Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط نہم)

امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط نہم)
عنوان: امام احمد رضا اور علم اصول فقہ (قسط نہم)
تحریر: حضرت مولانا مفتی محمد شمشاد حسین بدایونی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

فتویٰ دینا کسے حلال ہے؟
آج کل چند درسی کتابیں پڑھ پڑھا لینے سے بعض لوگ اپنے آپ کو مفتی کہلانے لگتے ہیں، اور بزعمِ خویش دارالافتاء کے مفتی بن بیٹھے ہیں اور بعض کا حال تو یہ ہے کہ حکمِ شرع کی انہیں معلومات ہو یا نہ ہو فتویٰ دینے میں بڑے جری اور بے باک ہوتے ہیں، آج عملی اعتبار سے قوم کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔ حالانکہ فتویٰ دینا تلوار کی دھار پر چلنے کے مرادف ہے۔ حضرت عطا بن سائب جلیل القدر تابعی ہیں وہ فرماتے ہیں: میں نے فتویٰ دینے والے بزرگوں کو بچشمِ خود دیکھا ہے کہ جب وہ فتویٰ دیتے تو ان کے بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی۔

امام احمد رضا نے اس سلسلے میں ایک غامض پہلو کی جانب اشارہ فرمایا ہے، وہ ارشاد فرماتے ہیں: طب کی طرح افتا بھی صرف پڑھنے سے نہیں آتا اس میں بھی طبیبِ حاذق کے مطب میں بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ علم الفتویٰ پڑھنے سے نہیں آتا جب تک مدتہا کسی طبیبِ حاذق کا مطب نہ کیا ہو۔ (فتاویٰ رضویہ قدیم، ۱۰/ ۲۳۱)

علامہ شامی علیہ رحمۃ الباری نے تو "شرح عقود" میں ماہر استاد سے تربیت حاصل کیے بغیر فتویٰ دینے والے کو جاہل قرار دیا ہے اور ایسے لوگوں کو سخت سزا تک دینے کی بات کہی ہے۔

فتویٰ کس قول پر دیا جائے؟
سراج الامۃ کاشف الغمۃ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر فتویٰ دینے سے متعلق امام احمد رضا کا ارشاد ہے:
"علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مفتی مطلقاً قولِ امام پر فتویٰ دے، اور قاضی عموماً مذہبِ امام پر فیصلہ کرے یعنی جب کوئی ضرورتِ مثل تعامل المسلمین یا اجماع المرجحین علی الخلاف کے داعی ترک نہ ہو، کما فی مسئلتی جواز المزارعۃ و تحریم القلیل من المائع المسکر، اور حکم دیتے ہیں کہ قولِ امام پر فتویٰ دینے سے متعلق امام احمد رضا نے ایک مستقل محققانہ رسالہ "اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقاً علی قول الامام" تحریر فرمایا ہے اس میں علامہ ابن شبلی کے فتویٰ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں:
قاضی اور مفتی کو امام کے قول سے انحراف جائز نہیں، ہاں اگر مشائخ میں سے کوئی اس امر کی صراحت کر دے کہ فتویٰ غیر کے قول پر ہے۔ تو اگر کسی مسئلہ میں غیر کا قول راجح نہ ہوا اور امام کی دلیل کو غیر کی دلیل پر ترجیح حاصل ہو تو قاضی کو روا نہیں کہ وہ امام کے قول کے علاوہ کسی اور قول پر فتویٰ دے۔" (رسالہ اجلی الاعلام مترجم)

ایک دوسری جگہ اپنے فتوے میں رقم طراز ہیں:
"محققین تصریح فرماتے ہیں کہ قولِ امام پر فتویٰ واجب ہے اس سے عدول نہ کیا جائے اگرچہ صاحبین خلاف پر ہوں، اگرچہ مشائخ مذہب قولِ صاحبین پر افتا کریں۔" (فتاویٰ رضویہ قدیم، ۱/۱۷۳)

