| عنوان: | ہمارا عمل حسینی یا یزیدی؟ |
|---|---|
| تحریر: | مفتی جاوید اختر رضوی مصباحی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
ماہ محرم الحرام میں بہت سے مسلمانوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی عقیدت میں جانے انجانے میں کچھ ایسے ناجائز کاموں کی عادت بنا لی ہے جن کی شرعاً اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عموماً دلوں پر خوش نما بدعتوں کی محبت کا غلبہ ہونے کے سبب حالات اگرچہ مایوس کن ہو گئے ہیں مگر آج بھی بہت سے ایسے دین کا درد رکھنے والے لوگ موجود ہیں جو جذبات میں آ کر ہنگامہ خیزی کے بجائے ٹھنڈے دماغ سے غور و فکر کرتے ہیں، کسی چیز کے جائز و ناجائز قرار دینے میں اپنی طبیعت کو معیار بنانے کے بجائے، شریعت مطہرہ کی کسوٹی پر اسے رکھتے ہیں اور جو شریعت میں ناجائز بتایا گیا ہے اس سے بچنے کی حد درجہ کوشش کرتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم چند شرعی باتیں مستند حوالوں کی روشنی میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ بالخصوص اس سلسلے میں ہم نے مجدد دین وملت، اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کے ارشادات عالیہ کو نقل کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ حق و ناحق خوب واضح ہو جائے۔
تعزیہ سے متعلق اعلیٰ حضرت کا فتویٰ
مطلق تعزیہ داری یعنی روضۂ امام حسین رضی اللہ عنہ کا صحیح نقشہ بنا کر تبرکاً مکان و دکان میں رکھنا شرعاً کوئی حرج نہیں بلکہ جائز ہے۔ مگر آج جاہلوں نے اس اصل جائز کو بالکل نیست و نابود کر کے صدہا خرافات پیدا کر لیے ہیں جس کی بنا پر ایک جائز چیز ناجائز ہو گئی، کیوں کہ اولاً تو نفس تعزیہ میں روضۂ مبارک کی نقل ملحوظ نہ رہی، ہر سال نئی تراش و خراش، پھر کسی میں پریاں، کسی میں براق، کسی میں اور بیہودہ طمطراق، پھر نگر نگر ڈگر ڈگر گھمانا، جھک جھک کر اس تعزیہ کو سلام کرنا، مشغول طواف ہونا، سجدہ کرنا، عورتوں کا تعزیہ دیکھنے نکلنا اور پھر ان مایہ بدعات کو امام حسین کی جلوہ گاہ سمجھ کر فاتحہ پڑھنا، اس کے ارد گرد تعظیماً ننگے پاؤں چلنا، حاجت روا جاننا اور اخیر میں پانی میں غرق کر دینا، یا زمین میں دفن کر دینا، یہ سب ناجائز و گناہ ہیں۔ اگرچہ شرک نہیں۔[ملخصاً فتاویٰ رضویہ، ج: 9، 24، ص: 512 / 35، مکتبہ: رضا اکیڈمی ممبئی۔ فقیہ ملت دہلی]
تعزیہ سے متعلق حضور صدر الشریعہ کا قول
تعزیہ داری کے سلسلے میں کہیں تخت و ضریح بنائے جاتے ہیں اور کہیں علم و شدے نکالے جاتے ہیں۔ ڈھول تاشے اور قسم قسم کے باجے بجائے جاتے ہیں، تعزیوں کا بہت دھوم دھام سے گشت ہوتا ہے، آگے پیچھے ہونے میں جاہلوں کی طرح جھگڑتے ہیں، تعزیوں سے منتیں مانی جاتی ہیں، سونے چاندی کے علم چڑھائے جاتے ہیں، ہار، پھول اور ناریل چڑھاتے ہیں، وہاں جوتے پہن کر جانے کو گناہ جانتے ہیں۔ تعزیوں کے اندر دو مصنوعی قبریں بناتے ہیں، ایک پر سبز غلاف اور دوسرے پر سرخ غلاف ڈالتے ہیں۔ سبز والی کو امام حسن رضی اللہ عنہ کی قبر اور سرخ والی کو امام حسین رضی اللہ عنہ کی قبر یا شبیہ قبر بتاتے ہیں اور وہاں فاتحہ دلواتے ہیں، یہ تصور کر کے کہ امام عالی مقام کے روضہ اور مواجہہ اقدس میں فاتحہ دلا رہے ہیں۔ پھر یہ تعزیہ دسویں محرم کو مصنوعی کربلا میں لے جا کر دفن کرتے ہیں، گویا یہ جنازہ تھا جسے دفن کر آئے، پھر تیجہ، دسواں چالیسواں کیا جاتا ہے، کہیں بڑی بڑی قبریں بنتی ہیں۔ حضرت قاسم کی مہندی نکالتے ہیں۔ اسی تعزیہ داری کے سلسلے میں کوئی پیک بنتا ہے جس کے کمر میں گھنگھرو بندھے ہوتے ہیں (جو ہرکاروں کی طرح بھاگا پھرتا ہے) تعزیہ نکالنے کے وقت بعض سنی حضرات بھی مرثیہ پڑھتے ہیں جس میں غلط واقعات نظم کیے جاتے ہیں: یہ سب از روئے شرع ناجائز و گناہ ہیں۔[ملخصاً، بہار شریعت، ج: 4، ص: 3]
اعلیٰ حضرت کا قول غافلوں کے لیے
