| عنوان: | شادیوں میں غیر اخلاقی رسمیں اور ہماری ذمہ داریاں |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا نعمانی مصباحی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہر شخص اولاد کی خواہش رکھتا ہے۔ جب اولاد اس دنیا میں آتی ہے تو والدین طرح طرح کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ پھر ان کی اچھی سے اچھی تعلیم و تربیت کا انتظام کرتے ہیں۔ جب اولاد بڑی ہو جاتی ہے تو والدین جہاں ان کے دیگر امور کے لیے فکر مند ہوتے ہیں وہیں ان کی شادی کی بھی فکر کرنے لگتے ہیں۔ اچھا رشتہ تلاش کر کے بچے بچیوں کو نکاح کے مقدس رشتے سے جوڑ دیتے ہیں۔
جب شادی کی بات آتی ہے تو لوگ طرح طرح کے رسم و رواج کو یاد کرنے لگتے ہیں چاہے وہ رسم غیر شرعی ہی کیوں نہ ہو۔ میں یہاں خاص طور پر ایک رسم (بارات) پر گفتگو کروں گا۔ جب دولہا نکاح کے لیے لڑکی کے گھر آتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے کچھ قریبی دوست اور عزیز رشتے دار بھی ہوتے ہیں۔ نوشہ کے ہمراہی کو باراتی کہتے ہیں۔ باراتیوں کی ضیافت لڑکی والے کرتے ہیں۔ کبھی تو وہ بخوشی ضیافت کرتے ہیں تو کبھی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے اور اس کا گھر بس جانے کی خاطر کرتے ہیں جب کہ شریعت میں ولیمہ لڑکے کے ذمے ہے، لڑکی والوں پر کچھ نہیں ہے۔ یہ تو ان کی کشادہ ظرفی ہے کہ رشتے ناطے اور دوست احباب کی دعوت کر کے سب کو اپنی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں۔ حالاں کہ ان کے یہاں بیٹی کی رخصتی کا غم ہوتا ہے کہ وہ لاڈ پیار سے پال پوس کر، زیورِ تعلیم و ادب سے آراستہ کر کے لڑکے کے سپرد کر دیتے ہیں۔
ولیمہ لڑکے کے ذمے ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات فرمائی اور بے سر و سامان مہاجرین کو انصار کا بھائی قرار دیا تو ان کو جہاں مال و اسباب اور مکانات کی ضرورت تھی وہیں زندگی گزارنے اور افزائشِ نسل کے لیے شادیوں کی بھی ضرورت تھی، تو مدینہ طیبہ میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا، پھر سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تشریف لائے، آپ پر پیلے پن (شاید ہلدی یا زعفرانی رنگ) کا اثر تھا تو سرکار نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے سونے کے نواۃ (پانچ درہم کے برابر) کے وزن (مہر) پر ایک خاتون سے نکاح کر لیا ہے۔ تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “بارک اللہ لک” اللہ تمہیں برکت سے نوازے اور فرمایا ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے۔ حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: “مَا هَذَا؟” أَوْ “مَه؟” فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: “بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ”. [أخرجه البخاري: 2049، ومسلم: 1427، وأحمد: 12708]
اس حدیثِ پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہو۔ کیوں کہ آپ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تھے اور مال و اسباب کی فراوانی نہیں تھی، اس کا خیال کرتے ہوئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جتنی استطاعت ہو اتنا ہی ولیمہ کرو۔ کیوں کہ عرب میں بکریاں خوب ہوا کرتی تھیں اور ہر کسی کے پاس آسانی سے دستیاب ہوتی تھیں، جب کہ اونٹ مہنگا تھا، اس لیے فرمایا کہ ایک بکری ہی میسر ہو تو اسی سے ولیمہ کرو۔
