| عنوان: | امام احمدرضا اور علم سیرت و شمائل نبویہ (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد اظہار النبی حسینی |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
(٣) اجلال جبرئیل بجعلہ خادما للمحبوب الجمیل (١٢٩٨ھ)
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ اپنے رسالے تجلی الیقین میں لکھتے ہیں:
"گروہ معتزلہ کہ ملائکہ کرام کو حضرات انبیاء علیھم السلام سے افضل مانتے ہیں وہ بھی حضور سید المرسلین ﷺ کو بالیقین مخصوص و مستثنیٰ جانتے ہیں، ان کے نزدیک بھی حضور پرنور انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین و خلق اللہ اجمعین سب سے افضل و اعلیٰ و بلند و بالا علیہ صلوۃ المولیٰ تعالیٰ۔ کلمات علمائے کرام میں اس کی تصریح اور فقیر کے رسالہ "اجلال جبرئیل بجعلہ خادما للمحبوب الجمیل" میں تحقیق و توضیح۔" (فتاویٰ رضویہ، ج: ٣٠، ص: ١٣١)
اسی رسالہ میں دوسرے مقام میں لکھتے ہیں:
"رسالت والا کا تمام جن و انس کو شامل ہونا اجماعی ہے، اور محققین کے نزدیک ملائکہ کو بھی شامل، کما حققناہ بتوفیق اللہ تعالٰی فی رسالہ "اجلال جبرئیل"۔ بلکہ تحقیق یہ ہے کہ حجر وشجر و ارض و سماء و جبال و بحار تمام ماسوا اللہ اس کے احاطہ عامہ و دائرہ تامہ میں داخل۔" (ایضا، ص: ١٣٨)
(٤) انباء المصطفیٰ بحال سر و أخفی (١٣١٨ھ)
اس رسالے کا تعارف امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ نے یوں تحریر فرمایا ہے:
"فقیر غفر لہ المولی القدیر نے اس سوال کے ورد پر ایک مبسوط کتاب "بحر عباب" منقسم بہ چار باب مسمی بہ نام تاریخی "مالی الجیب بعلوم الغیب" (١٣١٨ھ) کی طرح ڈالی۔
باب اوّل: فصوص یعنی فوائد جلیلہ و نفائس جزیلہ کو ترصیف دلائل اہل سنت کے مقدمات ہوں۔
باب دوم: نصوص یعنی اپنے مدعا پر دلائل جلائل قرآن و حدیث و اقوال ائمہ قدیم و حدیث
باب سوم: عموم و خصوص کہ احاطہ علومِ محمدیہ میں تحریر محل نزع کرے۔
باب چہارم: قطع اللصوص یعنی اس مسئلے میں تمام مہملات نجدیہ نو و کہن کی سر فگنی و تکبر شکنی، مگر فصوص و نصوص کے ہجوم و وفور نے ظاہر کردیا کہ اطالت تا حد ملالت متوقع، لہذا! باذن اللہ تعالٰی نفع عامہ کے لیے اس بحر ذخار سے ایک گوہر شہسوار لامع الانوار گویا خزائن الاسرار سے درمختار مسمی بہ نام تاریخی "اللؤلؤ المکنون فی علم البشیر ما کان وما یکون" (١٣١٨ھ) چن لیا جس نے جمع و تلفیق کے عوض نفع و تحقیق کی طرف بحمد اللہ زیادہ رخ کیا، اس کے ایک ایک نور نے نور السمٰوات والارض جل جلالہ کے عون سے وہ تابشیں دکھائیں کہ ظلمات باطلہ کافور ہوتی نظر آئیں۔
یہ چند حرفی فتویٰ کہ اس کے لمعات سے ایک شعشہ اور بلحاظ تاریخ بنام انباء المصطفیٰ بحال سر وأخفی مسمی ہے، اس کے تمام اشارات خفیہ کا بیان مفصل اسی پر محول ذی علم ماہر تو ان ہی چند حروف سے ان شاءاللہ تعالیٰ سب خرافات و جزافات مخالفین کو کیفر چشانی کر سکتا ہے، مگر جو صاحب تفصیل کے ساتھ دست نگر ہوں بعونہ تعالیٰ رسائل مذکورہ کے لآلی متلالی سے بہرہ ور ہوں، حضرات مخالفین سے بھی گزارش ہے کہ اگر توفیقِ الہی مساعدت کرے یہی حرف مختصر ہدایت کرے تو ازیں چہ بہتر، ورنہ اگر بوجہ کوتاہی فہم و غلبۂ وہم و قلتِ تدبر و شدتِ تعصب اپنی تمام جہالاتِ فاحشہ کی پردہ دری ان مختصر سطور میں نہ دیکھ سکیں تو اسی مہر جہاں تاب کا انتظار کریں جو بہ عنایت الہی و اعانت رسالت پناہی ﷺ ان کی تمام ظلمتوں کی صبح کر دے گا، ان کا ہر کاسہ سوال آبِ زلال رد و ابطال سے بھر دے گا، الا ان موعدہم الصبح الیس الصبح بقریب ط وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔" (ایضا، ج: ٢٩، ص: ٥٠٧، ٥٠٨)
(٥) زواہر الجنان من جواھر البیان معروف بسلطنتہ المصطفیٰ فی ملکوت کل الوری (١٢٩٧ھ)
"یقین جان کہ وہ جناب مرقدِ عطر و انور میں بحیاتِ ظاہری، دنیاوی، حقیقی ویسے ہی زندہ ہیں، جیسے پیش از وفات تھے، موت ان کی ایک امرِ آنی تھی، اور انتقال ان کا صرف نظرِ عوام سے چھپ جانا۔"
اعلیٰ حضرت نے اس عبارت میں "وہ جناب" پر حاشیہ لگایا اور لکھا:
"اس نفیس مقام پر کتاب مستطاب جواہر البیان شریف میں وہ نفحاتِ جاں افروز و نفحاتِ دشمن سوز ہیں جن کی شرح میں فقیر نے کتاب "سلطنۃ المصطفیٰ فی ملکوت کل الوری" تحریر کی، جسے ان حقائق کی تفصیل دیکھنی منظور ہو اس کی طرف رجوع کرے ان شاءاللہ تعالیٰ حق کا رنگ رچا ملے گا اور باطل کا سر لچا، ذلک من فضل اللہ علینا و علی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون" (فتاویٰ رضویہ، ج: ١٠، ص: ١٧٣)
الامن والعلی میں ہے:
"اس طائفہ کے رد میں اقوالِ ائمہ و علماء کہتے ہو ان کے نزدیک وہ بھی تمھاری طرح معاذاللہ مشرک بدعتی تھے، درود محمود میں کتب و صیغ کثیرہ کی تصنیف و اشاعت انھوں نے کی تمھارے پیارے نبی مصطفیٰ کریم ﷺ کو اللہ تعالٰی کا خلیفۂ اکبر و مدد بخش ہر خشک و تر و واسطہ ایصال ہر خیر و برکت و وسیلہ فیضان ہر جود و رحمت و شافی و کافی و قاسم نعمت و کاشف کرب و دافع زحمت وہی لکھ گئے جس کی تصریحاتِ قاہرہ سے ان کی تصنیفاتِ باہرہ کے آسمان گونج رہے ہیں، فقیر غفر لہ نے کتاب مستطاب "سلطنۃ المصطفیٰ فی ملکوت کل الوری" ١٢٩٧ھ میں بکثرت ارشادات جلیلہ و نصوص جزیلہ جمع کئے جن کے دیکھنے سے بحمد اللہ ایمان تازہ ہو اور روئے ایقان پر احسان کا غازہ تو ان کے نزدیک حقیقۃً یہ شرک و بدعت تمھیں وہی سکھا گئے آخر ان کا بانی مذہب شیخ نجدی علیہ ماعلیہ ڈنکے کی چوٹ کہتا تھا کہ ٦٠٠ برس سے جتنے علماء گزرے سب کافر تھے کما ذکرہ المحدث العلامۃ الفقیہ الفھامۃ شیخ الاسلام زینت المسجد الحرام سیدی احمد بن زین ابن دحلان المکی قدس سرہ الملکی فی الدرر السنیۃ۔" (ایضا، ج: ٣٠، ص: ٣٦٣)
(٦) شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام (١٣١٥ھ)
یہ رسالہ اواخر شوال المکرم ١٣١٥ھ میں معرض تحریر میں آیا، جیسا کہ اسی رسالے کے آخر میں ہے: الحمدللہ یہ موجز رسالہ اواخر شوال المکرم ١٣١٥ھ کے چند جلسوں میں تمام اور بلحاظ تاریخ "شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام" نام ہوا، (ایضا، ج: ٣٠، ص: ٣٠٥)
در حقیقت یہ رسالہ حضرت مولانا شاہ محمد عبد الغفار قادری، مدرس اعلیٰ مدرسہ جامع العلوم، بنگلور کی کتاب "ہدایۃ الغوی فی اسلام آباء النبی" کی تصدیق میں لکھا گیا۔ (حاشیہ)
