Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

لوگ کیا چاہتے ہیں؟|عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی

لوگ کیا چاہتے ہیں؟
عنوان: لوگ کیا چاہتے ہیں؟
تحریر: عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی
پیش کش: لباب اکیڈمی

جب انسان اس سوال پر غور کرتا ہے کہ: “لوگ کیا چاہتے ہیں؟” تو آخرکار یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ اکثر لوگ اپنا بھلا چاہتے ہیں اور دوسروں میں محض نقص ہی تلاش کرتے ہیں۔ آپ نے بھی اس حقیقت پر غور کیا ہوگا کہ یہ باتیں اب بالکل عام ہوچکی ہیں: کوئی سادہ کپڑے پہنے تو کہا جاتا ہے، اتنی سادگی بھی اچھی نہیں، پہننے اوڑھنے کا سلیقہ ہی نہیں۔ کوئی اچھا اور قرینے سے پہنے تو فوراً فیصلہ سنا دیا جاتا ہے کہ ریاکار ہے، دکھاوا کرتا ہے، اتنا لادنا بھی ٹھیک نہیں۔

دین کا کام کرے تو کہا جاتا ہے، بہت پارسا بن گیا ہے، نہ کرے تو طعنہ ملتا ہے، اللہ نے اتنا علم دیا مگر پھر بھی دعوت و تبلیغ میں پیچھے ہے۔ اگر کسی پر مال خرچ کرے تو کہا جاتا ہے، اپنے پیسوں کا رعب جتا رہا ہے، ہم کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہا ہے، نہ کرے تو یہی جملہ سننے کو ملتا ہے کہ اتنا پیسہ رکھ کر بھی خرچ کرنے کا طریقہ نہیں جانتا۔ داڑھی رکھ لے تو ملا کہلا جاتا ہے، نہ رکھے تو اسلام کے احکام کا پاس نہیں۔ علم جلدی حاصل کرلے تو کہا جاتا ہے، بس یونہی چھوڑ پکڑ کر پڑھ لیا ہوگا، اور پڑھائی میں وقت زیادہ لگا دے تو اب بھی پڑھ ہی رہے ہو؟ آخر کون سی پڑھائی ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

اگر کوئی شخص تبلیغ کے میدان میں سرگرم ہو تو فوراً سوال اٹھتا ہے: یہ کام کیوں نہیں کیا؟ وہ ذمہ داری کیوں نہیں نبھائی؟ سیاست میں کیوں قدم نہیں رکھتا؟ اور اگر کوئی سیاست میں آ جائے تو آوازیں بلند ہوتی ہیں: یہ تو معاشرے کی اصل اصلاح کے لیے کچھ کرتا ہی نہیں۔ کوئی مسجد کے دائرے میں ہی خدمت کرے تو کہا جاتا ہے: یہ مسجد سے باہر نکل کر کیوں نہیں دیکھتا؟ اور اگر کوئی مسجد سے باہر دینی یا سماجی کام کرے تو الزام لگتا ہے: مساجد کو آباد کرنے کی فکر نہیں۔ کوئی سوشل میڈیا کے ذریعے کام کرے تو کہا جاتا ہے: یہ سب زبانی جمع خرچ ہے، زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اور جو میدانِ عمل میں زمین پر اتر کر کام کرے، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے: یہ زمانے کے حالات سے ناواقف ہے۔

یہ لوگ ہیں۔ لوگ! یہ کبھی راضی نہیں ہوتے۔ اور سچ یہ ہے کہ ہم سب کسی نہ کسی حد تک اسی “لوگ” والی بھیڑ میں شامل ہیں، ہمیں معلوم ہی نہیں کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ یہ مستقل نکتہ چینی اور عدمِ اطمینان کا رویہ نہ جانے کب ختم ہوگا؟

اس کا اصل علاج یہ ہے کہ پہلے خود اس بھیڑ سے نکلیں، اپنے نفس کو ان رویوں سے روکیں، اور پھر ایسے لوگوں کی محفل سے خاموشی کے ساتھ کنارہ کشی اختیار کریں۔ یقین مانیں! اس کے بعد آپ اپنی زندگی میں سکون اور کامیابی دونوں کو خود آتا دیکھیں گے، کیونکہ نہ چار لوگ، نہ چار باتیں، نہ کسی کا طنز، نہ طعنہ۔ نہ ان سے آپ کہیں گے، نہ آپ سنیں گے، اور اگر کبھی سن بھی لیا تو ان چار لوگوں کی آپ کو پروا ہی نہ ہوگی۔ صرف آپ، آپ اور آپ ہی رہیں گے۔ (یہ میرا ذاتی تجربہ ہے، الْحَمْدُ لِلّٰهِ)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!