Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسئلۂ رفع یدین ایک تحقیقی جائزہ

مسئلۂ رفع یدین ایک تحقیقی جائزہ
عنوان: مسئلۂ رفع یدین ایک تحقیقی جائزہ
تحریر: محمد تنویر رضا رضوی مرکزی
پیش کش: محمد رفیع مرکزی


بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

مذہب اسلام میں نماز کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز کو دین کا ستون فرمایا، جنت کی کنجی، مومن کی معراج اور اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بتایا۔ نماز کی اہمیت کیا ہے اسے سمجھنے کے لیے یہ جاننا کافی ہے کہ اللّٰہ رب العزت نے قرآن مجید میں جتنی تاکید نماز کے متعلق فرمائی ہے کسی اور عمل کے بارے میں نہیں فرمائی۔

چنانچہ فرمایا:
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ
ترجمہ کنز الایمان: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

کہیں فرمایا:
وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ
ترجمہ: اور نماز قائم رکھو دن کے کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں۔

ایک مقام میں فرمایا:
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ
ترجمہ کنز الایمان: اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہو۔

بخاری شریف میں ہے:
عن ابن مسعود قال سألت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ایّ الاعمال احب الی اللّٰه قال الصلوٰۃ لوقتھا۔
ترجمہ: حضرت عبداللّٰہ ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کونسا عمل اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا نماز اس کے وقت پر پڑھنا۔ (بخاری شریف جلد اول صفحہ 76)

اب نماز یا اس کے علاوہ سارے اعمال اسی وقت درست اور مقبول ہیں جبکہ ایمان رکھتا ہو۔ جو ایمان والا نہیں اسے کیا حق کہ مسائل شرعیہ میں بحث کریں۔ غیر مقلدین وہابیہ جن پر بوجوہ کثیرہ ان کے ضالہ کے سبب کفر لازم، وہ کہ مسلمان ہی نہیں مگر پھر بھی فرعی مسائل اسلامی میں اس طرح دخل دیتے ہیں کہ گویا ایمان رکھ کر بحث کر رہے ہوں۔ وہابیہ کو تو چاہیے یہ تھا کہ وہ اپنے ایمان پر بات کریں کہ وہ مومن ہیں یا نہیں، پھر فرعی مسائل میں بات کریں۔ مگر پھر بھی اگر وہابیہ عوام الناس کو ان فرعی مسائل کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو علمائے اہل سنت بر وقت ان کا جواب بھی دیتے ہیں۔ انھیں فرعی مسائل میں سے رفع یدین بھی ہے۔

رفع یدین کی منسوخیت پر احادیث ملاحظہ ہوں

ترمذی شریف میں ہے:
حدثنا ھناد حدثنا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبداللّٰه ابن مسعود الا اصلی بکم صلاۃ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیه الا فی اول مرۃ۔
ترجمہ: حضرت علقمہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ بتاؤں؟ پھر آپ نے نماز پڑھی اور صرف ایک ہی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ (ترمذی شریف جلد اول صفحہ 35)

سنن نسائی شریف میں ہے:
اخبرنا سوید بن نصر قال انبأنا عبداللّٰہ بن مبارک عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمٰن بن الاسود عن علقمۃ عن عبد اللّٰه قال الا اخبرکم بصلاۃ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قال فقام فرفع یدیه اول مرۃ ثم لم یعد۔
ترجمہ: حضرت علقمہ روایت کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے، وہ فرماتے ہیں کیا میں تمہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ فرماتے ہیں کہ پھر وہ کھڑے ہوئے اور ایک ہی مرتبہ اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور پھر رفع یدین نہیں کیا۔ (سنن نسائی شریف جلد اول صفحہ 158)

مؤطا امام محمد میں ہے:
قال محمد اخبرنا محمد بن ابان بن صالح عن عبد العزیز بن حکیم قال رأیت ابن عمر یرفع یدیه حذاء اذنیه فی اول تکبیر افتتاح الصلوٰۃ ولم یرفعھما فیما سویٰ ذالک۔
ترجمہ: حضرت عبدالعزیز بن حکیم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللّٰہ ابن عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہ کو نماز کے شروع میں تکبیر تحریمہ میں اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھاتے ہوئے دیکھا، اس کے سوا انہوں نے کہیں نہیں اٹھایا۔ (مؤطا امام محمد جلد اول صفحہ 140/141)

اسی میں ہے:
قال محمد اخبرنا ابو بکر بن عبد اللّٰه النھشلی عن عاصم بن کلیب الجرمی عن ابیه وکان من اصحاب علی ان علی بن ابی طالب کرم اللّٰه وجه کان یرفع یدیه فی التکبیرۃ الاولی التی یفتتح بھا الصلاۃ ثم لایرفعھما فی شیء من الصلاۃ۔
ترجمہ: حضرت امام محمد نے فرمایا کہ ہمیں ابوبکر بن عبداللّٰہ نھشلی نے خبر دی، وہ حضرت عاصم بن کلیب جرمی سے، وہ اپنے والد سے اور ان کے والد حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ کے اصحاب میں سے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ہاتھوں کو اس تکبیر میں جس سے نماز شروع ہوتی ہے اٹھایا کرتے تھے پھر اپنے ہاتھوں کو نماز میں کسی وقت نہیں اٹھاتے تھے۔ (مؤطا امام محمد جلد اول صفحہ 141)

غیر مقلدین استدلال کرتے ہیں کہ ایک صحابی حضرت وائل بن حجر رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے حضور صلی اللّہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا۔

حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
"ان کان وائل رأہ مرۃ یفعل ذالک فقد رأه عبد اللّٰہ خمسین مرۃ لا یفعل ذالک"
اگر حضرت وائل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ایک مرتبہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا تو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے پچاس مرتبہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہ کیا۔ (طحاوی شریف جلد اول 316)

مذکورہ دلائل کی روشنی میں خوب واضح ہوگیا کہ رفع یدین منسوخ ہے۔ اب غیر مقلدین کہتے ہیں شافعی حضرات بھی تو رفع یدین کرتے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں کہ تم بھی ایمان لاؤ اور حضرت امام شافعی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی تقلید کرو کوئی اعتراض نہیں، لیکن تم تو تقلید کو شرک بتاتے ہو۔ قارئین یہ وہابیہ کی فطرت میں داخل ہے کہ جب یہ اپنی بات منوانے پر آتے ہیں تو ہمارے بزرگوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ فلاں بزرگ بھی ایسا کہتے ہیں، فلاں امام بھی ایسا فرماتے ہیں اور جب پھنستے ہیں تو اپنے اکابر کی بھی نہیں مانتے۔

اللّٰہ تعالٰی ان فتنوں سے عوام اہلسنت کو محفوظ رکھے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!