"مذہب صحیح یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ کے والدین کریمین حضرت سیدنا عبداللہ اور سیدتنا آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہما اہل توحید و اسلام و نجات تھے، بلکہ حضور کے آباؤ اجداد و امہات حضرت عبداللہ و آمنہ سے حضرت آدم و حوا تک مذہب ارجح میں سب اہل اسلام و توحید ہیں، قال اللہ: الذی یراک حین تقوم و تقلبک فی الساجدین۔
اس آیۃ کریمہ کی تفسیر سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا نور ایک نمازی کے دوسرے نمازی کی طرف منتقل ہوتا آیا، اور حدیث میں ہے کہ رب نے نور اقدس کی نسبت فرمایا کہ اسے اصلاب طیبہ و ارحام طاہرہ میں رکھوں گا اور رب کبھی کسی کافر کو طیب و طاہر نہ فرمائے گا، "انما المشرکون نجس" اس بارے میں ہمارا ایک خاص رسالہ "شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام"۔ اور امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے خاص اس باب میں چھ رسالے لکھے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج: ١٤، ص: ٢٧٤)
(٧) فقہ شہنشاہ وان القلوب بید الحبیب بعطاء اللہ (١٣٢٦ھ)
اس رسالے میں کیا ہے؟ امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ کی زبانی سنیئے؛ فرماتے ہیں:
"یہ مختصر عجالہ بصورت رسالہ ظاہر ہوا، اور اس میں دو مسئلوں پر کلام تھا، ایک لفظ "شہنشاہ" دوسرے یہ کہ قلوب پر سید اکرم مولائے افحم حضور سیدنا غوثِ الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قبضہ و تصرف ہے، لہذا! مناسب کہ؛ اس کا تاریخی نام "فقہ شہنشاہ وان القلوب بید الحبیب بعطاء اللہ" رکھا جائے۔" (ایضا، ج: ٢٢، ص: ٣٩٥)
حضور اکرم ﷺ کے لیے لفظ "شہنشاہ" کے استعمال کے جواز و عدم جواز پر کلام کرنے سے قبل امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ نے "شہنشاہ"، "شاہان شہ"، اور "ملک الملوک" جیسے الفاظ کے عرف و محاورے میں شائع اور ذائع ہونے کی ٣٣ مثالیں پیش فرمائیں، اس کے بعد اس لفظ کے جواز و عدم کی جانب رائے سخن کیا، منع و جواز کی صورتیں مدار حکم کے ساتھ بیان فرمائیں اور مانعین و مجوزین کے دلائل پر بھرپور روشنی ڈالی، پھر اپنا یہ فیصلہ تحریر فرمایا:
"جب قرآن عظیم نے مدینہ طیبہ کی ساری زمین کو اللہ کی طرف اضافت فرمایا: "الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیہا" کیا خدا کی زمین یعنی زمین مدینہ کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے، تو خاص روضہ انور کو الہی روضہ، شاہنشاہی خیابان، ربانی کیاری کہنے میں کیا حرج ہے، وللہ الحمد!۔
بایں ہمہ جب فقیر بعون القدیر آیت و حدیث سے اپنے حبیب اکرم ﷺ کا مالک الناس، ملک الناس، مالک الارض، مالک رقاب الامم، ہونا ثابت کرچکا تو لفظ پر اصرار یا روایت خلاف پر انکار کی حاجت نہیں، یہ بھی ہمارے علماء سے بعض متاخرین کا قول ہے اس کے لحاظ کے بجائے "شہنشاہ طیبہ" کہئے، کہ وہ شاہ طیبہ بھی ہیں اور شاہ تمام روئے زمین بھی اور شاہ تمام اولین و آخرین بھی جن میں ملوک و سلاطین سب داخل۔ بادشاہ ہو یا رعیت، وہ کون ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے دائرۂ غلامی سے سر باہر نکال سکتا ہے۔" (ایضا، ص: ٣٧٨)
