| عنوان: | قرآن کریم کی دعوت و فکر و تدبر (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | راشد علی مدنی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
قرآن کریم نے جن پہلوؤں سے غور و فکر کی دعوت دی ہے ان میں ایک پہلو قرآنی آیات میں غور و فکر بھی ہے۔ قرآنی آیات میں غور و فکر کو اس کے نزول کے مقاصد میں سے بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سورۂ ص میں فرمایا:
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ [سورۃ ص: 29]
ترجمۂ کنزُالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔
اس آیت کی تفسیر میں ہے: فقط قرآن پاک کی عربی عبارت کو پڑھ لینا نزولِ قرآن کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں بلکہ اس کی آیات کے معنی اور ان کا مطلب سمجھنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے تاکہ اس کی آیاتوں میں غور و فکر کرنا، اس میں بیان کی گئی عبرت انگیز باتوں سے نصیحت حاصل کرنا اور اس میں بتائے گئے اَحکامات پر عمل کرنا ممکن ہو، جبکہ فی زمانہ صورتِ حال یہ ہے کہ قرآن پاک سمجھنا اور اس میں غور و فکر کرنا تو بہت دور کی بات ہے یہاں تو قرآن پاک گھروں میں ہفتوں بلکہ مہینوں صرف جُزدان اور الماریوں کی زینت نظر آتا ہے اور اس کا خیال آجانے پر اس سے چمٹی ہوئی گرد صاف کر کے دوبارہ اسی مقام پر رکھ دیا جاتا ہے اور اگر کبھی اس کی تلاوت کی توفیق نصیب ہو جائے تو اس کے تَلَفُّظ کی ادائیگی کا حال بہت برا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے حال زار پر رحم فرمائے اور قرآن پاک صحیح طریقے سے پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سورۃ البقرۃ کی آیت: ۲۱۹ میں فرمایا:
كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ [سورۃ البقرۃ: 219]
ترجمۂ کنزالعرفان: اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔
یونہی سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۴۲ میں ”لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ“، آیت ۲۶۶ میں ”لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ“، سورۃ النور کی آیت ۶۱ میں ”لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ“ فرما کر آیاتِ قرآنیہ میں غور و فکر کی دعوت دی ہے۔
اسی طرح قرآنی آیات کو طرح طرح سے بیان کرنے کا مقصد بھی ان میں غور و فکر کو قرار دیا ہے:
اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ [سورۃ الانعام: 65]
ترجمۂ کنزالایمان: دیکھو ہم کیونکر طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں کہ کہیں ان کو سمجھ ہو۔
سورۂ یونس میں فرمایا:
كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ [سورۃ یونس: 24]
ترجمۂ کنزالایمان: ہم یونہی آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے extremes۔
سورۃ النحل میں فرمایا:
وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ [سورۃ النحل: 44]
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کر دو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔
سورۃ النور کے آغاز میں ارشاد فرمایا:
سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ [سورۃ النور: 1]
ترجمۂ کنزالایمان: یہ ایک سورت ہے کہ ہم نے اتاری اور ہم نے اُس کے احکام فرض کیے اور ہم نے اس میں روشن آیتیں نازل فرمائیں کہ تم دھیان کرو۔
یہ تمام آیات ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ قرآنی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کرتے ہوئے ان پر غور بھی کیا جائے، معاشی و معاشرتی پہلو ہوں یا انفرادی و اجتماعی، ہر طرح سے قرآنی آیات میں غور کر کے زندگی گزاری جائے۔
قرآنی آیات میں غور و فکر نہ کرنے پر وعید
قرآن کریم نے جہاں اس کی آیات میں غور و فکر کی دعوت دی ہے وہیں غور و فکر نہ کرنے پر تنبیہ بھی فرمائی ہے چنانچہ سورۂ محمد میں فرمایا:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُر|اٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا [سورۃ محمد: 24]
ترجمۂ کنزالعرفان: تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ بلکہ دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں۔
صراط الجنان میں ہے کہ تدبُّرِ قرآنِ پاک میں گہرے غور و خوض کو کہتے ہیں جو تعصبات اور جانبداری سے پاک اور عقل و نقل کے حقیقی تقاضوں کے مطابق ہو۔
سورۃ النساء میں فرمایا:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ [سورۃ النساء: 82]
ترجمۂ کنزُالعرفان: تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔
یہاں قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قرآنِ حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے عُلوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے کہ اِس نے اپنی فصاحت سے تمام مخلوق کو اپنے مقابلے سے عاجز کر دیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکر و فریب کو کھول کر رکھ دیا ہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں۔ اگر قرآن میں غور کریں تو یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اسے لانے والا اللہ کا رسول ہے۔
قرآن مجید میں غور و فکر کرنا عبادت ہے لیکن!
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کیے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے۔
قرآن کا ذکر کرنا، اسے پڑھنا، دیکھنا، چھونا سب عبادت ہے۔ قرآن میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ قرآن میں وہی غور و فکر مُعْتَبَر اور صحیح ہے جو صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین اور حضورِ پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ صحابۂ کرام اور ان سے تربیت حاصل کرنے والے تابعین کے علوم کی روشنی میں ہو، کیونکہ وہ غور و فکر جو اُس ذات کے فرامین کے خلاف ہو جن پر قرآن اترا اور اس غور و فکر کے خلاف ہو جو وحی کے نزول کا مُشاہدہ کرنے والے بزرگوں نے کیا، وہ یقیناً معتبر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے دورِ جدید کے اُن نت نئے مُحَقِّقین سے بچنا ضروری ہے جو چودہ سو سال کے علما، فُقَہا، مُحدِّثین اور مفسرین اور ساری امت کے فہم کو غلط قرار دے کر قَولاً یا عَمَلاً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن اگر سمجھا ہے تو ہم نے ہی سمجھا ہے، پچھلی ساری امت جاہل ہی گزر گئی ہے۔ یہ لوگ یقیناً گمراہ ہیں۔
