Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کوئی عنوان نہیں

ماں کی عظمت
عنوان: ماں کی عظمت
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللّٰهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ [سورۃ البقرة: 83]

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے اور لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو پھر تم پھِر گئے مگر تم میں کے تھوڑے اور تم رو گرداں ہو۔

یہ تو شانیں بہت رفیع ہیں، جن پر رفعت، عزت و جاہت ختم ہے۔ صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علیہم۔ مسلمان ماں باپ کا کچّا بچہ جو حمل سے گر جاتا ہے اُس کے لیے حدیث میں فرمایا: کہ “روزِ قیامت اللہ عزوجل سے اپنے ماں باپ کی بخشش کے لیے ایسا جھگڑے گا جیسا قرض خواہ کسی قرض دار سے، یہاں تک کہ فرمایا جائے گا:

أَيُّهَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّهُ

“اے کچے بچے! اپنے رب سے جھگڑنے والے! اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑ لے اور جنت میں چلا جا۔” [بہارِ شریعت، ج: 1، حصہ: 1]

امام ابو بکر بن ابی الدنیا، ابوالمخارق سے مرسلاً راوی، حضور پرنور صلوات اللہ سلامہ علیہ فرماتے ہیں: شبِ اسریٰ میرا گزر ایک مرد پر ہوا کہ عرش کے نور میں غائب تھا، میں نے فرمایا: یہ کون ہے، کوئی فرشتہ ہے؟ عرض کی گئی: نہ۔ میں نے فرمایا: نبی ہے؟ عرض کی گئی: نہ۔ میں نے فرمایا کون ہے؟ عرض کرنے والے نے عرض کی: یہ ایک مرد ہے دنیا میں اس کی زبان یادِ الٰہی سے تر تھی اور دل مسجدوں سے لگا ہوا، اور (اس نے کسی کے ماں باپ کو برا کہہ کر) کبھی اپنے ماں باپ کو برا نہ کہلوایا۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 426]

وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا [سورۃ الإسراء: 23]

اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرو، انہیں بھلا برا مت کہو! یہاں تک کہ اف تک نہ کہو۔ انہیں مت جھڑکو بلکہ نرمی کے ساتھ پیش آؤ، ادب و احترام سے کلام کرو۔

ماں ایک باشعور اور عظیم خاتون ہے

جو بچوں کی زندگی میں تکلیفیں اٹھاتی ہے۔ جو اپنی اولاد کی خاطر اپنی آرزوؤں کا گلا گھونٹ دیتی ہے، اپنی خواہشات کو خاک میں ملا دیتی ہے، اپنی خوشیوں کا جنازہ نکال دیتی ہے جو خود نہیں کھاتی اور اپنے بچوں کو کھلاتی ہے۔

ماں کی مہربانی، شفقت بھول گئے کیا؟ ماں کہتی ہے وہ میں ہی ہوں جس نے تمہیں اپنے جگر کے خون کا دودھ بناکر پلایا۔ وہ میں ہی ہوں جب تو بستر پر پیشاب کر دیا کرتا تھا تو میں تمہیں دوسری جانب سلا دیا کرتی اور جب تو دوسری جانب بھی پیشاب کر دیا کرتا تو میں تمہارے پیشاب کیے ہوئے جگہ پر سو جایا کرتی تھی اور تجھے اپنے سینے پر سلایا کرتی تھی۔ بیٹا! وہ میں ہی ہوں جو تمہیں اپنے شکم میں نو مہینے تک بوجھ اُٹھائے لیے پھرتی رہی اور تمہارے وزن سے ہونے والے درد کو برداشت کرتی رہی۔

اپنی ماں سے جھوٹی محبت کرنے والو! اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو کہ آج ہمارے سینوں میں اپنی ماں کے لیے کتنی محبت ہے؟ انہوں نے گلشنِ قلب میں کتنے پھول کھلائے ہیں پھر بھی ہم ان کے احسانات، شفقتوں اور محبتوں کے بدلے میں ہم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ ہم میں سے اکثر و بیشتر لوگ اپنے والدین کی نافرمانی کرتے اور اُنہیں تکلیف دیتے ہیں۔ اپنے والدین کی محبت کے لگائے ہوئے چمن کے پھولوں کو قدموں سے مسل دیتے ہیں پھر بھی ایک ماں اپنے بیٹے کو کبھی بددعا نہیں دیتی۔ بلکہ دعا کرتی ہے کہ اے میرے رب! تو ہمارے لعل کو، تو ہمارے لختِ جگر کو، نورِ نظر کو ہدایت کے ساتھ ہمیشہ سکون و راحت کی زندگی عطا فرما۔

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ

اس کی ناپاک مٹی ہو، اس کی ناپاک مٹی ہو، اس کی ناپاک مٹی ہو جو اپنی ماں کو بڑھاپے میں پائے اور جنت میں داخل نہ ہو۔ [رواہ مسلم]

رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ جو شخص اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے اسے دنیا سے کوچ کرتے وقت کلمہ شہادت پڑھنا نصیب نہ ہوگا۔

جنت تو ماں کے قدموں تلے ہے،

اَلْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ

اگر ہم جنت چاہتے ہیں تو جس طرح ماں نے آپ کو بچپن میں پالا تھا اسی طرح آپ بھی ان کی خدمت کیجیے۔

والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی جزا

اُمُّ المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اس وقت قرآن مجید کی تلاوت کی آواز سنی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے عرض کیا: حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں، نیکی کرنے کا ثواب اسی طرح ہے، نیکی کا ثواب اسی طرح ہے تو ان کو یہ مقام کس طرح ملا تو فرشتوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ اپنی ماں کے ساتھ سب لوگوں سے بڑھ کر اچھا سلوک کیا کرتے تھے۔ [شرح مشکاۃ، ج: 6، ص: 525]

آسمان نے کہا: ماں کی عظمت و رفعت افلاک کی وسعتوں سے بڑھ کر ہے۔

زمین نے کہا: ماں کے پیروں کی دھول میں بھی پھول اگتے ہیں۔

چاند نے کہا: ماں ایسی میٹھی روشنی ہے جس میں ممتا اور محبت کی کلیاں مسکراتی ہیں۔

چاندنی نے کہا: ماں ایسی روشنی ہے جس میں تپش نہیں ہوتی۔

تاریکی نے کہا: ماں ایک تابندہ ستارہ ہے جو اندھیرے میں روشنی بکھیرتی ہے۔

ستاروں نے کہا: ماں ایسا دیپ ہے جس کی تابندگی کے آگے زہرہ، مریخ اور ثاقب کی بھی روشنی ماند پڑ جاتی ہے۔

بادل نے کہا: ماں کی نظرِ کرم ابرِ رحمت کا خوشگوار سایہ ہے۔

سمندر نے کہا: ماں کا دل ساگر سے بھی زیادہ گہرا ہے، جہاں پر رنج و غم چھپ جاتے ہیں۔

مالی نے کہا: ماں ایک چمن ہے جس کے پھولوں کی رنگت کبھی ماند نہیں پڑتی۔

پھولوں نے کہا: ماں ایسی خوشبو ہے جس کے وجود سے پوری کائنات معطر رہتی ہے۔

قدرت نے کہا: ماں میری طرف سے دنیا والوں کے لیے عظیم تحفہ اور انعامِ خداوندی ہے۔

اللہ رب العزت ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یارب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!