وقف و قضا کے مسائل میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول پر فتویٰ دئے جانے سے متعلق مجددِ موصوف نے تحریر فرمایا:
ہاں علماء نے مسائلِ وقف و قضا کی نسبت بے شک فرمایا کہ وہاں غالباً قولِ ثانی پر فتویٰ ہے اس سے ہر وہ امر کہ زیرِ قضا آ سکے مراد نہیں، تاکہ امثالِ صوم کے سوا نکاح و بیع و ہبہ و اجارہ و رہن و غیرہا تمام ابوابِ فقہ کو عام ہو جائے۔ (فتاویٰ رضویہ قدیم، ۵/۴۷۳)

مختلف اقوال میں ترتیب:
کسی مسئلے میں اگر ائمہ حنفیہ کے مختلف اقوال ہوں تو فتویٰ دینے میں ترتیب کیا ہوگی؟ امام احمد رضا کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
"پہلے قولِ امام، پھر امام یوسف، پھر امام محمد، پھر امام زفر و امام حسن بن زیاد۔" درمختار میں ہے: "يأخذ القاضي كما للمفتي بقول أبي حنيفة على الإطلاق ثم بقول أبي يوسف ثم بقول محمد ثم بقول زفر والحسن بن زياد هو الأصح" (فتاویٰ رضویہ جدید، ۲/۷۳۴)

قولِ امام سے عدول کی صورت:
چھ باتیں ہیں جن کے سبب قولِ امام بدل جاتا ہے لہٰذا قولِ ظاہر کے خلاف عمل ہوتا ہے اور وہ چھ باتیں (۱) ضرورت (۲) دفعِ حرج (۳) عرف (۴) تعامل (۵) دینی ضروری مصلحت کی تحصیل (۶) کسی فسادِ موجود یا مظنونِ بطنِ غالب کا ازالہ، ان سب میں بھی حقیقتہً قولِ امام ہی پر عمل ہے۔ (ایضاً ۱/۳۸۵)

متون شروح و فتاویٰ پر مقدم ہیں:
علماء ارشاد فرماتے ہیں: عمدہ ترین کتبِ مذہب متون ہیں پھر شروح، پھر فتاویٰ، عند التخالف متون سب پر مقدم ہیں اور فتاویٰ سب سے مؤخر (ایضاً ۴/۲۵۸)۔ ایک دوسرے مقام پر امام احمد رضا فرماتے ہیں: "وعندي مثل المتون والشروح والفتاوى في الفقه مثل الصحاح والسنن والمسانيد في الحديث" میرے نزدیک فقہ میں متون، شروح اور فتاویٰ کا حال وہی ہے جو حدیث میں صحاح، سنن اور مسانید کا حال ہے۔ (ایضاً قدیم ۲/۲۰۸)

فقہاء کے کلام میں احاطہ صور:
فقہاء کے کلام میں تمام صورتوں کا احاطہ صراحت کے ساتھ ہونا ضروری نہیں، فقہاء بعض صورتیں ذکر کرتے ہیں مگر ان کی مراد تمام تر صورتیں وہی ہیں۔ امام احمد رضا فرماتے ہیں:
"متون نہ متون جن کی وضع اختصار پر ہے بلکہ شروح میں بھی جن کا کام ہی تفصیل و تکمیل ہے صدہا جگہ احاطہ صور نہیں ہوتا بعض کی تصریح بعض کی تلوین کے سکوت کے اشارت، دلالت اقتضاء فحویٰ سے مفہوم ہوں اور کبھی بعض یکسر مطوی... (فقہ کے ادراک میں یہ مشکل مرحلہ ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر مشکل کو آسان فرماتا ہے۔) (ایضاً ۵/۵۲۲)

اصول افتا میں امام احمد رضا قدس سرہ کے افادات کے یہ چند نمونے ہیں، جنہیں راقم الحروف نے بعجلت تحریر کیا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ فقیر جلد ہی اس موضوع پر مفصلاً ان کے افادات قلمبند کر کے اہل علم اور اربابِ فقہ کی خدمت میں پیش کرے گا۔ جن سے امام احمد رضا کے فکر و تفقه کے مزید جلوے سامنے آئیں گے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!