Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نگاہ نبوت میں

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نگاہ نبوت میں
عنوان: صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نگاہ نبوت میں
تحریر: محمد ناظم قادری نیپال
پیش کش: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج


میں ایک ایسی شخصیت کے بارے میں لکھنے جا رہا ہوں جو حضور ﷺ کی نگاہ کرم سے صحابہ و اہلبیت و عشرہ مبشرہ ٬ خلفائے راشدین یہاں تک کہ بعد الانبیاء لوگوں میں سب سے زیادہ افضل و اعلٰی اور اسلام کے پہلہ خلیفہ ہے جن کے نام نامی اسم گرامی عبد اللہ بن ابو قحافہ یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہے اس موضمون میں ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے نظر و نگاہ میں کیسے تھے ٬ ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا اقوال ہے آیے! ہم حدیث پاک سے سمجھتے ہیں۔

ابو بکر کو دلی دوست بناتے

حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے قال النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهٖ وَمَالِهٖ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدَ الْبُخَارِيِّ أَبَا بَكْرٍوَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلٰكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهٗ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ٬ مرآۃ المناجیح )

الله پاک کے آخری نبی رسول ہاشمی ﷺ فرماتے ہیں کہ سارے انسانوں میں مجھ پر بڑا احسان کرنے والے اپنی صحبت اپنی محبت و مال میں ابوبکر ہیں اور اگر میں کسی کو دلی دوست بناتا تو میں ابوبکر کو دوست بناتا لیکن اسلام کا بھائی چارا اور اس کی دوستی ہے٬ مسجد میں کوئی کھڑکی نہ رکھی جائے سواء ابوبکر کی کھڑکی کے دوسری روایت میں یوں ہے کہ اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر کو دوست بناتا۔ (مسلم،بخاری)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ حدیث مذکور کی شرح کرتے ہویے رقم طرراز ہیں: خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنا مال جان،اولاد وطن سب کچھ حضور پر قربان کردیا،غار ثور میں ہجرت کی رات اپنی جان حضور پر فدا کی کہ سانپ سے کٹوا لیا،اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ کا نکاح حضور انور سے کیا جب آپ کی عمر چھ سال تھی اور حضور کی عمر 25 سال حالانکہ آپ جانتے تھے کہ جب حضور کا وصال ہوگا تو حضرت عائشہ عین جوانی میں ہوں گی،آپ کے بعد نہ آپ کو میراث ملے گی نہ آپ کا نکاح کسی سے ہوسکے گا، اللہ اکبر ٬ یہ ہے اولاد کی قربانی۔جس وقت آپ ایمان لائے تو چالیس ہزار دینار اشرفیاں آپ کے پاس تھیں جو سب حضور پر خرچ کیں،وفات کے وقت کفن کے لیے کپڑا بھی نہ تھا پرانے کپڑوں میں کفن دیا گیا، اسی لیے تو حضور نے فرمایا کہ صدیق کا مجھ پر بڑا احسان ہے (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 , حدیث نمبر:6019 )

اسی لیے تواعلٰی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کیا خوب ارشاد فرماتےہیں کہ
کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فِدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروروں جہاں نہیں
۔(حدائق بخشش شریف)

اے بندۓ خدا! دین حق میں اصل قربانی یہ ہے کہ بندہ اپنی جان٬مال اولاد عزت و نفس یہاں تک کہ تمام چیزین راہ خدا میں خرچ کردے اور یہی چیز صدق اکبر رضی اللہ عنہ نے کر دیکھایا۔

میرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمت عالم

کلام سابق کا مشاہدہ ذیل میں موجود حدیث پاک سے واضح ہے۔صحابی رسول حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ، مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ» قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أَنَا وَمَالِي إِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ( سنن ابن ماجہ٬ كِتَابُ السُّنَّةِ ٬ بَابُ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِؓ ٬ ح: 94 )

حضور ﷺ کا فرمان عالی شان ہے : کہ مجھے کبھی کسی کے مال نے وہ فائدہ نہ دیا جو ابو بکر کے مال نے دیا ۔ بارگاہ نبوت سے یہ بشارت سن کر حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رودیے اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے اور میرے مال کے مالک آپ ﷺ ہی تو ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اپنا تمام مال حضور ہی کا سمجھتے تھے اور اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضور ﷺ کیلیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کس قدر محسن تھے لیکن ایک ہم ہے کہ اپنا واجبہ مال بھی راہ خدا میں خرچ کرنے میں کتراتے ہے جبکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اپنی پوری مال ہی راہ حق میں صدقہ دے دیے تھے۔

علامہ حسن رضا خاں فرماتے ہیں
لٹایا راہِ حق میں گھر کئی بار اس محبت سے
کہ لٹ لٹ کر حسن ؔگھر بن گیا صدیق اکبر کا۔

جنّت میں پہلے داخلہ

حضور کے پیارے صحابی حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي تَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي ( سن ابو داؤد٬ باب الخلفاء٬ ح:4652 )

حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا: جبریلِ امین علیہِ السَّلام میرے پاس آئےاور میرا ہاتھ پکڑ کر جنّت کا وہ دروازہ دکھایاجس سے میری اُمّت جنّت میں داخل ہوگی۔ حضرت سیّدناابوبکر صدیق رضیَ اللہُ عنہ نے عرض کی: یَارسولَ اللہ ﷺ! میری یہ خواہش ہے کہ میں بھی اس وقت آپ کے ساتھ ہوتا، تاکہ میں بھی اس دروازے کو دیکھ لیتا۔ رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ابوبکر! میری اُمّت میں سب سےپہلے جنّت میں داخل ہونے والے شخص تم ہی ہوگے۔

حضور ﷺکی حمایت اور صدیق اکبر

حضرت سید نا ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں ایک بار دو عالم کے مالک و مختار، مکی مدنی سرکار صلی الله تعالٰی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا، اچانک حضرت سید نا ابو بکر صدیق رَضِيَ اللَّهُ عَنْہ گھٹنوں تک دامن اٹھائے حاضر خدمت ہوئے۔ رسول الله ﷺ نے انہیں دیکھتے ہی ارشاد فرمایا: "اے ابوبکر! کیا تمہارے دوست اور تمہارے مابین کسی بات پر جھگڑا ہوا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے غمگین لہجے میں عرض کیا : يارسول الله صلى اللَّہ علیہ وسلم میرے اور عمر بن خطاب کے درمیان کچھ شکر رنجی (ناراضی ) ہوگئی تھی ، میں نے ان سے کچھ سخت کلامی کر دی، پھر میں نے نادم ہو کر ان سے معافی بھی مانگی مگر انہوں نے معاف نہیں کیا۔ اس لیے میں آپ کے حضور حاضر ہوا ہوں ۔ آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم نے تین بار فرمایا: ” ابوبکر اللہ تمہیں معاف کرے۔“ اس کے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِی اللہ عنہ کو بھی ندامت ہوئی تو وہ سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان پر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو بارگاہ رسالت میں گئے ہوئے ہیں، حضرت سید نا عمر فاروق رضی الله تعالى عنہ بھی وہیں پہنچ گئے ، جیسے ہی آپ رضی اللہ تعالی عنہ وہاں پہنچے انہیں دیکھ کر نبی کریم رؤف رَّحیم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم کے رخ انور پر جلال کے آثار ظاہر ہو گئے، حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعال عَنْہ یہ دیکھ کر ڈر گئے اور آپ صَلَّى اللهُ تَعَالَ علیہ والہ وسلم کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر عاجزانہ عرض کی: یارسول الله صَلَّى اللَّهُ علیہ وَسلم ! عمر کے ساتھ سخت کلامی میں نے کی تھی ۔ دوبارہ یہی کہا تو سر کار مدینہ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو! اللہ تعالٰی نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا تو تم نے مجھے جھٹلایا، مگر ابوبکر نے میری تصدیق کی ، پھر اس نے اپنا جان و مال سب کچھ مجھ پر فدا کر دیا تو کیا تم میرے دوست کے معاملے کو میری وجہ سے برداشت نہیں کر سکتے ؟ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم نے دوبار یہ ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد سید نا ابوبکر صدیق رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ کو کسی نے ایذا نہ دی۔ (صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبي لو كنت متخذا خليلا، الحدیث: 3661، ج2، ص 519)

یعنی حضور ﷺ یہ بھی گوارہ نہیں کرتے کہ کوئی صدیق اکبر کو ایذا دے٬ اور گوارہ بھی کیسے کرتے کہ حضور آپ سے بے پناہ محبت کرتے تھے کیونکہ جتنا ساتھ اور آپ کی جتنا مدد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کی اتنا کوئی نہیں کیاـ

محبوب حبیب خدا

حضرت سید نا ابو عثمان رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام عَلَيْهِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا: یارسول الله صلى اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم! لوگوں میں آپ کو سب سے بڑھ کر کون محبوب ہے؟ آپ صلی اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: "عائشہ" انہوں نے دوبارہ عرض کیا: ”مردوں میں سے کون ہے؟" فرمایا: "عائشہ کے والد ( یعنی حضرت۔سید نا ابو بکر صدیق رضی الله تعال منه ) (صحیح البخاری، کتاب المغازی، غزوة ذات السلاسل الحديث : 4358، )

ان سب حدیث پاک سے پتہ یہی چلتا ہے کہ حضور ﷺ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ صرف صحابہ ہی میں فضیلت نہیں رکھتے تھے بلکہ آپ ﷺ کے نظر و نگاہ میں بھی ایک الگ شان و مرتبہ رکھتے تھےـ تو اس موضمون سے ایک سبق آموز بات یہ بھئ سمجھ میں آئی کہ ہم اگر چہ صدیق اکبر نہیں بن سکتے لیکن غلام صدیق ضرور بن سکتے ہے٬ انہوں نے اپنا سارا کا سارا مال راہ حق میں خرچ کردیے تو ہم کم سے کم اپنی زکوٰۃ تو ادا کر ہی سکتے ہے اور اللہ پاک نے جتنا استطاعت دیا اس کے مطابق تو خرچ کر ہی سکتے ہے٬ جس طرح انہوں نے حضور سے محبت کا حق نبھایا اور حضور کی اطاعت میں اپنی زندگی گزر بسر کی اسی طرح ہمیں بھی عشق رسول کا اظہار صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ اپنی کردار سے بھی نبھایے٬ اور ہم اپنے آپ کو ایسے رنگ میں ڈھال لے کہ بندہ دیکھے تو کہے یہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ غلام صدیق اکبر نظر آرہا ہے٬ حضور کا سچا عاشق لگ رہا ہے٬ جب گفتگو کرے تو جملوں میں صدق ہی صدق ابھر رہا ہو گویا کہ ایس لگے کہ صدق اکبر رضی اللہ عنہ کی صدق کا بو آرہی ہو اللہ پاک ہم سب کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صدق کی کچھ چھینٹا ہی نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!