(٨) نفی الفیء عمن بنورہ انار کل شئ (١٢٩٦ھ)
یہ رسالہ حضور ﷺ کے لیے سایہ نہ ہونے کی تصریح فرمانے والے علمائے کرام کے اسمائے گرامی، سرور کائنات ﷺ کا سایہ نظر نہ آنے کی کیفیت، عدم سایہ کے دلائل اور حکمتوں کے بیان پر مشتمل ہے، آخر میں بطور خلاصہ فرماتے ہیں:
"بالجملہ جبکہ حدیثیں اور اتنے اکابر ائمہ کی تصریحیں موجود کہ اگر مخالف اپنے کسی دعوے میں ان میں سے ایک کا قول پائے، کس خوشی سے معرض استدلال میں لائے، جاہلانہ انکار، مکار برہ و کج بحثی ہے، زبان ہر ایک کی اس کے اختیار میں ہے چاہے دن کو رات کہہ دے یا شمس کو ظلمات، آخر کار مخالف جو سایہ ثابت کرتا ہے اس کے پاس بھی کوئی دلیل ہے یا فقط اپنے منہ سے کہہ دیا جیسے ہم حدیثیں پیش کرتے ہیں اس کے پاس ہوں وہ بھی دکھائے، ہم ارشادات علماء سند میں لاتے ہیں، وہ بھی ایسے ہی ائمہ کے أقوال سنائے، یا نہ کوئی دلیل ہے نہ کوئی سند، گھر بیٹھے اسے الہام ہوا کہ حضور ﷺ کا سایہ تھا۔" (ایضا، ج: ٣٠، ص: ٧١٠)
(٩) قمرالتمام فی نفی الظل عن سید الانام (١٢٩٦ھ)
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ رسالہ قمر التمام کے حوالے سے اپنے ایک رسالہ میں فرماتے ہیں:
"جان برادر! اپنے ایمان پر رحم کر، سمجھ، دیکھ کر خدا سے کسی کا کیا بس چلے گا، اور جس کی شان وہ بڑھائے، اسے کوئی گھٹا سکتا ہے، آئندہ تجھے اختیار ہے، ہدایت کا فضل الہی پر مدار ہے۔
ہم پر بلاغ مبین تھا، اس سے بحمدللہ! فراغت پائی، اور جو اب بھی تیرے دل میں کوئی شک و شبہ یا ہمارے کسی دعوے پر دلیل یا کسی اجمال کی تفصیل درکار ہو تو فقیر کا رسالہ مسمی بہ "قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام" علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ والسلام، جسے فقیر نے بعد ورود اس سوال کے تالیف کیا، مطالعہ کرے، ان شاءاللہ تعالیٰ بیان شافی پائے گا، اور مرشد کافی، ہم نے اس رسالہ میں اس مسئلہ کی غایت تحقیق ذکر کی ہے، اور نہایت نفیس دلائل سے ثابت کردیا ہے کہ حضور سراپا نور تابندہ درخشندہ ذی شعاع و اضائت بلکہ معدن انوار و افضل مضیٔات بلکہ درحقیقت بعد جناب الہی نام "نور" انہیں کو زیبا، اور ان کے ماوراء کو اگر نور کہہ سکتے ہیں تو انہیں کی جناب سے ایک علاقہ و انتساب کے سبب، اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ؛ ثبوت معجزات صرف اسی پر موقوف نہیں کہ؛ حدیث یا قرآن میں بالتصریح ان کا ذکر ہو بلکہ ان کے لیے تین طریقے ہیں، اور یہ بھی بیان کردیا ہے پیشوایان دین کا ادب ان معاملات میں ہمیشہ قبول و تسلیم رہا ہے، اگر کہیں قرآن وحدیث سے ثبوت نہ ملا تو اپنی نظر کا قصور سمجھا، نہ یہ کہ باوجود ایسے ثبوت کافی کہ حدیثیں اور ائمہ کی تصریحیں اور کافی دلیلیں، سب کچھ موجود، پھر بھی اپنی ہی کہے جاؤ، انکار کے سوا کچھ زبان پر نہ لاؤ، اور اس کے سوا اور فوائد شریفہ و أبحاث لطیفہ ہیں، جو دیکھے گا ان شاء اللہ تعالٰی لطف جانفزا پائے گا۔" (ایضا، ص: ٧٣١)
(١٠) ہدی الحیران فی نفی الفیء عن سید الاکوان (١٢٩٩ھ)
اس رسالے کے معرض تحریر میں آنے کے مقام و حالات اور تاریخ کے بارے میں اسی رسالے میں ہے:
"این ست سطرے چند کہ باعموم غموم، و ہجوم ہموم، و تراکم امراض، و تلاطم اعراض، برنہجے کہ خداۓ خواست، در دو جلسہ گیسو آراست، من فقیر می خواستم کہ زلف سخن را شانہ دگر کشم، اما چہ کنم، کہ دریں کور دہ از وطن دور، و از کتب مہجور افتادہ ام، این جا سواۓ شفاء و نسیم الریاض، مطالع المسرات و بعض کتب فقہ ہیچ کتب بدستم نیست، ورنہ اولی الانظار دیدندے آنچہ دیدندے۔"
ترجمہ: یہ چند سطور جس طرح خدا نے چاہا، غم و اندوہ کے اجتماع و امراض و عوارض کے ازدحام کے باوجود دو جلسوں میں تحریر کی گئیں، دل چاہتا ہے کہ؛ زلف سخن دوسری کنگھی سے سنوار دوں، مگر کیا کروں اس اندھی بستی میں وطن سے دور ہوں، کتابیں پاس نہیں، یہاں سوائے شفا، نسیم الریاض، مطالع المسرات اور بعض کتب فقہ کے کوئی کتاب موجود نہیں، ورنہ آنکھ والے دیکھتے جو دیکھتے۔
"ولکن من یرد اللہ خیرہ یشرح بھذا القدر صدرہ وما ذلک علی اللہ بعزیز ان ذلک علی اللہ یسیر، ان اللہ علی کل شئ قدیر، و کان ذلک لمنتصف جمادی الاخری عام تسع و تسعین بعد الالف والمائتین" (ایضا، ص: ٧٧١، ٧٧٢)
ترجمہ: لیکن اللہ پاک جس کی بھلائی کا ارادہ فرمائے اسی قدر سے اس کا سینہ کھول دے، اور اللہ تعالٰی پر یہ کوئی مشکل نہیں، بے شک اللہ تعالٰی کے لیے یہ آسان ہے، بے شک اللہ تعالی ہر شئ پر قادر ہے، یہ نصف جمادی الاخری ١٢٩٩ھ کو مکمل ہوا۔ "رسالہ ہدی الحیران فی نفی الفیء عن سید الاکوان" ختم ہوا۔
رسالہ فتاویٰ کرامات غوثیہ میں اس رسالہ کی ایک جزوی جھلک ان لفظوں میں ہے:
"جب معراج میں اتنے لوگوں کی ارواح کا حاضر ہونا احادیث و اقوال علماء و اولیاء سے ثابت ہیں، تو روحِ اقدس پرنور سید الاولیاء غوث الاصفیاء رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حاضری، کیا جائے تعجب و انکار ہے بلکہ ایسی حالت میں حاضر نہ ہونا ہی محل استعجاب ہے اک ذرا انصاف و اندازہ قدرِ قادریت درکار ہے۔
اقول وباللہ التوفیق: (میں کہتا ہوں اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے) فقیر غفر لہ المولی القدیر نے اپنے رسالہ "ہدی الحیران فی نفی الظل عن سید الاکوان" میں بعونہ تعالیٰ ایک فائدہ جلیلہ لکھا کہ مطالب چند قسم ہیں، ہر قسم کا مرتبہ جدا اور ہر مرتبہ کا پایۂ ثبوت علیحدہ، اس قسم کے مطالب کا احادیث میں ظہور نہ ہونا مضر نہیں، بلکہ کلمات علماء و مشائخ میں ان کا ذکر کافی۔" (فتاویٰ رضویہ، ج: ٢٨، ص: ٤١١)
قولہ و اقوال کی طرز پر یہ رسالہ دو فصل پر مشتمل ہے، فصل اول میں ارتفاع نزاع کے لیے تین تمہیدی مقدمات کے ساتھ سائل کے چند قولہ کے جواب میں محققانہ اقوال کے جواہر موجود ہیں، جبکہ فصل دوم میں چند قولہ کے جواب میں تحقیقی اقوال کے جلووں کے ساتھ مصنف کی جانب سے مخالف پر قائم کیے گئے دس سوالات بھی ہیں۔
صرف ایک رسالہ کے مطالعے کے بعد امید ہے کہ قاری پر امام احمدرضا خاں علیہ الرحمہ کی فن حدیث اور منطق و فلسفہ میں گہری معلومات بلکہ ان فنون میں مہارت اور فارسی دانی روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی۔
(قسط سوم جاری ہے...)
