Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

انبیائے کرام علیہم السلام زندہ ہیں

انبیائے کرام علیہم السلام زندہ ہیں
عنوان: انبیائے کرام علیہم السلام زندہ ہیں
تحریر: فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار، نیپال گنج

پیارے قارئین کرام! بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اب زندہ نہیں بلکہ مر کر مٹی میں مل گئے۔ مگر یہ عقیدہ مذہبِ حق اہلسنت و جماعت کے خلاف اور باطل ہے۔

حدیث شریف کی معتمد اور مشہور کتاب مشکوٰۃ شریف ص 121 پر ہے:

اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ۔
یعنی سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدائے عزوجل نے زمین پر انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے جسموں کو کھانا حرام فرما دیا ہے۔ لہٰذا اللہ کے نبی زندہ ہیں اور رزق دئے جاتے ہیں۔

اشعۃ اللمعات جلد اول ص 576 پر اس حدیث شریف کی شرح میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں: "پیغمبرِ خدا زندہ است بہ حقیقتِ حیاتِ دنیاوی۔ یعنی خدائے تعالیٰ کے نبی دنیاوی زندگی کی حقیقت کے ساتھ زندہ ہیں۔"

اور مرقاۃ جلد دوم ص 212 پر رئیس المحدثین حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:

لَا فَرْقَ لَھُمْ فِی الْحَالَیْنِ وَ لِذَا قِیْلَ اَوْلِیَاءُ اللہِ لَا یَمُوْتُوْنَ وَ لٰکِنْ یَّنْتَقِلُوْنَ مِنْ دَارٍ اِلٰی دَارٍ۔
یعنی انبیائے کرام کی قبلِ وصال اور بعدِ وصال کی زندگی میں کوئی فرق نہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ محبوبانِ خدا مرتے نہیں بلکہ ایک دار سے دوسرے دار یعنی ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔

رئیس المحدثین حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مرقاۃ جلد دوم ص 209 پر تحریر فرماتے ہیں:

اِنَّ الْاَنْبِیَاءَ فِیْ قُبُوْرِھِمْ اَحْیَاءٌ۔
یعنی انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔

اور سید المحققین حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اشعۃ اللمعات جلد اول ص 574 پر تحریر فرماتے ہیں کہ "حیات انبیا متفق علیہ است... حیات جسمانی دنیاوی حقیقی نہ حیات معنوی روحانی چنانکہ شہدا راست۔" یعنی انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیات متفق علیہ ہے، ان کی زندگی جسمانی حقیقی دنیاوی ہے، یہ شہیدوں کی طرح صرف معنوی اور روحانی نہیں ہے۔

ظاہر ہے کہ انبیائے کرام اگر بعدِ وفات زندہ نہ ہوتے تو معراج کی رات حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے بیت المقدس میں کیسے آتے۔ یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ ان کی زندگی برزخی نہیں بلکہ دنیاوی ہے، بس فرق اتنا ہے کہ وہ ہم جیسے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔

مراقی الفلاح مع طحطاوی مطبوعہ مصر ص 447 میں حضرت شیخ حسن شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

وَمِمَّا هُوَ مُقَرَّرٌ عِنْدَ الْمُحَقِّقِيْنَ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ يُرْزَقُ... غَيْرَ أَنَّهُ حَجَبَ عَنْ أَبْصَارِ الْقَاصِرِيْنَ عَنْ شَرِيْفِ الْمقَامَاتِ۔
یعنی یہ بات اربابِ تحقیق کے نزدیک ثابت ہے کہ سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حقیقی دنیاوی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں، لیکن جو لوگ بلند درجوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں ان کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔

امامِ اہلسنت سیدی و سندی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں؛
تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
مری چشمِ عالم سے چھپ جانے والے

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے مکتوبِ سلوک اقرب السبل بالتوجہ الی سید الرسل ص 161 میں فرماتے ہیں کہ "علمائے امت میں اتنے اختلافات و کثرتِ مذاہب کے باوجود کسی شخص کو اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آں حضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حیات (دنیاوی) کی حقیقت کے ساتھ قائم اور باقی ہیں... اور امت کے اعمال پر حاضر و ناظر ہیں۔"

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!