتوں کے اعلیٰ ترین تخلیقی اظہار اور اخلاق و روحانی پاکیزگی کے لحاظ سے آج تک اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔
اقوامِ متحدہ کی مذہبی رواداری کے دفعات پر ایک نظر
اقوامِ متحدہ نے حقوقِ انسانی اور مذہبی رواداری کے لیے جتنے بھی قوانین بنائے، وہ تمام قوانین و منشور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے فتحِ مکہ اور حجۃ الوداع کے موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دیے گئے خطبوں سے ہی لیے گئے ہیں۔ یہاں صرف بطورِ نمونہ ان میں سے کچھ دفعات کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ اقوامِ متحدہ نے ان قوانین کو پاس تو کر لیا ہے لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں کرا سکا جب کہ دوسری جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قوانین پر عمل کیا پھر اسے دنیا کے سامنے نافذ کر کے بھی دکھا دیا:
عالمی منشور کے آرٹیکل نمبر ۹ میں ہے کہ "ہر شخص کو خیال، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق ہے۔" اور آرٹیکل نمبر ۱۰ میں ہے کہ "ہر شخص کو آزادیِ اظہار کا حق ہے۔" بدقسمتی سے یہ دفعہ صرف کاغذی حصہ بن کر رہ گئی ہے۔ اس دستور کے مرتبین اور طاقتور ریاستیں اس بنیادی حق سے عام انسانوں کو محروم کر رہی ہیں اور اسے دوسرے مذاہب اور اہل مذاہب کی اہانت اور اپنے ذاتی، ملکی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیوں پہلے انسانوں کو عقیدے، فکر و رائے اور مذہب کی آزادی دے دی تھی، اسلام کے نزدیک اگر کوئی شخص کوئی عقیدہ اختیار کیے ہوئے ہے تو اس پر کوئی پابندی اور جبر نہیں کہ اسے دوسرا دین اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ارشادِ پاک ہے: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (دین میں کوئی جبر نہیں۔) ایک یہودی ہے تو یہودی رہے، ایک عیسائی ہے تو عیسائی رہے، ایک ہندو ہے تو ہندو رہے۔ اس کے مذہب و عقیدہ پر کوئی دباؤ نہیں، ہاں! لیکن انھیں اسلام کی دعوت ضرور دی جائے گی، اسے حقیقت سے آگاہ ضرور کیا جائے گا لیکن زبردستی اسلام میں داخل نہیں کیا جائے گا۔
عالمی منشور کے آرٹیکل نمبر ۷ میں ہے کہ "قانون کی نگاہ میں ہر شخص برابر ہے" اور آرٹیکل نمبر ۸ میں ہے کہ "ہر شخص کو اپنے اوپر ہوئے مظالم کے خلاف عدالت میں جانے کا اختیار ہے"۔ لیکن یہ قوانین بھی صرف منشور کی زینت کے لیے ہیں۔ دنیا میں ان کے نفاذ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ دور کیوں جائیے، برطانیہ میں آج بھی کوئین آف ویلز اور شاہی خاندان کے خلاف برطانیہ کی کسی بھی عدالت میں کوئی بھی مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری طرف مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی رواداری اور انسانی حقوق کی ادائیگی کا کردار ملاحظہ فرمائیں: عہدِ رسالت میں ایک معزز قبیلے کی عورت پر چوری کا الزام ثابت ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جرم کی پاداش میں اس عورت کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم جاری فرما دیتے ہیں۔ حضرت اسامہ بن زید نے اس عورت کے حق میں سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اتشفع فی حدود اللہ یا اسامہ! لو کانت فاطمۃ بنت محمد سرقت لقطعت یدھا (اے اسامہ! تم اللہ کی حدود میں رعایت کی بات کرتے ہو؟ اگر محمد کی بیٹی فاطمہ نے چوری کی ہوتی جب بھی میں ضرور اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی رواداری اور اسوۂ کریم کا اثر غیر مسلموں پر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرفتن دور میں بھی جو مذہبی رواداری کے بیج بوئے اور اس پر عمل پیرا ہو کر دکھایا، اس کو دنیا کا انصاف پسند طبقہ کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے تو اپنے غیروں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی رواداری کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے:
مہاتما گاندھی: "نسلِ انسانی کے کروڑوں دلوں کو متفقہ طور پر اپنی مٹھی میں کرنے والی شخصیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتا تھا۔ میں آخری طور پر مطمئن ہوں کہ اس دور کے حالات میں اسلام کے لیے جگہ بنانے والی چیز تلوار نہیں تھی، وہ چیز انتہائی سادگی، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اپنے نفس کو مکمل فنا کر دینا، اپنے وعدوں کا مکمل لحاظ، اپنے دوستوں اور متبعین سے گہرا لگاؤ، ان کی دلیری، ان کی بے خوفی، خدا پر اور اپنے مشن میں کامل اعتماد تھا جو تلوار نہیں بلکہ ان چیزوں نے سارے کام انجام دیے۔"
مائیکل ایچ ہارٹ (مؤرخ): "قارئین میں سے ممکن ہے کچھ لوگوں کو تعجب ہو کہ میں نے دنیا جہان کی مؤثر ترین شخصیات میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سرِفہرست کیوں رکھا... پوری انسانی تاریخ میں صرف وہی ایک ایسے انسان تھے جو دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے غیر معمولی طور پر کامیاب، اور سرفراز ٹھہرے۔"
آرنلڈ ٹوائن بی (A.J.Toynbee): "محمد نے اسلام کے ذریعے انسانوں میں رنگ، نسل اور طبقاتی امتیاز کا یکسر خاتمہ کر دیا، کسی مذہب نے اس سے بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جو محمد کے مذہب کو حاصل ہوئی۔ آج دنیا جس ضرورت کے لیے رو رہی ہے اسے صرف اور صرف مساواتِ محمدی کے ذریعے اور اس نظریے کے تحت ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔"
غرض یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی رواداری اور تعلیمات ملکی اتحاد و سالمیت کے لیے تیر بہدف اور مفید نسخہ ہیں۔ اگر ہمارے اکابرینِ مملکت اور لیڈران ان بنیادوں پر ریاست کو پروان چڑھائیں تو ہر قسم کے انتشار و افتراق سے بچ سکتے ہیں۔ ملک اور باشندگانِ ملک دونوں پرامن زندگی گزار سکتے ہیں اور ہر طرف پھیلی ہوئی بدامنی اور دہشت گردی کا خاتمہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی رواداری کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
