Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اہلِ خانہ پر خرچ بوجھ نہیں کارِ ثواب ہے|عمران رضا عطاری مدنی

اہلِ خانہ پر خرچ بوجھ نہیں کارِ ثواب ہے
عنوان: اہلِ خانہ پر خرچ بوجھ نہیں کارِ ثواب ہے
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی بنارسی
پیش کش: المدینۃ العلمیہ ، دعوت اسلامی ھند

عبید دن بھر کی مشقت سے اس قدر تھک چکا تھا کہ اب کام کاج بھی اسے ایک بوجھ محسوس ہونے لگا تھا۔ اس کے دل میں بار بار یہ خیال ابھرتا: آخر یہ محنت کب تک؟ کب تک گھر کی ذمہ داریاں، خرچ، بیوی بچوں کی ضروریات اور روزگار کی دوڑ میرے حصے میں رہے گی؟ یہی فکریں اس کے ذہن کو پریشان کیے جا رہی تھیں۔ ایک دن اس نے دل کا بوجھ اپنے قریبی دوست حامد کے سامنے رکھ دیا۔ پوری بات سن کر حامد نے نہایت تحمل سے مسکرا کر اسے تسلی دی اور پھر بڑے پُراثر انداز میں گویا ہوا:

”عبید بھائی! تم اپنے کام کو صرف ذمہ داری نہ سمجھو بلکہ اسے اپنا فیشن بنا لو، اس سے دل کا رشتہ جوڑ لو۔ جب انسان اپنے کام سے محبت کرنے لگتا ہے تو وہی کام اس کے لیے بوجھ نہیں رہتا بلکہ لطف اور سکون کا ذریعہ بن جاتا ہے۔“

پھر وہ نرمی سے بولا: ”اور ہم تو مسلمان ہیں، اگر ہم نیت درست کر لیں، محنت سے حلال روزی کمائیں اور اپنے اہل و عیال پر خوش دلی سے خرچ کریں تو یہی کمانا اور یہی خرچ کرنا عبادت بن جاتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اہلِ خانہ پر خرچ کرنے کی بڑی فضیلتیں بیان ہوئی ہیں۔“

یہ نصیحت عبید کے دل میں اتر گئی۔ اس نے اپنی سوچ کا زاویہ بدل دیا۔ اب وہ کام کو بوجھ نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر کرنے لگا۔ اس کی بے چینی سکون میں بدل گئی، فکریں ختم ہو گئیں اور دل مطمئن ہو گیا۔ وہ محنت سے کام کرتا اور خوش دلی کے ساتھ اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کرتا، یوں اس کی زندگی میں ایک نئی تازگی اور راحت پیدا ہو گئی۔

آئیے ذیل میں اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کرنے کے فضائل و برکات احادیث کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے!

مَا كَسَبَ الرَّجُلُ كَسْبًا أَطْيَبَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَخَادِمِهِ، فَهُوَ صَدَقَةٌ۔ [سنن ابن ماجہ، ج: 2، ص: 723، رقم الحديث: 2138]

آدمی نے اپنی محنت اور ہاتھ کی کمائی سے بہتر کوئی کمائی نہیں کی۔ اور جو کچھ آدمی اپنے اوپر، اپنے اہل و عیال، اپنی اولاد اور اپنے خادم پر خرچ کرتا ہے، وہ سب صدقہ شمار ہوتا ہے۔

مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَتَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ۔ [السنن الكبرى، ج: 6، ص: 278، رقم الحديث: 9141]

جو کچھ تم اپنے آپ کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لیے صدقہ ہے، اور جو کچھ تم اپنی اولاد کو کھلاتے ہو وہ بھی تمہارے لیے صدقہ ہے، اور جو کچھ تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو وہ بھی تمہارے لیے صدقہ ہے، اور جو کچھ تم اپنے خادم کو کھلاتے ہو وہ بھی تمہارے لیے صدقہ ہے۔

مَا أَعْطَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، فَهُوَ صَدَقَةٌ۔ [مسند احمد بن حنبل، ج: 29، ص: 154، رقم الحديث: 17617]

آدمی جو کچھ اپنی بیوی کو دیتا ہے وہ صدقہ ہے۔

الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِيْنِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ۔ [سنن الترمذي، ج: 2، ص: 196 nudge، رقم الحديث: 664]

صدقہ کسی مسکین کو دینا صرف صدقہ ہے، لیکن اگر وہی صدقہ کسی رشتہ دار کو دیا جائے تو وہ دوگنا اجر رکھتا ہے: ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔

إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ صَدَقَةً۔ [صحيح مسلم، ج: 2، ص: 695، رقم الحديث: 1002]

مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر اللہ کی رضا کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ خرچ بھی اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔

گھر والوں کی خدمت؛ راہِ خدا میں خرچ

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ محبت، خیال اور خیر خواہی کا جذبہ اپنائیں۔ اگر راستے میں چلتے ہوئے کوئی پھل یا کھانے پینے کی اچھی چیز نظر آئے تو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھر والوں کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لے لیا کریں۔ اسی طرح جب سفر پر جائیں تو واپسی پر اپنے والدین، بہن بھائی، بیوی اور بچوں کے لیے چھوٹے چھوٹے تحائف لانے کی عادت بنائیں، تاکہ ان کے دل خوش ہوں اور گھر میں محبت و اپنائیت کا ماحول قائم رہے۔

یاد رکھیے! نیت اگر اللہ کی رضا کی ہو تو اپنے اہل خانہ پر کیا جانے والا ہر خرچ صدقہ اور راہِ خدا میں خرچ کا ثواب دلائے گا۔ اس کی تائید میں ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے!

ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی طاقت، چستی اور محنت کو دیکھ کر بہت تعجب کیا اور عرض کیا: “یا رسول اللہ ﷺ! اگر یہ شخص اللہ کی راہ میں ہوتا (تو کتنا اچھا ہوتا)!” اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کیا اللہ کی راہ صرف جنگ اور قتال ہی ہے؟” پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی شخص اپنے چھوٹے بچوں کے لیے رزق کمانے کے لیے نکلتا ہے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہے۔ اور اگر کوئی اپنے بوڑھے والدین کی خدمت اور ان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے نکلتا ہے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہے۔ اور اگر کوئی اپنے نفس کو حلال کمائی کے ذریعے پاک اور محفوظ رکھنے کے لیے کام کرتا ہے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص دکھلاوے اور فخر کے لیے نکلتا ہے تو وہ شیطان کے راستے میں ہے۔ [المعجم الکبیر، ج: 19، ص: 129، رقم الحدیث: 282]

مولیٰ قدیر ہمیں اپنے اہلِ خانہ پر دل کھول کر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم۔

21 ذی الحجۃ الحرام 1447ھ / 8 جون 2026ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!