اس حدیثِ پاک میں لڑکے کی طرف سے ولیمہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ولیمہ کرو۔ ایک بات یہ بھی پتا چلی کہ جب نکاح کرنے والوں کو مبارک باد پیش کی جائے تو اس لفظ “بَارَكَ اللهُ لَكَ” سے پیش کی جائے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کو اپنی زبانِ فیض ترجمان سے ارشاد فرمایا۔
اب یہاں ایک خاص بات بارات کے حوالے سے یہ پیش کرنی ہے کہ جب نکاح کے لیے دن تاریخ طے کی جاتی ہے تو یہ بات بھی کر لی جاتی ہے کہ آپ کب اور کتنی تعداد میں آئیں گے تاکہ ہم آپ کی بہتر خاطر تواضع کر سکیں۔ اسی طرح جب آپ کہیں مہمان بن کر جاتے ہیں تو میزبان آنے والوں کی تعداد بھی پوچھ لیتا ہے تاکہ وقت پر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، ایک دو افراد کم بیش ہو جاتے ہیں تب تو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہاں زیادہ کمی بیشی ہو جائے تو ضرور پڑتا ہے۔ اس لیے دولہے کے ساتھ آنے والوں کی بھی تعداد پوچھ لی جاتی ہے تاکہ عین وقت پر کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
ایسے حالات میں تو ہونا یہ چاہیے کہ لڑکی والے سے ہی پوچھا جائے کہ کتنے لوگ ہم لے کر آئیں؟ اور لڑکی والوں کی رضا مندی سے لوگ آئیں تاکہ دونوں لوگ خیر سے نپٹ جائیں کسی کو کوئی پریشانی بھی نہ ہو اور نکاح کے ذریعہ مبارک رشتہ جڑ جائے۔ اب جو غور کرنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقع پر جب باراتیوں کے انتظام کی بات چل رہی ہو تو لڑکے والوں کا یہ مطالبہ کہ ہم پانچ سو، چار سو یا تین سو باراتی لائیں گے، لڑکے والوں کے اگر غیر مسلموں سے بھی روابط ہیں تو اس وقت یہ کہتے ہیں کہ اس میں آدھے غیر مسلم باراتی بھی ہوں گے مثلاً ایک سو، دوسو۔ ان کا بھی الگ سے انتظام کرنا پڑے گا، ہمارے تعلقات غیر مسلموں سے بھی ہیں، ہم ان کو نہیں چھوڑ سکتے۔ لہٰذا آپ ان کا بھی انتظام کیجیے گا اور یہ سارا بوجھ لڑکی والے پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ شرعاً کہاں تک درست ہے؟ شریعت اس کی کہاں تک اجازت دیتی ہے؟ شریعت اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتی، کہ زبردستی کر کے بلاوجہ کسی پر بوجھ ڈالنا ہوا، جو عقلاً اور شرعاً کسی طرح درست نہیں۔
آپ کے لوگوں سے تعلقات ہیں، آپ کے ملاقاتی غیر مسلم ہیں تو ان کو اپنے گھر بلا کر خوب کھلائیے، خوب ان کی دعوتیں کیجیے۔ طرح طرح کے پکوان کھلائیے۔ لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اپنے تعلقات کا سارا بوجھ لڑکی والوں پر ڈال دیا جائے۔ اس غیر اسلامی اور غیر اخلاقی کام میں بے شمار لوگ ملوث ہیں ان کو اپنی روش بدلنی اور اپنی اصلاح کر لینی چاہیے۔
بنارس کا ایک واقعہ ہے تقریباً ڈیڑھ سو باراتیوں کی بات طے پائی اور بارات رات میں آنے والی تھی، جب آئی تو باراتی دوگنا یعنی تین سو آگئے، اب رات میں فوری طور پر جو انتظامات کرنے میں پریشانی ہوئی وہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ اس کا احساس اسی کو ہوگا جس پر یہ مصیبت آئی ہو۔ لڑکی والے اپنی عزت اور بیٹی کی خاطر سب جھیل جاتے ہیں، اور قرض تلے دب جاتے ہیں۔ اس لیے لوگوں کو ایسا کرنے سے سخت پرہیز کرنا چاہیے۔ ایسا کرنا دھوکا اور ایک مسلمان کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ اس سے ضرور باز آجانا چاہیے۔
