ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: پنجم)|مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی

ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: پنجم)
عنوان: ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: پنجم)
تحریر: مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

ظاہر ہے دنیا میں مسائل کے حل کا طریقہ یہی رہا ہے کہ مسائل کی نوعیت جیسی ہوگی، ان کا حل بھی ویسا ہی ہوگا۔ حل میں سب سے اہم کردار عقل و شعور کی پختگی، تجربہ کاری، سنجیدگی اور جفاکشی کا ہوا کرتا ہے۔ اقبال کی زبانی: یقینِ محکم، عملِ پیہم، محبت فاتحِ عالم بھی کہہ سکتے ہیں۔ تاہم فی الوقت اس اجمال کی قدرے تفصیل یوں ہو سکتی ہے:

(1) تعلیم: تعلیم جیسے ہر دور میں علاج رہی ہے، آج کے سول سروسز کے دور میں بھی ہے اور ہزار آندھیوں کے چلنے کے باوجود یہ کج کلاہی باقی ہے۔

(2) اتحاد: اس سلسلے میں مسلمانوں کو بہت دانشوری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مسلم سماج اب تک جتنے فرقوں میں بٹ چکا ہے اور فرقہ پرستی کی جڑیں جتنی گہری ہو چکی ہیں، اب یہ مشورہ قابلِ عمل نہیں کہ وہ مناظر مزاج ایک ہو جائیں اور غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح مان لیں، ہاں! اتنی گنجائش نکالی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے ملک کے موجودہ تناظر میں ملی مسائل کے حل کے لیے ایک چھت کے نیچے جمع ہوں اور کم سے کم اس اسٹیج پر امت من حیث الامۃ کے مسائل زیرِ بحث لائیں۔

یاد رکھیں! یہ فکر پچھلی کئی دہائیوں سے دہرائی جا رہی ہے اور ہمارا ایک خاص طبقہ اسے بھی نشانِ طعن بناتا رہا ہے لیکن اب صورتِ حال جتنی نازک ہو چکی ہے، اگر یہ نہ کیا تو اپنی عاقبت برباد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہٹ دھرمی اور اندھی عقیدتوں کے خول سے باہر نکل کر اسلام کی عظمتوں کے پہرے دار بنیں۔

(3) اخلاق: یہ بات کہنے کی نہیں لیکن سچ ہے: اخلاق پر سب سے زیادہ تقریر کرنے اور سننے والی ملت آج اخلاقی گراوٹوں کا اس قدر شکار ہو چکی ہے کہ اس کی بداخلاقیاں اور یورپ کا اخلاق بطور مثال پیش کیا جانے لگا ہے۔ ضروری ہے کہ باتیں کرنے سے زیادہ ہم اپنی نسلوں میں صبر، سنجیدگی، حسنِ ظن، ادب، خدمتِ خلق، شوقِ مطالعہ، باکاری، صوم و صلاۃ کی پابندی، امانت، ایفائے عہد، خوش کلامی، سادگی اور عاجزی پیدا کرنے کے لیے تربیتی طریقے اپنائیں اور اس سلسلے میں فکر مند رہیں اور ٹھیک ان اخلاقیات کی اضداد یعنی لالچ، اشتعال انگیزی، جذباتی پن، بدگمانی، بدتمیزی، مطلب پرستی، ناخواندگی، بے کاری، بددیانتی، خیانت، بے وفائی، تکلفات اور تکبر کی آلائشوں سے اپنی معصوم کلیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پہلے سے تدابیر اپنائیں۔

یہ اخلاقی پہلو جتنی سادگی کے ساتھ یہاں بیان ہو گئے ہیں، عملی دنیا میں اتارنے کے لیے سالوں سال متحرک اور فکر مند رہنا پڑتا ہے، تب ایک نسل میں منتقل ہوتے ہیں۔

(4) تجارت: اسلامی نقطۂ نظر سے تجارت ہر دور میں باعثِ برکت رہی ہے۔ آج کے نوکری پیشہ دور میں اس کی افادیت بڑھ جاتی ہے جبکہ مسلمان کی قسمت کہیے کہ اسے آسانی سے ڈھنگ کی نوکریاں بھی نہیں ملتیں اور اس تعصب سے بھی بڑی سچائی یہ ہے کہ عملاً ڈھنگ کی نوکریوں کے لیے مسلم نوجوان عام طور پر مطلوبہ صلاحیت پیدا نہیں کرتا۔

مسلمانوں کے علاوہ ہندوستان کی دوسری اقلیتوں نے معیشت پر خوب توجہ رکھی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وہ اپنے آپ میں کامیاب ہیں، نہ انہیں یہ شکایت کہ ان کے ساتھ تعصب برتا جاتا ہے، نہ ریزرویشن کی خواہش اور نہ ان سے اکثریت کا کوئی مقابلہ۔ جبکہ مسلمانوں نے اپنی تمام تر توجہات سیاست کی طرف مبذول رکھیں جس کا نتیجہ اکثریت کی چاپلوسی کے علاوہ کوئی خاطر خواہ نہ نکلا۔ اس لیے اب ضروری ہو جاتا ہے کہ نوجوان نسل تجارت اور بالخصوص ای کامرس کی طرف راغب ہو کیوں کہ اس میں کم بجٹ میں کامیاب تجارت ممکن ہے جس میں ایمانداری کی شرط کے بعد نہ تعصب کا اندیشہ ہے اور نہ بڑے نقصان کا ڈر۔

(5) شادیوں، جلسوں اور عرسوں کی فضول خرچیاں: ان تمام فضول خرچیوں پر علاقائی سطح پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے آواز بلند کرنا جمعہ کے اماموں، شہر کے قاضیوں اور مفتیوں، ذمہ دار علما اور بااثر نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔ ایک سروے کے مطابق اتر پردیش کے مسلمانوں کی شادیوں پر خرچ ہونے والی رقم اتر پردیش گورنمنٹ کے کل بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح کئی کئی دن چلنے والے عرسوں کے نام پر بھی ملت کا خطیر سرمایہ اور خاصا وقت ضائع ہوتا ہے جس پر درد مندوں کو لوہا مول لینا چاہیے جبکہ مذہبی جلسے بھی اپنی افادیت کھوتے جا رہے ہیں اس لیے ان پر بھی نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔ ایمان کی بات یہ ہے کہ ٹال مٹول سے کام نہ لیں اور واقعتاً صلاحیت ہو تو یہ کام مذکورہ افراد کے سر عائد ہوتا ہے۔

(6) دلت اور سیکولر ہندوؤں کو ساتھ رکھ کر چلنا: ایسا کرنا اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کی بڑی دانشوری ہوگی۔ کیوں کہ اقلیتوں کے نام پر درجنوں مسائل دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جبکہ ان دونوں طبقات کے جڑ جانے سے عددی طاقت بھی ملتی ہے اور انتظامی بھی۔

(7) دین داری: ہر دور کی شرط رہی ہے، اس دور میں بھی اس سے مفر نہیں۔ یہ تشویش ناک بات ہے کہ بظاہر دینی تحریکیں بھی سرگرمِ عمل ہیں اور لٹریچر کی بھی بہتات ہے لیکن بایں ہمہ عملاً دینی رجحانات دن بہ دن زوال پذیر ہیں اور دینی طبقے کی عجیب قسم کی سیاستیں مذہب کو لے ڈوب رہی ہیں۔

(8) حقِ انتخاب کا مشروط اور صحیح استعمال: کسی بھی سیاسی پارٹی یا فرد کی نمائندگی کرنے یا پرچارک بننے کی بجائے اپنے حقِ انتخاب کا مشروط استعمال کرنا اور ووٹ دینے کی طرح ووٹ کیش کرنا بھی آج کی بڑی ضرورت ہے۔ ووٹ کیش کرنے سے مراد اپنے واجب حقوق کی بازیابی، اپنے ضروری مسائل کا حل اور تعلیم، تحفظ اور روزگار وغیرہ اپنی لازمی ضروریات کا انتظام ہے۔

(9) مضبوط نمائندوں کی زیادہ سے زیادہ ترسیل: اس وقت ہماری سیاسی سمجھ کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ ہم زیادہ سے زیادہ تعداد میں پارلیمنٹ میں اپنے مضبوط نمائندوں کی ترسیل کریں جو ہماری آواز بن سکیں۔ اگر ہم اپنے نمائندوں کو فتح یابی کی یقین دہانی کرواتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں ہماری آواز نہ بنیں۔ لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو تو پارلیمنٹ میں ہمارا وجود ایک ضروری امر ہے۔ جس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے، اس لیے جس جگہ ڈھنگ کے آدمی نہ ہوں، ایرے غیرے نمائندوں کو چننے سے بھی گریز نہیں ہونا چاہیے تاکہ بنامِ مسلم پارلیمنٹ میں کم سے کم ہمارا وجود تو رہے۔ کیوں کہ اس وقت حریف کی ساری کوششیں مسلم وجود کے خاتمے کی ہیں۔

(10) وفادار نمائندوں کی وفاداری: ہمارے جو نمائندے پارلیمنٹ میں وفادار رہ سکتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم بھی زمینی سطح پر ان سے پوری وفاداری کریں، انہیں اپنا نمائندہ سمجھیں اور ان کا ساتھ دیں۔

(11) چوپالوں کا خاتمہ ہو: دیر رات تک شب بیداریاں نہ طبی طور پر مفید ہیں، نہ سماجی طور پر بلکہ اس سے تعلیمی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے اور سنجیدہ معاشرہ بھی۔ مسلم اکثریتی معاشرے کا یہ وہ عیب ہے جو بمبئی اور دہلی جیسے بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا، اب ہر مسلم قصبے اور محلے میں بھی یہ رنگ دیکھنے کو ملنے لگا ہے۔ بظاہر ہے بوڑھوں کے ساتھ نوجوانوں اور بچوں میں بھی یہ رجحان پروان چڑھے گا جو تعلیم و تجارت کے حق میں کسی طور پر نیک فال نہیں۔ اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کر کے منفی اثرات ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔

(12) سوشل میڈیا سے دوری، کتابوں سے قربت: دورِ رواں میں سوشل میڈیا کا فوبیا بھی نسلیں برباد کر رہا ہے۔ اس سے جہاں بے تحاشا وقت برباد ہوتا ہے، وہیں کتابوں سے دوری بھی بڑھتی ہے اور یہ تباہ کن عادت ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!