Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: ششم)|مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی

ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: ششم)
عنوان: ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: ششم)
تحریر: مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

(13) شخصیت پسندی سے زیادہ مشن پسندی: مشن سے زیادہ شخصیت کو اہمیت دینا اسی حد تک مناسب ہے جس حد تک شخصیت معصوم ہو اور اس کا بے خطا ہونا من جانب اللہ ہو لیکن دورِ حاضر میں شخصیت پسندی کا یہ رجحان جس تیزی سے بڑھا ہے اس لیے بھی خطرناک ہے کہ یہ مزاج مشن پر حاوی ہو چکا ہے۔ اب مشن پسندی اور اسلامی مزاج کم رہ گیا ہے، شخصیات غالب ہو گئی ہیں۔ افسوس یہ بھی ہے یہ شخصیت پسندی محض ذات کے حصار تک محدود ہوتی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ جن شخصیتوں سے محبت کے دعوے ہوتے ہیں، ان کے مشن بھی دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ چشتی خانقاہیں اس کی مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔ چوں کہ صوفیائے چشت کے مزارات سب سے زیادہ ہیں، اس لیے ان کے اعراس بھی زیادہ ہوں گے لیکن ان اعراس کی لمبی چوڑی مجلسوں کے درمیان چشتی بزرگوں کا مشن تلاش کیجیے تو ناکامی ہاتھ لگے گی۔ خود حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے آستانے پر حاضر ہونے والوں کی تعداد دیکھی جائے اور ان میں مشن کے افراد تلاش کیے جائیں تو شاید انگلیوں کے پوروں سے زیادہ نہ ہوں۔ جبکہ یہ آستانے صرف نذر و نیاز، درود فاتحہ اور چادر کے مرکز نہیں ہوتے تھے، ان کی اصل اسلام کی تبلیغ اور دینی رہنمائی رہی ہے جو آج دور دور تک نظر نہیں آتی。

(14) طلبہ کی کونسلنگ: جن طلبہ کے اندر جیسی صلاحیت محسوس کریں، کونسلنگ کرکے انہیں آگے بڑھائیں تاکہ حسبِ فطرت افراد تیار ہوں، نہ کوئی شعبہ بالکل خالی رہے اور نہ کسی شعبے میں حد سے سوا افراد ہوں۔ آج مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا وجود تسلیم کروانا ضروری ہو چکا ہے۔

(15) یوٹیوب چینل اور نیوز پورٹل بنائیں: آج کے دور میں یوٹیوب الیکٹرانک میڈیا اور نیوز پورٹل پرنٹ میڈیا کی بدعنوانیوں کا بہترین، آسان اور سستا جواب ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مواد مفید، سہل، موثر اور سنجیدہ ہو جو مقصدیت پر کھرا اترے ورنہ بھیڑ میں اضافے کے علاوہ کوئی مقبولیت اور اثر اندازی ممکن نہیں۔

(16) روزگار دیں: اپنی بساط کے مطابق زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار سے وابستہ کریں اور اس سلسلے میں کسی تعصب سے کام نہ لیں۔ حق، حق ہوتا ہے، آخر اپنا رنگ دکھاتا ہے، اگر ہم حق پر ہیں تو غیر بھی تاثر قبول کیے بنا نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح روزگار کے سلسلے میں نوجوانوں کو اپنے ہنر پر یقین مضبوط کریں تاکہ وہ کسی روزگار کو ہلکا اور چھوٹا سمجھ کر مدتہا مدت بے روزگار نہ رہیں۔

اگر اسلامیانِ ہند خاص طور سے اور اہالیانِ ہند عام طور سے ان چند فارمولوں پر عمل کرتے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ ہندوستان میں اسلام بھی محفوظ رہے اور ہندوستان کی جمہوری اقدار بھی، ورنہ آئندہ چند سالوں میں کیا کچھ ہو سکتا ہے، کہا نہیں جا سکتا。

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!