ایسا ہی ایک واقعہ جھارکھنڈ، دیوگھر کے اسہنا گاؤں کا ہے۔ سردیوں کی رات تھی۔ دیہات کا جنگلی علاقہ تھا اور رات کی شادی۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا کہ تقریباً آٹھ سو باراتی لے آئے۔ گاؤں کی شادی تھی تو بارات میں پورا گاؤں ہی امنڈ پڑا تھا۔ رات 10 بجے نکاح ہونا تھا جو 2 بجے رات کو ہوا۔ کیوں کہ فوری طور پر انتظامات کرنا وہ بھی دیہات کے علاقے میں، لڑکی والوں نے نہ جانے کیسے کیا ہوگا؟ اس قسم کے واقعات بہت پیش آتے ہیں۔ لڑکے والوں کو کم از کم یہ تو سوچنا چاہیے کہ ان کے پاس بھی بیٹیاں ہیں یا ان کے قریبی رشتے میں تو ضرور ہوں گی۔ کل ان کے ساتھ ایسا ہوا تو کیسا لگے گا؟
اسی ضمن میں ایک واقعہ اور پیش ہے۔ ایک زمین دار صاحب کی بیٹی کی شادی تھی، یہاں معاملہ الٹا تھا۔ دوسو باراتیوں کا مطالبہ تھا۔ تو لڑکے والوں نے کہا کہ ٹھیک ہم اس سے زیادہ ہی لائیں گے۔ پھر کہتے ہیں کہ میں فلاں فلاں مدرسے کے بچوں کو بارات میں لے آؤں گا تو لڑکی والے کہتے ہیں کہ ان کو نہیں بلکہ رشتے داروں کو لے آئیں تو ان کو پتے کا جواب ملا۔ کہتے ہیں کہ یہ سب بھی ہمارے دینی رشتے دار ہیں۔ بالآخر 80، 85 لوگ بارات میں پہنچے اور کل 78 لوگ کھانا کھا پائے، بقیہ لوگ ناشتہ کر کے واپس آ گئے کیوں کہ کھانا گھٹ گیا تھا۔ اسی کو کہتے ہیں جیسی نیت ویسی برکت۔ کیوں کہ ان کو دینی مدارس کے طلبہ بارات میں پسند نہیں آئے، ان کو ہائی فائی انگریز نما لباس پہنے ہوئے لوگ بارات میں چاہئیں، تاکہ چاروں طرف ان کی خوب واہ واہی ہو، ان کی سخاوت کے قصیدے پڑھے جائیں، ان کی خاطر تواضع کی تعریف کے پل باندھے جائیں۔ اس لیے ہمیں شادی بیاہ میں خصوصاً اور عام زندگیوں میں عموماً اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ درمیانی راہ اختیار کرنے میں ہی دونوں جہان کی بھلائی ہے۔
بعض ایسی گھٹیا حرکت پر اتر آتے ہیں کہ باراتیوں کے کھانے میں طرح طرح کے پکوان کی فرمائش کرتے ہیں۔ یہ فرائی، وہ فرائی، یہ ٹھنڈا، وہ میٹھا اور اس طرح کا بہترین چاول ہونا چاہیے۔ یہ نہایت درجے کی گری ہوئی حرکت ہے۔ مہمان کو میزبان پر اپنی پسند کا بوجھ ڈالنا ہرگز جائز نہیں، بلکہ جو ملے کھا لینا چاہیے۔ غیرت مند اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں سے اس کی توقع نہیں کی جاتی، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانے کو عیب نہیں لگایا، اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ حدیثِ پاک ملاحظہ ہو:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله تعالى عنه قَالَ: مَا عَابَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِلَّا تَرَكَهُ. [صحيح البخاري: 3563]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی، فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کو کبھی بھی عیب نہیں لگایا، اگر خواہش ہوتی (یعنی پسند آتا) تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیثِ پاک سے ہمیں بہت بڑا درس دیا ہے۔ اگر اس پر عمل کر لیں تو گھریلو جھگڑوں کا خاتمہ ہی ہو جائے کیوں کہ زیادہ تر میاں بیوی میں ناراضگی نمک کم ہونے، دال، سالن پتلا ہونے سے ہی ہوتی ہے، ہمیں ایسے حالات میں اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیثِ پاک کو یاد رکھنا چاہیے۔ اس سے آپ کے گھر میں خوشیاں آئیں گی۔
یہاں گفتگو چل رہی تھی شادیوں میں کھانے اور باراتیوں کے لیے فرمائش کرنے کی۔ تو سن لیجیے ہمیں فرمائش کرنے سے بالکل بچنا چاہیے۔ میزبان کی طرف سے جو بھی آئے خوشی خوشی تناول کر لے۔ اگر کسی نے فرمائش کی اور میزبان نہ پوری کر سکا یا اس معیار کا انتظام نہ کر سکا تو اس کی دل شکنی ہوگی، اس کا دل دکھے گا۔ اسلام میں کسی کا دل دکھانا بہت بڑا گناہ ہے۔
