| عنوان: | امام احمدرضا اور علم سیرت و شمائل نبویہ (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد اظہار النبی حسینی |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
امام احمدرضا اور علم سیرت کے عنوان پر کچھ لکھنے سے قبل ایک اہم اور بنیادی بات عرض ہے کہ؛ امام اہلسنت امام احمدرضا خاں رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خصوصی مصروفیات عقائد و کلام، فقہ و فتاویٰ اور رد فرق باطلہ میں تھیں، اس لئے آپ دوسرے فنون کی طرف بوقت ضرورت توجہ فرماتے، اور کسی سائل کے سوال یا کسی صاحب علم کی فرمائش پر علمی افادات پر مشتمل رسائل تحریر فرماتے، انھیں فنون میں سے سیرت و شمائل نبوی ﷺ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ؛ سیرت نگاری کا جو تصور آج کل پایا جاتا ہے، حضور اقدس ﷺ کے واقعات و حالات کا ریکارڈ تیار کر دینا، اگرچہ اس اعتبار سے آپ نے سیرت پر خامہ فرسائی نہیں کی، لیکن؛ آپ کے فتاویٰ و تصانیف میں سیرت مصطفٰی ﷺ کے مختلف گوشوں پر جو تحقیق و تدقیق کے جواہر پارے ہیں اور سیرت رسول ﷺ کے بعض پہلوؤں پر جو مستقل رسالے تصنیف کیۓ، انھیں یکجا کیا جاۓ تو یقینا اس فن میں امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ کا قابل قدر کارنامہ سیرت نبوی کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔
علم سیرت اور شمائل نبوی ﷺ کے میدان میں امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ کی خدمات کو بحسن و خوبی سمجھنے کے لیے مناسب ہے کہ پہلے سیرت کی تعریف اور اس میں بیان کیۓ جانے والے موضوعات کو پیش نظر رکھا جاۓ، پھر آپ کی تصانیف کا مطالعہ کیا جاۓ۔
سیرت و شمائل کا تعارف (لغوی و اصطلاحی معنی)
سیرت کے لغوی معنی تو "طریقہ کار"، "چلنے کی رفتار" اور "انداز" کے ہیں۔ عربی زبان میں "فعلۃ" کے وزن پر جو مصدر آتا ہے اس کے معنی کسی کام کا طریقہ یا کسی کام کی نوعیت کے ہوتے ہیں، اسی معنی کی توسیع کے طور پر عربی زبان میں سیرت کے معنی "کسی کی طرز زندگی" یا "زندگی گزارنے کا اسلوب" بھی ہیں۔ لفظ سیرت کی یہ اقبال مندی اور خوش بختی ہے کہ اسے اس عظیم ذات بابرکات سے انتساب کا شرف حاصل ہوا، جس کے لیے یہ پوری دنیا بنائی گئی، چنانچہ سیرت کا لفظ رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ کے ساتھ خاص ہوگیا، اور اب محض سیرت کے اطلاق کے وقت دنیا کی تمام مسلم زبانوں میں نبی کریم ﷺ کی ذات اور آپ کے احوال و کوائف ہی سمجھے جاتے ہیں۔
اصطلاحی طور پر سیرت کا اطلاق فقہاء و محدثین کے یہاں رسول اللہ ﷺ کے جہاد اور غزوات و سرایا میں ان کے طور طریقے اور کفار و مشرکین کے ساتھ معاملات پر ہوتا تھا، اور اس کے لیے وہ "کتاب المغازی" اور "کتاب السیر" کا عنوان قائم کیا کرتے تھے، مگر بعد میں یہ لفظ ایک وسیع معنی و مفہوم میں مستعمل ہونے لگا اور مستقل فن کی حیثیت اختیار کر گیا، اور غزوات و سرایا کا بیان اس معنی کا ایک جز قرار پایا۔
فتح الباری میں ہے:
"(والسیر) بکسر المھملۃ و فتح التحتانیۃ جمع سیرۃ واطلق ذلک علی ابواب الجھاد لانھا متلقاہ من احوال النبی ﷺ فی غزواتہ" (فتح الباری ج: ٦ ص ٤، دارالمعرفۃ، بیروت)
ترجمہ: "سیر" سین کے کسرہ اور یا کے فتحہ کے ساتھ سیرت کی جمع ہے، اس کا اطلاق جہاد کے ابواب پر ہوتا ہے، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کے ان حالات سے ماخوذ ہوتے ہیں جو غزوات میں پیش آتے ہیں۔
ہدایہ مع فتح القدیر میں ہے:
"(السیر جمع سیر، و ھی الطریقۃ فی الامور، و فی الشرع تختص بسیر النبی علیہ الصلاہ والسلام فی مغازیہ) (والسیر جمع سیرۃ) وھی فعلۃ بکسر الفاء من السیر فیکون لبیان ھیںٔۃ السیر و حالتہ؛ لان فعلۃ للھیںٔۃ کجلسۃ و خمرۃ،۔۔۔۔۔ لکن غلب فی لسان اھل الشرع علی الطریق الامامور بھا فی غزو الکفار؛۔۔۔۔۔ و فی غیر کتب الفقہ یقال: کتاب المغازی۔" (فتح القدیر ج: ٥ ص ٤٣٤، دارالفکر، بیروت)
ترجمہ: سیر سیرت کی جمع ہے، اس کا (لغوی) معنی طور طریقہ ہے اور اصطلاح شرع میں غزوات میں نبی کریم ﷺ کے احوال اور طور طریقے کے ساتھ خاص ہے۔ (والسیر جمع سیرۃ) یہ فا کے کسرہ کے ساتھ فعلۃ کے وزن پر مصدر ہے تو اس کا معنی چلنے کی ہیںٔت اور حالت ہوگا؛ اس لئے کہ فعلۃ کا وزن ہیںٔت کے لیے ہے: جیسے جلسۃ اور خمرۃ، لیکن؛ علمائے شریعت کے نزدیک اس لفظ کا غالب استعمال ان طور طریقوں پر ہوتا ہے، جن کا حکم کفار کے ساتھ جنگ میں دیا گیا ہو۔
سیرت کی موجودہ تعریف
سراج الہند شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے اپنی کتاب عجالہ نافعہ میں "سیرت" کی یہ تعریف تحریر فرمائی:
"آں چہ بوجودہا پیغمبر ما ﷺ و صحابہ کرام و آل عظام اوست، و از ابتداۓ تولد آں جناب تا غایت وفات، آں را سیرت نامند" (عجالہ نافعہ ص: ١٨)
ترجمہ: ہمارے رسول ﷺ کی ذات بابرکات اور آپ کے آل و اصحاب کرام سے متعلق جو کچھ بھی ہے، آپ کی ولادت باسعادت سے وفات حسرت آیات تک کے احوال کو اصحاب علوم و فنون "سیرت" کہتے ہیں۔
سیرت کے موضوعات
فن سیرت اور کتب سیرت میں عموما جن موضوعات و عنوانات پر گفتگو ہوتی ہے، وہ تدوین کتب سیرت کے مختلف ادوار کے اعتبار سے بنیادی طور پر کثیر اور متحد ہونے کے ساتھ فروعی طور پر مختلف اور کم و بیش بھی ہیں۔ اس لئے راقم بعد کے دور میں لکھی جانے والی سیرت کی دو نہایت اہم اور معتبر کتاب "المواہب اللدنیہ" مصنفہ شارح بخاری امام احمد بن حنبل محمد قسطلانی علیہ الرحمہ اور "مدارج النبوۃ" مصنفہ محقق علی الاطلاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کو پیش نظر رکھ کر سیرت کے چند عنوانات ذیل میں ذکر کرتا ہے:
معلم کائنات ﷺ کے مبارک نسب اور اس کی طہارت، حمل شریف اور ولادت کے وقت عجائبات قدرت، رضاعت و پرورش، اعلان نبوت، کفار مکہ کے مظالم، ہجرت مدینہ، غزوات و سرایا، شمائل و خصائل، سراپا حسن و جمال، اخلاق و صفات عظیمہ، فضل و شرف، دنیا و آخرت میں خصوصیات و کمالات اور مخصوص درجات و فضائل، معجزات، عبادت و ریاضت، روزمرہ کے معمولات، ازواج مطہرات، اولاد امجاد، اصحاب کرام اور باندیاں وغیرہ۔ ان تمام موضوعات یا ان میں سے بعض موضوعات پر کلام کرنا یا خامہ فرسائی کرنا سیرت نگاری کے زمرے میں آتا ہے۔
اگر اس زاویے سے امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ کے کتب و رسائل کا مطالعہ کیا جاۓ، اور علم سیرت میں آپ کی خدمات کا جائزہ لیا جاۓ، تو یقیناً اس فن میں بھی آپ کے یادگار نقوش ابھر کر سامنے آئیں گے، اور تشنگان سیرت و شمائل نبوی ﷺ کو آپ کے ذریعہ ملنے والے بیش قیمت تحائف بھی نظر آئیں گے۔ آپ کی تحریروں کا مطالعہ کرنے کے بعد علم سیرت میں آپ کی خدمات کو کئی جہتوں سے بیان کیا جا سکتا ہے، جو حسب ذیل ہیں:
علم سیرت و شمائل نبوی ﷺ میں امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ نے نثر و نظم ہردو صنف میں تحریری سرمایہ پیش فرمایا، پھر نثری و نظمی سرماۓ دو قسموں پر مشتمل ہیں:
(١) آپ نے سیرت کے بعض موضوعات پر مستقل رسالے یا مستقل کلام تحریر فرمائے。
(٢) کتب و رسائل اور کلام و مناقب میں مختلف مقامات پر سیرت و شمائل کے مختلف گوشوں کو بیان کیا اور قیمتی معلومات فراہم کیں۔
اب ہم درج بالا دونوں قسموں پر قدرے تفصیلی گفتگو کریں گے۔
سیرت کے موضوعات پر امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ کے مستقل رسالے
امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ کے زرنگار قلم نے سیرت رسول اللہ ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر تقریبا ٣٢ رسائل لکھنے کی سعادت پائی۔ ان رسائل کے نام اور مختصر تعارف پیش خدمت ہیں۔ ہماری یہ کوشش ہوگی کہ خود مؤلف یا کسی مشہور صاحب علم کے قلم سے رسالے کا تعارف پیش کیا جاۓ بصورت دیگر راقم اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں تعارف پیش کرے گا۔
(١) تجلی الیقین بان نبیینا سید المرسلین (١٣٠٥ھ)
اس رسالے کے آغاز و اختتام تحریر کی تاریخ سے متعلق امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
"یہ رسالہ ششم شوال کو آغاز اور نوزدہم کو ختم۔ اور اس پنجم ذوالقعدہ روز جان افروز دوشنبہ کو وقت چاشت مسودہ سے مبیضہ ہوا، والحمدللہ رب العالمین! ان اوراق میں پہلی حدیث حضرت امیرالمؤمنین مولی المسلمین مولی علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے ماثور، اور سب میں پچھلی حدیث بھی اسی جناب ولایت مآب سے مذکور، امید ہے کہ اس خاتم خلافت نبوت فاتح سلاسل ولایت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے صدقہ میں حضور پرنور، عفو و غفور، جواد و کریم، رؤف و رحیم، صفوح زلات، مقیل عثرات، مصحح حسنات، عظیم الہبات، سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، محمد رسول اللہ رب العالمین صلوات اللہ و سلامہ علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ أجمعین کی بارگاہ بیکس پناہ میں شرف قبول فرماۓ" (فتاوی رضویہ، ج ٣٠، ص: ٦٣، ٢٦٤)
