Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ماہنامہ تحفہ حنفیہ اور حجۃ الاسلام|ڈاکٹر امجد رضا امجد

ماہنامہ تحفہ حنفیہ اور حجۃ الاسلام
عنوان: ماہنامہ تحفہ حنفیہ اور حجۃ الاسلام
تحریر: ڈاکٹر امجد رضا امجد
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

اہل سنت کا مایہ ناز، تاریخی اور عہد ساز رسالہ ماہنامہ ”تحفہ حنفیہ“ سن 1315ھ میں پٹنہ بہار سے جاری ہوا اور اپنے بانی حضرت قاضی عبد الوحید فردوسی خلیفہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی رحلت 1326ھ کے کچھ ماہ بعد بند ہو گیا۔ مگر اپنی 12 سالہ عمر میں اس نے اشاعتِ سنت، ردِ بدعات اور استیصالِ صلح کلیت میں جو کلیدی کردار ادا کیا وہ بے مثال ہی نہیں ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔

چودہویں صدی کے آغاز کا یہ رسالہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ یہ، مخالفِ اہل سنت تحریکات بالخصوص ندوہ کے استیصال اور اس کے فتنوں سے اہل سنت کو محفوظ رکھنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ اس میں ملک کے مشاہیر علما و مشائخ کی تحریریں شائع ہوتی تھیں، جن میں تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی، حضرت محدث سورتی، شاہ سلامت اللہ رامپوری، جناب حضور شاہ امین احمد فردوسی، شاہ بدر الدین پھلواری، شاہ اکبر دانا پوری، مولانا ہدایت رسول، علامہ سید فاخر الہ آبادی، مولانا حسن دانا پوری، مولانا قاضی عبد الوحید فردوسی، ملک العلما مولانا ظفر الدین بہاری اور حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا وغیرہ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔

خدا بخش لائبریری پٹنہ میں محفوظ ”تحفہ حنفیہ“ کی فائلوں کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ اس رسالہ سے حجۃ الاسلام کا بھی علمی تعلق رہا ہے۔ اس تعلق کا باضابطہ آغاز ان کی تصنیف ”اجتناب العمال عن فتاوی الجہال“ کی اشاعت سے ہوا۔ یہ کتاب بقول مصنف سن۔۔۔۔ میں مکمل ہوئی، مگر اس کی قسط وار اشاعت 1320ھ کے ماہ ربیع الآخر سے ہوئی اور غالباً 6 قسطوں میں مکمل ہوئی۔ ترتیبِ اشاعت اس طرح ہے:
ربیع الآخر 1320ھ
جمادی الاولی 1320ھ
رجب 1320ھ
رمضان 1320ھ
شوال 1320ھ

رسالہ کی تکمیل پہ جہاں جید علما فقہا جیسے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ، حضرت علامہ محمد وصی احمد قادری محدث سورتی، حضرت علامہ مفتی محمد سلامت اللہ صاحب، حضرت علامہ محمد اعجاز حسین رامپوری، حضرت علامہ محمد عبد الغفار خاں رامپوری، حضرت علامہ مفتی محمد ظہور الحسین رامپوری، حضرت علامہ رکن الدین مبارک اللہ، حضرت علامہ مفتی عبد الباقی لکھنوی، حضرت علامہ مفتی محمد عبد المجید لکھنوی، حضرت علامہ مفتی محمد ہدایت رسول لکھنوی، حضرت علامہ مفتی محمد عبد العلی لکھنوی، قاضی عبد الوحید فردوسی نے تقاریظیں لکھیں وہیں شوال 1320ھ میں اس کی اشاعت پہ رسالہ کے مدیر جناب مولانا ضیا الدین ہدم پیلی بھیتی نے قطعہ تاریخِ اشاعت کہا جو رسالہ کے صفحہ 17؍ 18 پر شائع ہوا۔ تاریخی اہمیت کے پیشِ نظر اسے یہاں شائع کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، ملاحظہ کریں:

کہاں ہے وہ نجدی فرخندہ خو
کہ امسال جاگے ہیں جس کے نصیب

بچھا یا تھا عرصہ سے دامِ فریب
کہ لوگوں کو پھانسے بنا کر حبیب

دو ورقی رسالہ بھی اک لکھ دیا
جہالات اس میں بھرا وہ عجیب

کہ اطفال سن رنسیں اور کہیں
اسی مادی پر بنا یہ ادیب

انہوں نے لکھا اس رسالہ ارد
جو بیماریِ جہل کے ہیں طبیب

کھلی سب حقیقت وا راز فاش
جسے شک و دیکھے جواب مجیب

وہ ایسا چھپا صاف اور بے نظیر
ہیں تعریف رتے فہیم و لبیب

ضیا کو ہوئی فکر تاریخ کی
خرد نے کہا سن لے میرے حبیب

تجھے فکر کیوں ہے یہ مشہور ہے
لکھا ہے یہ اچھا جوابِ غریب
1320ھ

اور اس رسالہ کے علاوہ ”تحفہ حنفیہ“ میں ان کے چار فتاویٰ بھی شائع ہوئے ہیں جس کی تفصیل اس طرح ہیں:
ذیقعدہ 1320ھ
دھانوں کے نقد و قرض فروخت کرنے پر قیمتوں میں کمی بیشی کرنا
ذیقعدہ 1320ھ
رنگے کپڑوں سے نماز ص 27-28
مسئلہ قرأۃ (وصل سورہ) ص 28
شعبان 1321ھ
فارسی فتویٰ (بلاوجہ مسلمان کو گالی دینا) ص 5 تا 6

ان کے یہ تمام فتاویٰ ان کے مجموعہ ”فتاویٰ حامدیہ“ مرتبہ مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی میں شامل ہیں، مگر قندِ مکرر کے طور پر ان کا فارسی فتویٰ یہاں ضرور ملاحظہ کریں تاکہ فارسی زبان و ادب پہ ان کی گرفت کا اندازہ ہو سکے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سوال: چہ می فرمایند علمائے دین اندرین کہ مسلمان دیگر یک مسلمان معروف النسب را ناحق دشنامہاے ناسزا یعنی حرامزادہ و بدطینت گفت وزنے محصنہ پاکیزہ را متہم بزنا کرد و استفتاء شریعت را ہم انکار نماید، یعنی چون او را عالمی گفت کہ برہم چنین قول تو بحسب شرع فتویٰ باشد۔ گفت کہ من چندین استفتاء شرع را حدث کردہ برباد دادہ ام و نیز خواہم داد۔ پس حسب شرع شریف و دین منیف چہ حکم دارد و مخالطت و مجالست باورا و با شد یا نہ۔ بینوا توجروا۔

الجواب: سب وشتم مسلم بے وجہ شرعی سخت کبیرہ است حرام قطعی۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:

«سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ»

دشنام دادن مسلمان را معصیت است کبیرہ۔ رواہ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ والحاکم عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ ومی فرمایند صلی اللہ علیہ وسلم:

«سَابُّ الْمُسْلِمِ كَالْمُشْرِفِ عَلَى الْهَلَكَةِ»

مسلم را dshnam دہندہ گویا در ہلاکت زنندہ رواہ الامام احمد والبزار عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بسند جید و نیز می فرمایند صلی اللہ علیہ وسلم:

«مَنْ آذَى مُسْلِمًا فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ»

کسیکہ مسلمان را ایذا داد ما بدولت را ایذا داد۔ (سرت گردم و قربانت شوم) و ہر کہ ما بدولت را ایذا داد منتقم حقیقی را ایذا داد۔ (عزجل جلالہ وصلی اللہ علیہ وسلم) رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اللہ عنہ بسند حسن و او تعالیٰ شانہ می فرمایند:

﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

و می فرماید جل جلالہ:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا﴾

لا ریب کسانیکہ اللہ ورسول ایذا می دہند خدائے ایشان را لعنت کردہ است۔ در دنیا و آخرت ومہیا کردہ است مرایشان را عذاب دردناک و خوار کنندہ۔ پس از فرمانِ حضورِ سرورِ دو جہاں علیہ التحیۃ والثناء کہ بر وفقِ شکل اوست نتیجہ کہ حاصل شد۔ من اذیٰ مسلماً فقد اذی اللہ صغریٰ کنیم و آیۃ کریمہ ان الذین یؤذون الآیۃ را کبریٰ پنداریم نتیجۂ بہیجہ برمی خیزد کہ بر ناحق شاتم مسلم بلا ہا می ریزد و ہمی است حکم قذفِ محصنہ کہ بے حجتِ شرعیہ معصیت است کبیرہ سزایش ہشتاد درہ و نامقبول شہادتِ ابد یدیت برآں طرہ۔ پس در صورتِ مستفسرہ ایں کس ناکس فاسق است و بر فسقش خود قرآن ناطق:

﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ * إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾

و آنچہ نسبت فتاویٰ شرعیہ چنیں و چناں گفت و بہ صریح استخفافِ گل دیگر شگفت از اثم و فسوق۔ بالا تاخت و سند ان کفر بر جام ایمانش انداخت بہ توبہ انابت پرداز دو کلمۂ شہادت و صدق قلب بزبان راند۔ ورنہ عجب نے کہ شامتِ این کلماتِ کفر بسوئے خاتمہ انجام بر ہمیں ارتداد جان از دست بازد۔ در خلاصہ می فرماید: لو قال مرا بمجلسِ علم چہ کار او قال من یقدر علیٰ اداء ما یقولون یکفر اھ در عالمگیر است: لو القیٰ فتویٰ علی الارض وقال ایں چہ شرع است کفراھ۔ ملخصاً ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری در شرح فقہ اکبر ارشاد می نماید: القی الفتویٰ علی الارض ای اھانۃ کما یشیر الیہ عبارۃ الالقاء او قال ماذا الشرع ھذا کفراھ۔ الحاصل این کس ناکس فاسق یعنی چہ فاش مرتدست مخالطت مجالست باو بالا جماع حرام و موجب ہزاران آثام ونسئل اللہ العفو والعافیۃ فی الدین والدنیا والآخرہ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ مجدہٗ اتم واحکم۔

کتبہ محمدن المعروف بہ حامد رضا
کان اللہ تعالیٰ بجاہ حبیبہ المجتبیٰ علیہ افضل التحیۃ والثناء

تحفہ حنفیہ شمارہ رجب 1322ھ ص 4 میں آپ کی ایک اور نادر تحریر شامل ہے جو امام اہل سنت اعلیٰ حضرت کے فتویٰ کی تصدیق سے متعلق ہے اس کی زبان عربی ہے مگر کتنی اہم اور زبان و ادب پہ گرفت کا کیسا نادر نمونہ ہے ملاحظہ کریں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

أَمَّا بَعْدُ! اَلْحَمْدُ لِأَهْلِهِ وَالصَّلَاةُ عَلَى أَهْلِهَا لَعَمْرِي لَقَدْ أَجَادَ فِي مَا أَجَابَ وَأَطَابَ وَأَصَابَ فَأَوْضَحَ الصَّوَابَ وَمَيَّزَ الْقِشْرَ عَنِ اللُّبَابِ وَأَزَاحَ الِارْتِيَابَ فَدَمْدَمَ عَلَى الْمَسِيحِ الْكَذَّابِ وَصَبَّ عَلَيْهِ سَوْطَ عَذَابٍ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ارْتَابَ فَانْهَزَمَ الْأَحْزَابُ وَفَرَّتِ الْأَذْنَابُ وَحَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ الْعِقَابِ خَالِدِينَ فِي النَّارِ وَبِئْسَ الْمَآبُ إِلَّا مَنْ تَابَ وَآبَ وَرَجَعَ وَأَنَابَ فَإِنَّ الْمَوْلَى الْوَهَّابَ تَوَلَّى عَلَى مَنْ تَابَ فَعَلَ هَذَا وَيَدَاهُ تَحْتَ الثِّيَابِ وَسَيْفُهُ فِي الْجِرَابِ فَمَا كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِلَّا فِي تَبَابٍ فَلِلَّهِ دَرُّ الْمُجِيبِ رَزَقَهُ اللَّهُ الزِّيَادَةَ وَجَمِيلَ الثَّوَابِ وَالزُّلْفَى عِنْدَهُ وَحُسْنَ مَآبٍ وَهَذَا ذَلِكَ حِبْرٌ شَامِخٌ فِي الدِّينِ بَحْرٌ بَاذِخٌ، مُجَدِّدُ الْمِائَةِ الْحَاضِرَةِ ذُو الْحُجَّةِ الْقَاهِرَةِ صَاحِبُ الْقُوَّةِ الْقُدْسِيَّةِ عَالِمُ أَهْلِ السُّنَّةِ السَّنِيَّةِ وَالْجَمَاعَةِ السَّنِيَّةِ السَّمَيْدَعُ الْعَرِيفُ الْغَطَمْطَمُ الْغَطْرِيفُ وَالِدِي وَأُسْتَاذِي وَمَلْجَئِي وَمَلَاذِي مَوْلَانَا وَمَوْلَى الْكُلِّ حَضْرَةُ أَحْمَد رَضَا خَان الْبَرِيلْوِيّ مَدَّ ظِلُّهُمُ الْعَالِي مَدَى الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي. وَأَنَا الْعَبْدُ الضَّعِيفُ الْأَوَّاهُ مُحَمَّدٌ الْمَعْرُوفُ بِحَامِد رَضَا كَانَ لَهُ اللَّهُ بِجَاهِ حَبِيبِهِ الْحَامِدِ الْمُصْطَفَى عَلَيْهِ أَفْضَلُ التَّحِيَّةِ وَالثَّنَاءِ.

اپنی تحریروں کی اشاعت کے علاوہ تحفہ حنفیہ اور مطبع حنفیہ سے شائع کتابوں میں آپ کا جو تذکرہ ہوتا رہا ہے وہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ سن 1318ھ میں رندوہ کانفرنس منعقدہ پٹنہ میں اعلیٰ حضرت کا ”قصیدہ امال الابرار۔۔۔“ جو حضرت قاضی عبد الوحید فردوسی کے نام سے منسوب ہے پڑھا گیا پھر تحفہ میں اس کی اشاعت ہوئی اس میں بھی آپ کا ذکر اس طرح کیا گیا:

وَفِي دَوْحَةِ الْعُلَا حَامِدُ رَضَا مَنْ
غِرَاسِ جُدُودِهِ الْغُصْنُ الْجَدِيدُ

یعنی حامد رضا بلندی کے عظیم درختوں پر ہیں اور اپنے اجداد وکرام کے نہال سے شاخِ تازہ ہیں۔

اسی طرح اسی اجلاس کے لیے استاذِ زمن مولانا حسن رضا حسن بریلوی کی کہی گئی مثنوی ”صمصامِ حسن بر دابر فتن“ میں جہاں اور علما و مشائخ کے اسما کا ذکر ہے حجۃ الاسلام کا بھی دو اشعار میں تذکرہ ہے اور کس وقار و پیار کے انداز میں ہے ملاحظہ کریں۔

حامد ما عالم علمِ ہدیٰ
نوگلِ گلزارِ جنابِ رضا

حسنِ بہارش ز خزاں دور باد
چوں اب وجد ناصر و منصور باد

یعنی ترجمہ: مولانا حامد رضا عالمِ ہدایت ہیں اور باغِ امام احمد رضا کے شگفتہ پھول ہیں۔ اس کا بہارِ حسن خزاں سے دور رہے اور یہ آبا واجداد کی طرح ناصر و منصور رہیں۔

واضح رہے کہ یہ تحریر خدا بخش لائبریری میں نامکمل محفوظ رسائل کے تناظر میں ہے، اس لیے اسے حتمی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ تحریر اس حوالہ سے ایک تمہید ہے مکمل شمارہ دستیاب ہونے پر حتمی اور یقینی بات کہی جا سکتی ہے۔ بہر حال ان حوالہ جات سے اتنی بات تو واضح ہے کہ تحفہ حنفیہ سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ، استاذِ زمن مولانا حسن رضا بریلوی، حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خان، مفتی اعظم مولانا شاہ مصطفےٰ رضا خان علیہم الرحمہ والرضوان کا گہرا علمی تعلق رہا ہے، آج بھی کسی نہ کسی شکل میں بہار سے خانوادۂ رضا کا تعلق قائم ہے۔ کل اگر ”تحفہ حنفیہ“ کے ذریعہ ان کے افکار و تعلیمات کی اشاعت ہو رہی تھی تو آج ”رضا بک ریویو“ پٹنہ اور دو ماہی ”الرضا انٹرنیشنل“ پٹنہ کے ذریعہ یہ مشن جاری ہے، خدائے پاک اس سلسلہ کو قائم رکھے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!