شادیوں کے کھانے میں ایک بات یہ بھی پیش آتی ہے کہ لڑکی والے باراتیوں کا تو اچھا سے اچھا انتظام کرتے ہیں چاہے فرمائش ہو یا نہ ہو اور رشتے داروں، گھراتیوں اور محلے کے ان لوگوں کو (جو شادی کے دو دن پہلے سے دو دن بعد تک کام کرتے ہیں اور شادی کے سارے انتظامات سنبھالتے ہیں) ان کو وہی عام کھانا کھلاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں باراتیوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، یقیناً وہ اہمیت کے حق دار ہیں کیوں کہ وہ مہمان ہیں۔ لیکن آپ عام لوگوں کو بھی وہی کھلائیں جو باراتیوں کو کھلاتے ہیں۔ سب کو اچھا اور ایک جیسا کھلائیں۔ باراتیوں کا الگ سے انتظام کرنے میں دوسروں سے کہیں نہ کہیں امتیازانہ سلوک ضرور برتا جاتا ہے جو اچھا نہیں۔ یوں ہی ولیمے میں امرا کو تو بلایا جاتا ہے لیکن فقرا کو چھوڑ دیا جاتا ہے جو ایک مذموم عمل ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله تعالى عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: “شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلی اللہ علیہ وسلم”. [صحيح البخاري: 5177، وصحيح مسلم: 1432]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “سب سے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں مال داروں کو بلایا جائے اور فقیروں کو چھوڑ دیا جائے”۔ اور جو دعوت کو ترک کرے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ (نافرمانی اس لیے ہوئی کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہے کہ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کی جائے۔ یہاں اس پر عمل نہیں ہوا)۔
شادیوں میں دعوت کی بابت ایک بات یہ بھی عرض کرنی ہے کہ دعوت دینے میں ہمیں پاس پڑوس کے غریب لوگوں کا بھی ضرور خیال رکھنا چاہیے۔ کیوں کہ محلے میں بہت سارے گھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے یہاں کئی کئی ہفتوں بعد گوشت بنتا ہے تب انھیں چند بوٹیاں کھانے کو مل پاتی ہیں، اگر پڑوس میں ایسے لوگ ہیں تو دعوت دینے میں ان کا ضرور خیال کرنا چاہیے، کیوں کہ ان کو کھلانے کے بعد جو خوشیاں انھیں حاصل ہوتی ہیں وہ ہماری زندگی بھر کی خوشیوں کی ضامن ہوتی ہیں۔ ان کی دعائیں جلدی قبول ہوتی ہیں۔ ان کو کھلانے کا ثواب بھی زیادہ ہے۔
اوپر ذکر کی گئی حدیثِ پاک سے ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ وہ کھانا برا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔ اس میں یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی دعوت دے تو اس کو قبول کیا جائے کیوں کہ دعوت قبول کرنا ایک مسلمان کا حق ہے۔ ہاں اگر کسی وجہ سے وہ نہیں آسکتا ہے تو پہلے ہی معذرت کر لے، دعوت کا انکار نہ کرے، اسے ٹھکرائے نہیں۔ کیوں کہ دعوت کا انکار کرنا یا قبول نہ کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا سبب ہے۔ اس لیے ہمیں اس حدیثِ پاک کو یاد رکھنا چاہیے اور اس پر عمل کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا بھی چاہیے کیوں کہ بہت سے لوگ اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کی بنا پر غلطی کر جاتے ہیں۔ اللہ عزوجل ہمیں عملِ خیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔
