| عنوان: | قرآن کریم کی دعوت و فکر و تدبر (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | راشد علی مدنی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
کتابِ ہدایت قرآن مجید، برھانِ رشید کی دعوتِ فکر و تدبر کے دائرے میں مخلوقاتِ الٰہی میں غور و فکر کرنا بھی شامل ہے۔ اللہ رب العزّت نے اپنی تخلیقات میں غور و فکر کی مختلف انداز میں دعوت دی ہے اور اس غور و فکر کے مقاصد میں اللہ تعالیٰ کے وجود، وحدانیت، شرک و ہمسری سے پاکی اور اختیارات و قدرتِ کاملہ وغیرہ کے متعلق یقین و ایمان پختہ رکھنا شامل ہے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مخلوق میں غور و فکر کرنے سے لامحالہ خالق اور اس کی عظمت و جلالت اور قدرت کی معرفت نصیب ہو جاتی ہے۔ پھر جیسے جیسے اللہ ربّ العزّت کے پیدا کردہ عجائبات کی معرفت زیادہ ہوتی رہے گی تو ربّ کریم کی عظمت و جلالت میں تمہاری معرفت بھی کامل ہوتی رہے گی۔ مثلاً تم کسی عالم کے علم کی معرفت حاصل ہو جانے کے بعد اسے عظیم سمجھتے ہو اور مسلسل اس کے اشعار و تصنیفات میں انتہائی باریک نکات پر مطلع ہوتے ہو تو تمہیں اس کی مزید معرفت ہوتی رہتی ہے اور تمہارے دل میں اس کا احترام اور عزت و تعظیم بڑھتا رہتا ہے حتّٰی کہ اس کے کلام کا ہر کلمہ اور اس کے اشعار کا ہر عجیب شعر تمہارے دل میں اس کا مقام زیادہ کرتے ہوئے تمہیں اس کی عزت و تعظیم کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح تم اللہ کریم کی مخلوقات میں غور کرو۔ کائنات میں موجود اللہ کی مخلوقات اور اس میں غور و فکر کرنے کی کوئی انتہا نہیں۔ ہر بندے کے لیے اس میں سے اتنا ہی ہے جتنا اس کا نصیب ہے۔ [ج: 5، ص: 190]
جس طرح کسی کی عظمت، قدرت، حکمت اور علم کی معرفت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ اس کی بنائی ہوئی چیز ہوتی ہے کہ اس میں غور و فکر کرنے سے یہ سب چیزیں آشکار ہو جاتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت، حکمت، وحدانیت اور اس کے علم کی پہچان حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ اس کی پیدا کی ہوئی یہ کائنات ہے، اس میں موجود تمام چیزیں اپنے خالق کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی اور اس کے جلال و کبریائی کی مظہر ہیں اور ان میں تفکر اور تدبُّر کرنے سے خالقِ کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اس کائنات میں موجود مختلف چیزوں جیسے انسانوں کی تخلیق، زمین و آسمان کی بناوٹ، زمین کی پیداوار، ہوا اور بارش، سمندر میں کشتیوں کی روانی، زبانوں اور رنگوں کے اختلاف وغیرہ بے شمار اشیاء میں غور و فکر کرنے کی دعوت اور ترغیب دی گئی تاکہ انسان ان میں غور و فکر کے ذریعے اپنے خالقِ حقیقی کو پہچانے، صرف اسی کی عبادت کرے اور اس کے تمام احکام پر عمل کرے۔ [ج: 2، ص: 123]
امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”آسمان اپنے ستاروں، سورج، چاند، ان کی حرکت اور طلوع و غروب میں ان کی گردش کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ زمین کا مشاہدہ اس کے پہاڑوں، معدنیات، نہروں، دریاؤں، حیوانات، نباتات کے ساتھ ہوتا ہے اور آسمان اور زمین کے درمیان جو فضا ہے کا مشاہدہ بادل، بارش، برف، گرج چمک، ٹوٹنے والے ستاروں، اور تیز ہواؤں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ وہ اجناس ہیں جو آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان دیکھی جاتی ہیں، پھر ان میں سے ہر جنس کی کئی انواع ہیں، ہر نوع کی کئی اقسام ہیں، ہر قسم کی کئی شاخیں ہیں اور صفات ، ہیئت اور ظاہری و باطنی معانی کے اختلاف کی وجہ سے اس کی تقسیم کا سلسلہ کہیں رکتا نہیں۔ زمین و آسمان کے جمادات، نباتات، حیوانات، فلکیات میں سے ایک ذرہ بھی اللہ تعالیٰ کے حرکت دیے بغیر حرکت نہیں کر سکتا اور ان کی حرکت میں ایک حکمت ہو یا دو، دس ہوں یا ہزار، یہ سب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہیں اور اس کے جلال و کبریائی پر دلالت کرتی ہیں اور یہی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں اور علامات ہیں۔ [ج: 5، ص: 175]
کائنات پر غور و فکر کے فوائد و ثمرات
کائنات پر غور و فکر کرنے کے بہت سے فوائد و ثمرات ہیں:
-
بندے پر خالق کائنات کی عظمت و شان مزید واضح ہو جاتی ہے۔
-
بندے کا وحدانیت الٰہی پر یقین مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔
-
بندہ عظمت الٰہی کے سامنے عاجزی اختیار کرتا ہے۔
-
بندہ جب زمین و آسمان، آفتاب و ماہتاب، اشجار و احجار الغرض کسی بھی مخلوق کی تخلیق میں غور و فکر کرتا ہے تو دل میں خالق کی تعظیم پیدا ہوتی ہے۔
-
خالق کائنات کی عظمت و قدرت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
-
یوں ہی اللہ کریم کی قدرت و تخلیق کی گہرائیاں جاننے پر دل میں اس کی خشیت اور ہیبت بڑھتی ہے۔
-
خالق و مالک کی محبت و خشیت دل میں بڑھنے سے مخلوق کے ساتھ شفقت و حُسنِ خُلق کا جذبہ ملتا ہے۔
-
بندے کا جب یقین کامل ہو جاتا ہے کہ سب اختیارات کا مالک وہی ہے تو پھر اس کے علاوہ کسی کا ڈر اور خوف نہیں رکھتا اور حق کو حق کہنے اور باطل کی تردید کرنے میں رکاوٹ نہیں رہتی۔
-
مخلوقات الٰہی میں غور و فکر کرنے سے دل زندہ ہوتا ہے، کیونکہ بندہ جو غور و فکر کرتا ہے تو پھر ایک ہی مقام پر رکا نہیں رہتا بلکہ مخلوقات کی مختلف انواع میں غور کرتا ہے، ایک قرآنی آیت سے دوسری کی طرف بڑھتا ہے، یوں قرآنی آیات سے نصیحت حاصل کرتا ہے، معانی میں غور کرتا ہے اور جیسے جیسے یہ غور و فکر بڑھتا ہے بندے کے دل پر مرادِ قرآنی منکشف ہوتی جاتی ہے، کیونکہ قرآنی الفاظ معانی اور تفکر کے پردے میں ہیں، جب غور و فکر کے بعد یہ پردہ ہٹتا ہے تو دل کی غفلت بھی زائل ہو جاتی ہے، اسی حیاتِ قلبی کو قرآن کریم نے یوں بیان فرمایا ہے:
وَ يَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [سورۃ آل عمران: 191]
-
مخلوقات میں غور و فکر سے بندے کو احکام الٰہیہ پر عمل کا جذبہ ملتا ہے۔ بندے کی سوچ اور فکر جیسے جیسے بڑھتی ہے اس کی قوتِ فہم بھی بڑھتی ہے، اور جب فہم میں اضافہ ہوتا ہے علم بڑھتا ہے اور جب علم آتا ہے تو بندہ عمل کرتا ہے۔
-
بندے کا عقیدہ مضبوط ہوتا ہے اور کسی قسم کے شبہات کا شکار نہیں رہتا۔
-
اللہ کریم کی محبت دل میں بڑھتی ہے اور اللہ و رسول کی فرمانبرداری کا جذبہ بڑھتا ہے۔
-
اسلامی تعلیمات کے خلاف دل میں پیدا ہونے والے وساوس کا اس غور و فکر کے ذریعے خاتمہ ہو جاتا ہے۔
-
یہ غور و فکر کرنا شرک سے اور مشرکانہ حرکات و اعتقادات سے بچانے میں زبردست معاون ثابت ہوتا ہے۔
فی زمانہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس کائنات میں غور و فکر کرنے اور اس کے ذریعے اپنے رب تعالیٰ کے کمال و جمال اور جلال کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے احکام کی بجا آوری کرنے سے انتہائی غفلت کا شکار ہیں اور ان کے علم کی حد صرف یہ رہ گئی ہے جب بھوک لگی تو کھانا کھا لیا، جب پیاس لگی تو پانی پی لیا، جب کام کاج سے تھک گئے تو سو کر آرام کر لیا، جب شہوت نے بے تاب کیا تو حلال یا حرام ذریعے سے اس کی بے تابی کو دور کر لیا اور جب کسی پر غصہ آیا تو اس سے جھگڑا کر کے غصے کو ٹھنڈا کر لیا الغرض ہر کوئی اپنے تن کی آسانی میں مست نظر آ رہا ہے۔ [ج: 2، ص: 123-124]
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اندھا وہ ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی تمام صنعتوں کو دیکھے لیکن انہیں پیدا کرنے والے خالق کی عظمت سے مدہوش نہ ہو اور اس کے جلال و جمال پر عاشق نہ ہو۔ ایسا بے عقل انسان حیوانوں کی طرح ہے جو فطرت کے عجائبات اور اپنے جسم میں غور و فکر نہ کرے، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل جو تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اسے ضائع کر دے اور اس سے زیادہ علم نہ رکھے کہ جب بھوک لگے تو کھانا کھا لیا، کسی پر غصہ آئے تو جھگڑا کر لیا۔ [ج: 2، ص: 910]