اس رسالے میں امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ نے تمام انبیاء کرام علیھم السلام پر حضور ﷺ کی فضیلت میں دس آیات اور سو احادیث بیان فرماۓ، اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے خود ہی اپنے قلم سے اس کتاب کا تعارف یوں تحریر فرمایا:
"بلا مبالغہ اگر توفیق مساعد ہو اس عقیدے کی تحقیق مجلدات سے زائد ہو، مگر بقدر حاجت و وقت فرصت، قلب مومن کی تسکین و تثبیت اور منکر بد باطن کی تحزین و تبکیت کو صرف دس آیتوں اور سو حدیثوں پر اقتصار مطلب اور اس معجز عجالہ مسمی بہ "قلائد نحور الحور من فرائد بحور النور" کو بلحاظ تاریخ "تجلی الیقین بان نبیینا سید المرسلین" سے ملقب کرتا ہے" (ایضا: ص ١٣٣، ١٣٢)
"تببیہ: فقیر غفر اللہ تعالٰی نے اس عجالہ میں کہ نہایت جاوزت پر مبنی تھا، اکثر حدیثوں کی نقل میں اختصار بلکہ بہت جگہ صرف محل استدلال پر اقتصار کیا، مواقع کثیرہ میں موضع احتجاج کے سوا باقی حدیث کا فقط ترجمہ لایا، طرق و متابعات بلکہ کبھی شواہد مقاربۃ المعنی میں بھی ایک کا متن لکھا، بقیہ کا محض حوالہ دیا۔ اگرچہ وہ سب متون جدا جدا بالاستیعاب بحمدللہ! میرے پیش نظر ہوۓ، جہاں اتفاق سے کلمات علماء کی حاجت دیکھی، وہاں تو غالبا مجرد اشارہ یا نقل بامعنی یا التقاط ہی پر قناعت کی، ہاں تخریج احادیث میں اکثر استکثار پر نظر رکھی... لہذا! مناسب کہ طالب سند و جویاۓ تفصیل کے لیے ان بحار اسفار مواج زخار کے اسماء شمار ہوں جو ہنگام تحریری رسالہ میرے پیش نظر موجزن رہے۔" (ایضا، ص: ٢٦٢، ٢٦١)
(٢) الامن والعلی لناعتی المصطفیٰ بدافع البلاء (١٣١١ھ)
رسول گرامی وقار ﷺ کی کثیر صفات میں سے ایک صفت "دافع البلاء" بھی ہے۔ جب اس صفت کے ماننے کو شرک محض کہا گیا تو امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ نے حضور ﷺ دافع البلاء ہونے کے اثبات میں یہ رسالہ تحریر فرمایا، یہ رسالہ ایک مقدمہ، دو باب اور ایک خاتمے پر مشتمل ہے، جیساکہ اس رسالے میں ہے:
"یہ مختصر جواب موضع صواب متضمن مقدمہ و دو باب و خاتمہ۔ مقدمہ اتمام الزام و تمہید مرام میں عائدہ قاہرہ و فائدہ زاہرہ پر مشتمل۔" (ایضا: ص، ٣٦٢)
اس رسالے کے مضامین کے بارے میں منیر العین فی تقبیل الابھامین میں ہے:
"یہ حدیثیں حضرات وہابیہ کی جان پر آفت ہیں انہیں دو پر کیا موقوف فقیر غفر اللہ تعالٰی نے بجواب استفتاۓ بعض علمائے دہلی ایک نفیس و جلیل و موجز رسالہ مسمی بنام تاریخی "الأمن والعلی لناعتی المصطفیٰ بدافع البلاء" (١٣٢٠ھ) ملقب بلقب تاریخی "اکمال الطامۃ علی شرک سوی بالامور العامۃ" تالیف کیا، اس میں ایسی بہت کثیر و عظیم باتوں کا آیات و احادیث سے صاف و صریح ثبوت دیا... یہ مختصر رسالہ کہ چار جز سے بھی کم ہے، ایک سو تیس سے بھی زیادہ فائدوں اور تیس آیتوں اور ستر سے زیادہ حدیثوں پر مشتمل ہے، جو اس کے سوا کہیں مجتمع نہیں ملیں گے، بحمدللہ تعالی، اس کی نفاست، اس کی جلالت، اس کی صولت، اس کی شوکت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔" (ایضا، ج: ٥ ص: ٦٠٨، ٦٠٩)
اشراک بمذ ہبے کہ تاحق رسد
مذہب معلوم و اہل مذہب معلوم
(قسط دوم جاری ہے...)
