Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی حیات اور کارنامے (قسط اول)

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی حیات اور کارنامے (قسط اول)
عنوان: حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی حیات اور کارنامے (قسط اول)
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف
منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف

سراج السالکین، زبدۃ العارفین، چشم و چراغِ خاندانِ برکات حضرت سیدنا شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی صاحب علیہ الرحمہ کی عظیم بشارت بن کر دنیا میں تشریف لانے والی ذاتِ قدسی صفات، تاجدارِ اہل سنت، شہزادۂ اعلیٰ حضرت، ابوالبرکات آلِ الرحمن، محی الدین، مفتیِ اعظم حضرت علامہ شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں قادری برکاتی نوری علیہ الرحمہ کی ہے۔ آپ نے اپنی 92 سالہ حیات میں دین و سنیت کی وہ عظیم خدمات انجام دی ہیں جنہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔

ولادتِ با سعادت:
شہزادۂ امامِ اہلِ سنّت، مفتیِ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفیٰ رضا خان نوری رضوی رحمۃُ اللہ علیہ 22 ذی الحجہ 1310ھ کو صبحِ صادق کے وقت بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔

آپ رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش کے وقت حضور سیّدی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت رحمۃُ اللہ علیہ اپنے مُرشِد خانہ مارہرہ شریف میں تھے۔ صبح کو فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں حاضر ہوئے اور جب مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگے تو نور العارفین حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری قدس سرہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، آپ کو مخاطب فرماتے حضرت نورالعارفین نے بشارت سنائی اور مبارک باد دیتے ہوئے فرمایا: "مولانا صاحب! آپ کے یہاں ایک عظیم فرزند کی ولادت ہوئی ہے، وہ بچہ نہایت مبارک ہے، ہم نے اس کا نام آلِ الرحمن ابوالبرکات محی الدین جیلانی رکھا ہے۔" ساتھ میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم جلد ہی بریلی آکر اس بچہ کی روحانی امانتیں اس کے سپرد کریں گے۔

سیدنا اعلیٰ حضرت نے بریلی شریف آکر ساتویں دن ’’محمد‘‘ نام پر آپ کا عقیقہ کیا اور عرفی نام ’’مصطفیٰ رضا‘‘ تجویز فرمایا۔

خلافت اور بشارتِ نوری:
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی ولادت کے چھ ماہ بعد جمادی الآخرہ 1311ھ میں حضرت نورالعارفین بریلی تشریف لائے اور آپ کو گود میں لے کر خلافت سے سرفراز فرمایا اور جدید و قدیم تیرہ سلاسل کی اجازت عطا فرمائی، ساتھ ہی ارشاد فرمایا: "یہ بچہ مادر زاد ولی ہے، فیض کے دریا بہائے گا۔" اس کے بعد امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے بھی اپنے لختِ جگر کو تمام سلاسل کی اجازت عطا کی، اس طرح خاندانِ برکات کے دو چشم و چراغ سے حضور مفتی اعظم ہند نے بلاواسطہ فیض پایا۔

تعلیم و تربیت:
حضور مفتی اعظم ہند رحمۃُ اللہ علیہ کی عمر جب چار سال، چار ماہ اور چار دن ہوئی تو رسمِ بسم اللہ خوانی خود امامِ اہلِ سنت نے فرمائی اور بڑے بیٹے حضور حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کو آپ کی تعلیم و نگہداشت کے لئے خاص طور پر مقرر کرتے ہوئے فرمایا: ”میری مصروفیات سے تم باخبر ہو، تم اپنے بھائی کو پڑھاؤ۔“

آپ نے جملہ علوم و فنون اپنے والد ماجد سیدنا امام احمد رضا، برادرِ اکبر حجۃ الاسلام حضرت علامہ شاہ محمد حامد رضا خاں، استاذ الاساتذہ علامہ شاہ رحم الہی منگلوری، شیخ العلماء علامہ شاہ سید بشیر احمد علی گڑھی، اور شمس العلماء علامہ ظہور الحسین فاروقی رامپوری سے حاصل کئے اور 18 سال کی عمر میں تقریباً چالیس علوم و فنون میں مہارت حاصل کر کے سندِ فراغت حاصل کی۔

فتوٰی نویسی:
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے 1328ھ میں 18 سال کی کم عمری میں رضاعت کے مسئلہ پر پہلا فتویٰ لکھا۔ آپ کی فتوٰی نویسی کی ابتدا کا واقعہ دلچسپ ہے۔ جب آپ فارغ التحصیل ہوئے تو کسی دن دارالافتا میں تشریف لائے، دیکھا کہ تلمیذِ اعلیٰ حضرت ملک العلما مولانا ظفرالدین بہاری فتویٰ لکھنے کے سلسلہ میں فتاویٰ رضویہ کے مطالعہ میں مشغول ہیں۔ آپ نے فرمایا: "فتاویٰ رضویہ دیکھ کر فتویٰ لکھتے ہیں؟" ملک العلما نے جواب دیا: "اچھا تو آپ بغیر دیکھے لکھ دیں تو جانوں۔" آپ نے فوراً مراجعتِ کتب کے بغیر مدلل فتویٰ تحریر فرما دیا۔

فتویٰ جب اعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپ نے فرمایا: "یہ کس نے لکھا ہے؟" عرض کیا گیا: چھوٹے میاں نے۔ اعلیٰ حضرت نہایت مسرور ہوئے اور تحریری طور پر اس کی تصدیق و تصویب فرمائی۔ ساتھ ہی پانچ روپے انعام میں عطا فرمائے اور ارشاد فرمایا: "تمہاری مہر بنوا دیتا ہوں، اب فتویٰ لکھا کرو، اپنا ایک رجسٹر بنالو اس میں نقل بھی کرلیا کرو۔"

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کا درسِ افتاء:
فتویٰ نویسی سکھانے میں حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃُ اللہ علیہ ایک امتیازی شان کے مالک تھے۔ آپ درسِ افتا میں اس بات کا خيال فرماتے تھے کہ صرف مخصوص حکم کی پہچان نہ ہو بلکہ مسئلے کے تمام پہلو ذہن نشین ہو جائیں۔ پہلے آیات و احادیث سے استدلال کرتے، پھر اصولِ فقہ و حدیث سے اس کی تائید دکھاتے اور قواعدِ کلیہ کی روشنی میں اس کا جائزہ لے کر کتبِ فقہ سے جزئیات پیش فرماتے۔ اگر مسئلہ میں اختلاف ہوتا تو قولِ راجح کی تعیین دلائل سے کرتے اور اصولِ افتا کی روشنی میں یہ بھی بتاتے کہ فتویٰ کس پر ہے؟

تصنیف و تالیف:
حضرت مفتیِ اعظم ہند رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنی کثیر مصروفیات کے باوجود مختلف موضوعات پر بہت ساری کتابیں لکھی ہیں جو آپ کی علمی صلاحیت اور فقہی مہارت کا بین ثبوت ہیں۔ آپ کی تحریر میں والدِ ماجد اعلیٰ حضرت کے اسلوب کی جھلک اور تحقیق کا کمال نظر آتا ہے۔ (آپ کی طویل فہرستِ تصانیف اگلی قسط میں مکمل کی جائے گی)۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!