جو شخص مروجہ تعزیہ داری (دور حاضر میں جس طریقے پر تعزیہ داری ہوتی ہے) کو ناجائز بتائے اور اس بنا پر لوگ اسے کافر یا مرتد قرار دیں تو یہ سخت گناہِ کبیرہ ہے اور ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ تجدید اسلام و نکاح کریں۔[ملخص فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 501]
تعزیہ کا ڈھانچہ مسجد میں رکھنا کیسا ہے؟
تعزیہ کا ڈھانچہ مسجد میں رکھنا حرام و گناہ ہے، چاہے نیچے کی منزل میں رکھیں یا اوپر کی، مسجد کشادہ ہو یا تنگ کہ مسجد اس کام کے لیے نہیں بنائی گئی ہے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “مساجد تو ذکر الٰہی اور نماز و تلاوت قرآن کے لیے ہیں۔”[صحیح مسلم، جلد: 1، باب وجوب غسل البول]
تعزیہ کے چڑھاوے کا حکم
فتاویٰ رضویہ میں ہے: امام حسین رضی اللہ عنہ کی نیاز تبرک ہے، اسے کھانی چاہیے لیکن تعزیہ پر جو مٹھائی چڑھائی جاتی ہے اگرچہ حرام نہیں ہوتا مگر اس کے کھانے میں جاہلوں کی نظر میں ایک امر ناجائز شرعی کی وقعت بڑھانی اور اس کے ترک میں اس سے نفرت دلانی ہے، لہٰذا نہ کھائی جائے۔[فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 524]
نیز اس میں ہے: فاتحہ جائز ہے روٹی، شیرینی، شربت وغیرہ کی، چاہے جس پر ہو مگر تعزیہ پر رکھ کر یا اس کے سامنے فاتحہ دلانا جہالت ہے اور اس پر چڑھانے کو سبب تبرک سمجھنا حماقت ہے۔ لہٰذا اس سے بچنا چاہیے۔ (بلکہ گھروں میں فاتحہ دلوانی چاہیے)
جو خرافات عشرۂ محرم میں کی جاتی ہیں ان کی منت ماننا کیسا ہے؟
بہت سے لوگ تعزیہ رکھنے، اس میں پیسے خرچ کرنے یا پیک بننے کی منت مانتے ہیں کہ پانچ دس برس تک ایسا کریں گے، منع کرنے پر کہتے ہیں کہ اگر ان منتوں کو پورا نہ کیا جائے تو کوئی آفت آ جائے گی یا بچہ مر جائے گا وغیرہ۔ (یاد رکھیں!) یہ سب لغو خیالات ہیں، حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسی منت ماننی ہی نہیں چاہیے اور اگر مان لی تو پوری نہ کرے، کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “معصیت کی منت نہیں ہوتی۔”[فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 494/493]
اسی طرح طواف تعزیہ کی منت ماننا جائز نہیں بلکہ منت روزہ رکھنے، نماز، قرآن، درود، کلمہ شریف پڑھنے یا فقیروں کو کھانا، کپڑا یا پیسہ دینے کی ماننی چاہیے کہ یہ شریعت میں پسندیدہ اور محبوب امر ہے۔
10 ویں محرم کو سرخ، سبز اور سیاہ کپڑوں کا حکم
عشرۂ محرم میں تین رنگ کے لباس اہل بدعت پہنتے ہیں، ان تینوں سے بچنا چاہیے: (1) سرخ یا گلابی کہ یہ خوارج دشمناں اہل بیت اظہار مسرت کے لیے پہنتے ہیں۔ (2) سیاہ: اس کو روافض پہنتے ہیں۔ (3) سبز یا دھانی: یہ تعزیہ داروں کا شیوہ ہے۔ ہاں! اگر کپڑا مختلف رنگ کا ہو تو کوئی حرج نہیں۔[ملخص فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 497]
10 ویں محرم میں روٹی نہ پکانا، جھاڑو نہ دینا، کپڑا نہ اتارنا کیسا ہے؟
بعض گھروں میں 10 ویں محرم کو نہ جھاڑو دیے جاتے ہیں، نہ چولہے جلائے جاتے ہیں، نہ کپڑے بدلے جاتے ہیں اور غسل کے سلسلے میں بھی طرح طرح کے من گھڑت رسوم کہ فلاں فلاں وقت نہیں نہانا چاہیے۔ اور شروع کے دس دنوں تک نئے کپڑے نہیں پہنے جاتے، اسی طرح ان ایام میں مچھلی، کبوتر اور مسور کی دال بھی نہیں پکائے جاتے۔ یہ سب جاہلانہ خیالات ہیں، جن کا اعتقاد رکھنا از روئے شرع درست نہیں بلکہ جہالت و حماقت ہے۔[ملخصاً فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 488]
محرم اور صفر میں شادی کرنا کیسا ہے؟
بعض جاہلوں میں مشہور ہے کہ محرم الحرام اور صفر المظفر کے مہینے میں شادی بیاہ کرنا، نئے کپڑے پہننا، نیا کام شروع کرنا منع ہے، یہ بالکل غلط اور خام خیالی ہے بلکہ یہ سارے امور کسی بھی مہینے میں کر سکتے ہیں۔[ملخصاً فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 488]
یہی حکم لڑکی رخصت کرنے کا بھی ہے۔
